سپریم کوٹ کا خلاف ضابطہ ترقی پانے والے پولیس افسروں کی تنزلی کا حکم

سپریم کوٹ کا خلاف ضابطہ ترقی پانے والے پولیس افسروں کی تنزلی کا حکم

  



کراچی(این این آئی) سپریم کورٹ نے خلاف ضابطہ ترقی پانے والے تین پولیس افسران کی فوری طور پر تنزلی کا حکم دے دیاجبکہ جمعرات تک آﺅٹ آف ٹرن پروموشن پانے والے پولیس افسران کی اسکروٹینی کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس ناور ظہیر جمالی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے پیرکوآﺅٹ آف ٹرن پروموشن کی سماعت کی۔توہین عدالت کے نوٹس پر چیف سیکریٹری سندھ راجہ غلام عباس، سیکریٹری داخلہ یونس ڈھاگہ اور ایڈیشنل آئی جی فلک خورشید عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت عظمیٰ نے چیف سیکرٹری سندھ سے کہا کہ وہ وجوہات بتائیں کہ عدالتی حکم کے باجوجود آﺅٹ آف ٹرن پرموشن پانے والوں کو واپس ان کے اصل عہدوں پر واپس نہیں بھیجا گیا۔تاہم چیف سیکرٹری عدالت عظمی کے کسی سوال کا مناسب جواب نہ دے سکے۔ جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو جو کام کرناتھاوہ کیا نہیں اور جو نہیں کرنا تھا وہ کردیا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد آپ کی ذمہ داری ہے ایسا ابھی تک کیوں نہیں کیا گیا۔ عدالت کو بتا یا گیا کہ عبدالجبار قائم خانی نے ایک سال میں تین مرتبہ پروموشن لی ہے جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ایک سال میں ایک سب انسپکٹر تین مرتبہ پروموٹ ہوگا تو تین سال میں آئی جی بن جائے گا،عدالت عظمیٰ نے چیف سیکریٹری کو خلاف ضابطہ ترقی پانے والے 56افسران کے کیسز کا جائزہ لے کر رپورٹ جمعرات تک عدالت میں خود پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر