کنفیوژن نہ پھیلائیں

کنفیوژن نہ پھیلائیں

  



 پلیز ۔۔

اہل سیاست کا سب سے بڑا شوق ، مفاداورشائد ذمہ داری یہی ہے کہ وہ ڈسکس ہونے کے شوق میںجتنی کنفیوژن پھیلا سکتے ہیں، پھیلا دیں اوراس کے ذریعے اپنے مخالفین کو بھی کنفیوژ کرکے رکھ دیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری جن کی اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری چند مہینوں کے بعد آزاد اور غیر جانبدار نگران حکومت کے ذریعے سب کے لئے قابل قبول انتخابات کرانا ہونی چاہئے تاکہ تازہ مینڈیٹ کے تحت نئی حکومت اگلے پانچ سالوں کے لئے اپنی پالیسیوں پر عمل شروع کر سکے، وہ صدر مملکت فرمارہے ہیں کہ وہ عام سے قبل بلدیاتی انتخابات کرائیں گے اوراس کے لئے بلدیاتی نظام کے جس مسودے پر ان کی پارٹی کا ایم کیو ایم کے ساتھ ساڑھے چار سالوں میںاتفاق نہیں ہو سکا اب اسے تیار کر کے دو ماہ کی قلیل مدت میں سندھ اسمبلی سے منظور کروا لیا جائے گا، فرض کریں کہ نومبر تک یہ مسودہ منظور بھی ہوجاتا ہے تو کیا ساٹھ سے نوے دنوں میںسندھ کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات ہو سکیں گے، بالفرض یہ انتخابات موجودہ صوبائی حکومتوں کی موجودگی میں ہوجاتے ہیں توکیا نئی آنے والی حکومتیں ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والے بلدیاتی اداروں کو قبول کر لیں گی،کیا نئے صوبائی حکمران ان اداروں کو فنڈز جاری کریں گے جیسا کہ ضلعی ناظمین کا نظام کتابی طور پر مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت قائم ہونے کے باوجود قائم رہا مگرعملی طور پر ان کو ” فارغ “ کر دیا گیا تھا۔ مجھے یہ بیان صرف اور صرف کنفیوژن پھیلانے کی کوشش لگتا ہے تا کہ سیاسی جماعتیں عام انتخابات کی بجائے اپنی توجہ کا مرکز بلدیاتی انتخابات کو بنا لیں مگر مجھے یقین ہے کہ کوئی اس جھانسے میں نہیں آئے گا۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک آئینی ، سیاسی اور جمہوری ذمہ داری تھی جسے پورا کرنے میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومتیں ناکام رہی ہیں اگر یہ انتخابات بروقت ہوجاتے تو منتخب عوامی نمائندے جو وقت گلیوں اور نالیوں کی تعمیر میںضائع کر رہے ہیں، مرکزی اور صوبائی سطح پر پالیسیوں کی تشکیل پر صرف کر سکتے تھے، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جمہوری حکمرانوں کی بجائے ہمیشہ آمروں نے اپنے مخصوص مفادات کے لئے بلدیاتی اداروں کی تشکیل کو اپنی ترجیح پر رکھا۔ پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین کا یہ بیان بھی ان کے مقرر کردہ سابق وزیراعظم کے انہی بیانات کے تسلسل میں لیا جانا چاہیے جب عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران مارشل لاءکی افواہیں زور پکڑنے لگیں تو انہوں نے قبل از وقت انتخابات کا اشارہ دے کر نئی بحث چھیڑ دی، جب نظام کے چلنے کا یقین ہوا تو قبل از وقت انتخابات کی جگہ اپنے اتحادیوں سے ایسے بیانات دلوائے گئے جن سے حکومت کی مدت میں ایک سال تک اضافے کی خواہش پر تبصرے ہونے لگے۔ قبل از وقت انتخابات بھی حکمرانوں کی ڈکشنری میں اسی طرح موجود نہیں تھے جس طرح بلدیاتی انتخابات کا وہاں کوئی ذکر نہیںلیکن قوم کو کنفیوژ کر کے رکھنا شائد ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔

ہم جمہوری حکمرانوں کو عوامی مسائل کے حل اور عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام کہہ سکتے ہیں مگر بہرحال اس وقت ملک میں ایک آئین اور جمہوریت کے نام پر ایک نظام موجود ہے جس میں موجودہ حکومت کی باقاعدہ ایک مدت مقرر ہے جسے حکومت کی آئینی اور پارلیمانی مدت کہاجاتاہے، اگلے سال اٹھارہ فروری تک بہرحال موجودہ سیٹ اپ کو رخصت ہونا اور اس کی جگہ ایک عبوری یا نگران حکومت نے آکے انتخابات کروانے ہیں مگر حروں کے روحانی پیشوا اور فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی کا اپنی رہائش گاہ پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے بعدکہنا ہے کہ انہیں زمینی حقائق سے لگ رہا ہے کہ انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے، پیر صبغت اللہ نئے پیر پگارا ہیں، ان کے والد بھی آخری دم تک احتساب، جھاڑو پھرنے اور فیملی پلاننگ ہونے کی باتیں کرتے رہے، وہ جس جی ایچ کیو کے وفادار ہونے کے دعوے دار تھے، اس سے مارشل لاءتو لگ گیا مگر احتساب ہوا نہ جھاڑو پھری، فیملی پلاننگ بھی نہیں ہوسکی، بلکہ بظاہر جن کو جھاڑو پھیر کر باہر نکالا گیا تھا ان میں سے ایک تو پانچ سال سے پورے اوردوسرے آدھے اقتدار میں ہیں۔ مجھے نہیں علم کہ وہ کون سے زمینی حقائق ہیں جن کی بنیاد پر انہیں الیکشن ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے کیونکہ ہمارے پاس تاریخ میں شائد پہلی مرتبہ وہ عدلیہ موجود ہے جو کسی نظریہ ضرورت کو نہیں مانتی، جس کے سربراہ خود جمہور کی طاقت سے اس آئینی منصب پر دوبارہ براجمان ہی نہیں ہوئے بلکہ بار باریقین دہانی کراچکے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے جمہوریت کو کوئی ڈی ریل نہیں کر سکتا،فوج کی طرف سے بھی ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں ہو رہا کہ وہ بدترین معاشی اور سیاسی حالات میں بیرونی کے ساتھ ساتھ اندرونی توپوں کا رخ بھی اپنی طرف کرنا چاہتی ہے۔ سٹریٹ پاور کی دعوے دار اپوزیشن کی دونوں سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف انتخابات کے لئے تاو¿لی ہو رہی ہیں۔ شائد ان کے پاس ایک زمینی حقیقت یوسف رضا گیلانی ہو گی جوموجودہ وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کی صورت میںجمہوریت ہی نہیں خاکم بدہن ملک کے خاتمے کی بھی باتیں کر رہے ہیں۔ اقتدار سے محرومی کے بعد ان کی ذہنی حالت تو سمجھ میں آتی ہے تو کیا پیر صبغت اللہ کی باتوں کو ان کے والد کی باتوں کا تسلسل سمجھا جائے۔ الیکشن نہ چاہنے والوں کو بھی بہرحال اسی طرح الیکشن میں جانا پڑے گا جس طرح بینظیر بھٹو کی لیاقت باغ میں شہادت کے بعد ان کو انتخابی میدان میں اترنا پڑا تھا۔بات کنفیوژن پھیلانے کی ہے تو حکمرانوں اور ان کے پیاروں نے شائد اسے پالیسی کے طور پر اپنا لیا ہے۔ صدر زرداری کے قریبی دوست ملک ریاض کہتے ہیں کہ دو سال قبل صدر زرداری نے نواز شریف کو وزیراعظم بننے کی پیش کش کی تھی، یہ غیر مشروط پیش کش وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو بھی کی گئی تھی ۔ بلدیاتی انتخابات کی کنفیوژن کے بعد سوموار کے اخبار میں دوسری بڑی کنفیوژن تھی جس خبر کی اہمیت کے طور پر دیکھا جاتا تو سنگل کالم سے زیاد ہ نہیں تھی مگراس سے کنفیوژن نہیں پھیل سکتی تھی اور اگر سرخیوں میں یہ بتا دیا جاتا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے اس پیش کش کو کیسے لیا تو غبارے سے پوری ہوا نکل جاتی، یہی وہ وقت تھا جب مسلم لیگ نون فرینڈلی اپوزیشن کے داغ کو دھونے کے لئے اڑان بھر رہی تھی، ایسے وقت میں اگر ایسی کوئی پیش کش کی بھی گئی تھی تو یہ ان کو کنفیوژ کرنے اور اب ملک ریاض کے منہ زبانی انکشاف عوام کو کنفیوژ کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے تحریک انصاف کو موقع دیاجائے گا کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کا ردعمل دیکھے بغیر ہی مسلم لیگ نون پر نورا کشتی کا الزام لے کے چڑھ دوڑے۔ چیف جسٹس کے خلاف سازش تیار کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ آنے والے دنوں میں افراتفری،بحران اور قتل عام دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ میرے ملک اوراس کے شہریوں کو سلامت رکھے اور مجھے کہنے کی اجازت دیجئے کہ ہر مایوس اور محروم آدمی ہر دور میں اسی قسم کے خواب دیکھتا آیا ہے۔ ملک ریاض صاحب بھی اپنے فلاپ ڈرامے کی تحقیقات میں اپنے دوست کے دوست کے بطور تفتیشی افسر تبدیل ہونے سے آرام دہ حالت میں نہیںہیں۔ ایسی تناو¿ کی حالت میںعمومی طور پر بلڈپریشر اور شوگر جیسے امراض ہوجاتے ہیں ،پیراسائیکالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے برے برے خوابوں کی ایک وجہ یہ تناو¿ اور اس سے پیدا ہونے والے امراض بھی ہوتے ہیں۔ وہ جو خود مایوس ہوتے ہیں ان کے پاس پھیلانے کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ مجھے تو اپنی قوم سے صرف یہی کہنا ہے کہ جمہوریت کے نام پر جو خواب دکھائے گئے تھے وہ واقعی اس دور میں تو پورے نہیں ہوئے مگر ناکام حکمران ہوئے ہیں ہم بطور قوم نہیں مگر ناکام ہونے والے اس ناکامی کو پوری قوم کا مقدر بنانا چاہ رہے ہیں۔ خود کنفیوژ ہونے والے پوری قوم کو کنفیوژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگرقوم عام انتخابات کی تیاری کرے کہ اس کے سوا فوری تبدیلی کا کوئی بھی محفوظ راستہ نہیں ہے۔

مزید : کالم


loading...