ملکی بحران اور ہماری ذمہ داری

ملکی بحران اور ہماری ذمہ داری

  

                                                        اسلامی جمہوری پاکستان میں بجلی و گیس کے بحران سے عوام تنگ آ چکے ہیں،ملک میں جتنے بحران موجودہ دور میں ہیں اس سے قبل نہ تھے ۔

پچھلی حکومت اور موجودہ حکومت اس حوالے سے ابھی تک کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کر سکی، ہر جانے والی حکومت پر الزمات تھوپ دیے جاتے ہیں، شاید یہ پاکستانی قوم کا وطیرہ ہے ۔۔۔! بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پاکستان کی کمزور صنعت کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ مینو فیکچرنگ نہ ہونے کے برابر ہے ،میاں برادارن لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے نئی پالیسیاں بنا ر ہے ہیں تو دوسری طرف لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا ٹائم فریم دینے سے بھی ڈرتے ہیں ،اس لئے کہ یہ ہمارے گلے بھی نہ پڑ جائے۔

لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا انجام بھی سب کے سامنے ہے ہمیشہ ڈنڈے سوٹے کھانے اور چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے سوا اور کچھ حاصل نہیںہوتا ،عوام بھی اس بات کو نہیں سمجھتے ۔۔۔۔!

ہرکوئی حکومت پر الزام تراشی کر رہاہے کہ حکومت نے یہ نہیں کیا وہ نہیں کیا ،تو بھائی حکومت کس کی ہے آپ لوگوں کی ہی ہے نا۔۔۔!آپ نے ہی عوامی نمائندوں کو اسمبلی کی سیٹوں پر ووٹوں کے ذریعے بٹھایا ہے ، پھر وہ آپکی بات کیوں نہیں مانتے ،کیوں نہیں سنتے ۔۔۔۔؟کیا وجہ ہے عوام میں دم نہیںہے کیا۔۔۔؟یا پھر عوام کے ووٹوں کے بجائے انہوں نے خود ہی "دھاندلی" کے ذریعے اور اپنی طاقت کے زور سے منتخب ہوئے ہیں ۔یہ سب تو عوام کے سامنے ہی ہے ۔اب ضمنی الیکشن میں بھی جو ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔

حکومت کی بھی بہت غلطیاں ہیں ،لیکن مسائل کا حل ہمیں خود ہی سوچنا ہے ،اور ہر گلی محلہ سے بجلی وگیس چوری کرنے والوں کو شرم دلانی ہے ،کہ اگر وہ اس کام سے باز آ جائیں گے تو اس سے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانا آسان ہو سکتا ہے ۔۔۔ہمارے معاشرہ میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ دوسری پر تنقید کرنے والے خود بہت بڑے چور ہوتے ہیں ،اور اپنی چوری اور ہیرا پھیری کو تو ثواب سمجھتے ہیں۔

ہماری بڑی بڑی سیاسی شخصیات اوربڑی بڑی صنعتوں کے مالک جو کروڑوں روپیہ کماتے ہیں ،ان لوگوں میں سے کئی گیس اور بجلی چوری میں ملوث پائے گئے ہیں ،گرشتہ دنوں کوٹ عبدالمالک سے 60کرورڑ کی گیس چوری پکڑی گئی ،یہ ایف آئی اے کو خفیہ اطلاع پر کارروائی ہوئی ،لیکن کیا اس بارے وہاں رہنے والے افراد اور سوئی گیس کا عملہ کچھ نہیں جانتا ہوگا ۔۔۔؟یقینا جانتا ہوگا ۔۔!

اب تولگتا ہے مسلمان بھی صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ،اپنی سہولت کے مطابق دین کو ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے ،دین تو ہر طرف ہے ،لیکن عمل کچھ نہیں۔ اگر دل میں خیال آتا ہے کہ خدا کے بندے بن جائیں اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نیکی کے راستے پرچلنے لگ جائیں تو موجودہ حالات کی وجہ سے ٹرین پھر پٹری سے اتر جاتی ہے ۔۔۔!اسی طرح جولوگ اے سی استعمال کرتے ہیں وہ بجلی کے بلوں سے اکثر پریشان رہتے ہیں ،لیکن اس پریشانی کا حل بھی ہمارے پاس ہے ۔۔!وہ اس طرح کہ واپڈا کے لائین مین کی ماہانہ" فیس" مقرر کر لو تو 10ہزارکا بل 2ہزار آئے گا اسی طرح چھوٹی صنعتوں میں بھی  "پیسے لگاﺅ بل کم کراﺅ " کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے ۔اگر واپڈا اہلکار ایماندار بھی ہیں تو پھر بھی صارفین کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ کرنا انکی مجبوری ہے ۔

اصل وجہ سسٹم کی خرابی ہے ،سسٹم کو ٹھیک کرنا صرف حکومت کا ہی فرض نہیں ،عوام کی بھی ذمہ داری ہے ،بلکہ ہر فردکی اپنی ذمہ داری ہے ،ہر کوئی سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری لے گا تب ہی کچھ تبدیلی آ سکتی ہے ،ہر فرد کو چاہیے کہ وہ کسی دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے خود کو ٹھیک کرے ۔  ٭

مزید :

کالم -