عدالتی احکامات کی بے توقیری کرنیوالے سرکاری افسران کےلئے کوئی معافی نہیں،جس کا دل مذاق اڑاتا ہے :لاہور ہائیکورٹ

عدالتی احکامات کی بے توقیری کرنیوالے سرکاری افسران کےلئے کوئی معافی نہیں،جس ...

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس محمد خالد محمود خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالتی احکامات کی بے توقیری کرنے والے سرکاری افسران کیلئے کوئی معافی نہیں۔ جس سرکاری افسر کا دل کرتا ہے و ہ عدالتوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیتا ہے ۔ فاضل جج نے یہ ریمارکس ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے چیف انجینئرساﺅتھ قیصر خیام اور دیگر افسران کے خلاف کنسٹرکشن کمپنی اے ڈی میسرز کی طرف سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیئے ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ متعلقہ افسران نے عدالتی احکامات کے باوجود بھی محکمے کے ذمہ کمپنی کی واجب الادا رقم ادا نہیں کی جبکہ محکمے کی طرف سے کمپنیوں کے اندراج کیلئے قائم کردہ کمیٹی نے عدالت سے رجوع کرنے کی بناءپر درخواست گزار فرم کا تین ماہ کیلئے محکمے کی لسٹ میں اندراج کرنے پر پابندی لگا دی ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل ریاض کریم قریشی نے عدالت کے واضح حکم کے باوجود سائل کی واجب الادا رقم ادا کی جا رہی ہے اور نہ ہی پابندی ختم کی جا رہی ہے ۔ ریاض ایڈوکیٹ نے عدالت میں کمیٹی کے فیصلے کی فوٹو کاپی پیش کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران انصاف کی خاطر عدالت سے رجوع کرنے پر درخواست گزار کمپنی پر پابندی لگائی ہے جو توہین عدالت کے مترادف ہے ۔ جسٹس خالد محمود خان نے عدالت میں موجود قیصر خیام سمیت دیگر افسران کی سرزنش کرتے ہوئے پوچھا کہ کمیٹی کا یہ لیٹر کس افسر نے لکھا ہے ، عدالت کو بتایا گیا کہ یہ لیٹر سیکشن افسر محمد صدیق کی طرف سے لکھا گیا ہے ۔ اس موقع پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں کے احکامات کو غیرضروری کہنے والے اور انکی بے توقیر ی کرنے والے افسران کیلئے کوئی معافی نہیں ۔ سرکاری افسران نے عدالتی احکامات کو مذاق سمجھ لیا ہے ۔ جس افسر کا دل کرتا ہے وہ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیتا ہے ۔ عدالت نے سیکشن افسرمحمد صدیق کو توہین عدالت پر شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے10ستمبر کو طلب کر لیا

مزید : صفحہ آخر


loading...