اصل مسئلہ حقیقی ایمان و یقین کی کمزوری ہے

اصل مسئلہ حقیقی ایمان و یقین کی کمزوری ہے
 اصل مسئلہ حقیقی ایمان و یقین کی کمزوری ہے

  

                        میرے اس دوست ملک شہری کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ ایمان اور یقین کی کمزوری ہے۔صرف تعلیم اور ڈگری مسئلے کا حل نہیں ہے۔محض ڈگری لے کر انسان پڑھا لکھا تو کہلوا سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ڈگری اسے مہذب ، ایماندار، بااخلاق و ذمہ دار شہری کی سند بھی دلا سکے۔

قصہ کچھ یوں تھا کہ وہ گزشتہ دو سال سے یہاں کرائے کے ایک مکان میں رہ رہا تھا،جبکہ مالک مکان نچلی منزل پر براجمان تھا۔وہ ہر ماہ باقاعدگی سے کرایہ بھی ادا کررہا تھا اور شروع شروع میں سب اچھا جا رہا تھا، لیکن ماہانہ بجلی کے بلوں نے میرے اس کرایہ دار دوست کو کچھ شک میں ڈال دیا تھا۔وہ حیران تھا کہ ہر ماہ اس کا بجلی کا بل ہزاروں میں آ رہا ہے ،جبکہ بجلی کی کھپت کو دیکھا جائے تو سینکڑوں میں آنا چاہیے۔اس کا شک یقین میں بدل گیا، جب وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں واپس اپنے ملک ایک ماہ کے لئے گیا،جب اس ماہ کا بل آیا تو پھر ہزاروں میں۔اسے پتہ چل گیا کہ معاملہ کہیں گڑ بڑ ہے۔اس کی شکایت اس نے مالک مکان سے کی تو وہ صاف مکر گیا کہ اس کا بل دوسرے والا ہے یہ نہیں۔پھر ایک دن یوں ہوا کہ وہ الیکٹریشن کو گھر لایا اور چیک کیا تو پتہ چلا کہ مالک مکان اپنا بل میرے اس کرایہ دار دوست کو دے دیتا اور اس کا کم پیسوں والا بل خود ادا کرتا، کیونکہ دونوں میٹر ایک ہی شخص کے نام پر نصب تھے اور گزشتہ دو سال سے کرایہ دار کا بل مالک اور مالک کا بھاری بھرکم بل کرایہ دار ادا کرتا رہا۔جب معاملے کو مالک مکان کے نوٹس میں لایا گیا تو وہ کہنے لگا۔اچھا، یہ معاملہ ہے۔میرے علم میں نہیں تھا۔

یہ مالک مکان خود بھی پڑھا لکھا تھا اور فیملی اور بچے بھی۔سعودی عرب میں کام علیحدہ تھا، لیکن جانتے بوجھتے ہوئے بھی کرایہ دار وہ بھی غیر ملکی کرایہ دار سے اپنے بھاری بل ادا کرواتا رہا۔

آج میرا یہ دوست خاصا دکھی تھا،کیونکہ گزشتہ شب وہ اپنی گاڑی اندر پارک کرنا بھول گیا تھا، اس کا خمیازہ اسے یہ بھگتنا پڑا کہ اس کی گاڑی کے اگلے دونوں آئینے (میررز) کسی نے رات کو توڑ کر چوری کرلئے۔

مجھے اس دوست کی یہ باتیں سن کر ظاہر ہے دکھ ہوا اور اس وقت مجھے محمد فتح اللہ گلن کا وہ قول یاد آ گیا جو انہوں نے خاص طور پر نوجوان نسل کی تعلیم اور نشوونما کے بارے میں فرمایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ بحیثیت ایک شہری اور حکومت کے ہمیں سوچنا ہوگا کہ آج سے پندرہ بیس سال بعد ہماری گلیاں کن لوگوں سے بھری ہوں گی۔اگر آج ہم اپنی نوجوان نسل کو تعلیم و تربیت سے آراستہ نہیں کریں گے تو یقیناً ہماری گلیاں اور سڑکیں چوروں، راہزنوں، ڈاکوں، نقب زنوں، قاتلوں اور فسادی نوجوانوں سے بھری ہوں گی، لیکن اگر ہم اس نوجوان نسل کی حقیقی اخلاقی اقدار پر مبنی تربیت کریں گے تو یقیناً ہمارا مستقبل بھی محفوظ ہوگا“۔

مجھے گزشتہ 14اگست اور عید یاد آ گئی۔جب ون ویلنگ، تیز رفتاری، پٹاخے اور سلنسر نکال کر نوجوانوں نے شہر کی اہم شاہراہیں بلاک کر دی تھیں۔ساتھ ساتھ سڑکوں پر آنے والی فیملیز کو بھی تنگ کیا۔پولیس بے چاری تماشہ دیکھتی رہی۔

یہ کتنی بدقسمتی ہے کہ ہماری عیدین اور قومی تہواروں پر منچلے نوجوان ویلنگ اور بگل بجا بجا کر عوام اور شہریوں کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔اکثر نوجوان ہی چوریوں اور راہزنی میں ملوث ہوتے ہیں۔ان میں سے اکثر تعلیم سے بھاگے ہوتے ہیں۔کام کرنے کی بجائے غلط کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں اور جرائم پیشہ بن جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ خاندانی، انفرادی اور حکومتی سطح پر تعلیم عام کرنے کے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں، تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو سکے اور ہم حقیقی ایمان اور یقین کے ساتھ خوف خدا رکھنے والے شہری اور نوجوان نسل پیدا کر سکیں۔     ٭

مزید :

کالم -