18 ویں ترمیم کے بعد:کنٹونمنٹ علاقوںسے پراپرٹی و تفریحی ٹیکس کی وصولی کا معاملہ قانونی پیچیدگی کا شکار

18 ویں ترمیم کے بعد:کنٹونمنٹ علاقوںسے پراپرٹی و تفریحی ٹیکس کی وصولی کا ...

  



لاہور(شہباز اکمل جندران) دستور پاکستان کی 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کنٹونمنٹ علاقوں سے پراپرٹی ٹیکس اور تفریحی ٹیکس کی وصولی ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے درد سر بن گئی ، محکمے نے مشترکہ مفادات کونسل میں جانے کے لیے کیس تیار کرلیا ہے،کنٹونمنٹ بورڈ پراپرٹی ٹیکس اورتفریحی ٹیکس سے دستبردار ہوبھی جائیں تو ان علاقوں میں ٹاﺅن میونسپل ایڈمنسٹریشن بننے سے قبل یہ ٹیکس وصول کیسے کئے جائیں گے۔ محکمے کے ذمہ داران سر پکڑ کر بیٹھ گئے جبکہ صوبائی سیکرٹری ایکسائزاینڈٹیکسیشن پنجاب کیپٹن (ر ) زاہد سعید نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مسائل حقیقت رکھتے ہیں اور ان کے حل کے لیئے حکومت کوشاں ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سابق صدر جنرل ضیاالحق نے 1979میں صدارتی حکم نامے کے تحت ملک بھر میں کنٹونمنٹ بورڈ ز کو اپنی حدود کے اندر پراپرٹی ٹیکس اور تفریحی ٹیکس وصول کرنے کا اختیار دیا، جبکہ 8اپریل 2010کو 1973کے آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد کنٹونمنٹ علاقوں سے پراپرٹی ٹیکس اورتفریحی ٹیکس کی وصولی کا اختیار صوبو ں کو دیدیا گیا، لیکن 18ویں آئینی ترمیم کو منظوری کو اڑھائی برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال کنٹونمنٹ علاقوں سے پراپرٹی اور تفریحی ٹیکسوں کی وصولی کا اختیار واپس نہیں لیا جاسکا، ذرائع کے مطابق 18 ویں آئینی ترمیم سے قبل کنٹونمنٹ علاقوں سے اس اختیار کو واپس لیا جانا آئینی طورپر بھی ناممکن تھا کیونکہ سابق صدر جنرل ضیا الحق کے اس حکم نامے کو دستور کے ایک شیڈول کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا لیکن 18ویں ترمیم کے بعد اس شیڈول کو ہی ختم کردیا گیا‘ اس کے باوجود صدارتی حکم نامہ بدستور اپنی جگہ موجود ہے جس کے خاتمے کے بغیر صوبائی حکومتوں کے لئے کنٹونمنٹ علاقوں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی ممکن نہیں ہے۔ اس ضمن میں پنجاب حکومت نے 18ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں قانون سازی کرنے کے لیئے محکمہ قانون پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے لی تو حکومت کو بتایا گیا کہ جب تک ضیاالحق کے صدارتی حکم نامے کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک صوبائی سطح پر کنٹونمنٹ علاقوں سے پراپرٹی اور تفریحی ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا، جس پر پنجاب حکومت نے یہ معاملہ سی سی آئی (مشترکہ مفادات کونسل) میں لیکر جانے کے لیئے کیس تیار کرلیا ہے، جہا ں دیگر صوبوں اوروفاق کی آمادگی کے بعد صدارتی حکم نامے کو ختم کرنے اورچھاﺅنی کے علاقوں سے پراپرٹی و تفریحی ٹیکسوں کی وصولی کا نظام بنایا جاسکے گا،اورکیس منظور ہونے کے بعد پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگر تینوں صوبے بھی اپنے علاقوں میں چھاﺅنیوں کی حدود سے دونوں ٹیکس وصول کرسکیں گے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی آئی میں منظوری کے باوجود چاروں صوبوں میں ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اس وقت تک کنٹونمنٹ علاقوں سے یہ دونوں ٹیکس وصول نہیں کرسکیں گے جب تک ان علاقوں میں ٹی ایم ایز کا سیٹ اپ قائم نہیں کیا جاتا کیونکہ چھاﺅنی کے علاقوں میں ٹی ایم ایز کا سیٹ اپ قائم نہیں ہے ، اور پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کے بعد ٹی ایم ایز کے حوالے کردیا جاتا ہے ، جو اس شہری ٹیکس کو شہریوں کی فلاح بہبود اور ان کے علاقوں کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرتا ہے۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب کیپٹن (ر ) زاہد سعید نے تسلیم کیا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کنٹونمنٹ علاقوں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی صدراتی حکم نامے کے خاتمے اور ٹی ایم ایز کے سیٹ اپ کے قیام کے بغیر ناممکن ہے ان کا کہناتھا کہ اس سلسلے میں پنجاب حکومت سی سی آئی میں جارہی ہے اور امیدہے کہ مسئلے کا حل جلد ہی نکل آئے گا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...