کارگر تعویذ

کارگر تعویذ

  

                        حکمرانی کے پانچ سال مکمل کرنے والی پیپلزپارٹی نے کیا قوم کی جھولی میں کچھ ڈالا؟ جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کی جیبوں سے وہ سکے رائج الوقت بھی نکال لئے جو کرنسی میں شمار ہوتے ہیں اور گردش میں ہیں، لیکن اکثر ان کھرے سکوں کی کوئی بازاری قدر ہے نہ قبولیت۔کیوں ایسے سکے ایجاد کئے جاتے ہیں جو بے سود ہیں۔ سٹیٹ بینک جانے اس کا گورنر جانے۔اعلیٰ حضرت وزیر خزانہ جانے۔یہ ہندسوں کی ہیرپھیر سے سادہ لوح عوام اور اس فن بجٹ سازی سے تعلیم یافتہ شہری تنگ ہیں، لیکن ہماری ماضی قریب کی حکومت، جس کے لئے بے بس عوام نے جھولیاں اٹھا اٹھا کر ”ناظم“ کائنات سے اپنے گناہوں کی معافی کے صدقے مذکورہ حکومت کو رخصت ہونے کی دعائیں مانگیں۔دعاﺅں کا اثر ضرور ہوا اور پانچ سال پورے کرنے والے پانچ سال پورا کرنے کا ریکارڈ قائم کرکے ملک اور قوم کو ان گہری کھائیوں میں دھکیل گئے،جن کی شائد آئندہ بھی مثال نہ ملے(انشاءاللہ).... سید خورشید شاہ جی نے بھی پانچ سال پورے کئے اقتدار کے جھولے جھولتے رہے، جن کو بھلاناان کے بس کی بات نہیں۔انہیں پیپلزپارٹی کی طرف سے ”اپوزیشن“ کا خشک اور شکستہ قلم والا قلم دان سونپا گیا۔لازم ہے کہ وہ بولتے رہیں، مسلسل بولتے رہیں، بے شک بے وجہ بولتے رہیں۔شاید قرار آ جائے۔یہی ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔

ایک اخباری خبر کے مطابق ایک سانس میں دو مختلف باتیں کہہ گئے یا سرخی لگانے والے کا کمال ہے کہ ان کی باتوں کو یکجا کردیا۔قیمتی اور تیربہ ہدف تعویز پیر سائیں خورشید شاہ صاحب نے تجویز کیا ہے۔آپ بھی ملاحظہ کریں۔ نوازشریف ایم کیو ایم سے ہوشیار رہیں، اس کے ساتھ یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ ”ہم حکومت کو جلد ٹف ٹائم دیں گے“۔ایم کیو ایم کے مزاج آشنا آپ ہی ہیں،درست تسلیم ہے ۔سوال رہا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا۔وہ آپ کے فرائض میں شامل ہے۔عوام نے اس سے کچھ لینا دینا نہیں، وہ تو یہ پوچھتے ہیں کہ جو پانچ سال آپ نے ہمیں ”ٹف ٹائم“ دیا، وہ کس جرم کی پاداش میں دیا، لیکن بغل میں بچہ، شہر میں ڈھنڈورا والی بات نہ کریں۔عوام نے بھی آپ کو ”ٹف ٹائم“ دیا۔بقول آپ کے حکومت وقت کا ”ہنی مون“ پیریڈ چل رہا ہے، لیکن تاریخ کی ورق گردانی سے بھی اس کی مثال نہیں ملتی، جیسے اور جس طرح طویل پانچ سال کا ہنی مون آپ لوگوں نے منایا۔آپ نے کچھ ناممکن باتوں کو ممکن بنایا،لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ کسی کمزور کا گلا دبائیں اور اس کی آنکھیں باہر نہ نکلیں۔آپ آگ جلائیں اور وہاں سے دھواں نہ اٹھے، آپ کو چھینک آئے اور آنکھیں کھلی رہیں،

دیوار پر گیند پھینکیں اور وہ واپس نہ آئے۔گیند تو ہر حال میں آپ کی کورٹ میں واپس آئے گی۔اپنے محترم خورشید شاہ جن کی روشنی سے غریب عوام کے چودہ طبق روشن رہے، اگر وہ روشنی کا ماخذ نہ ہوتے تو تصور کریں، کیا ہوتا؟وگرنہ چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ۔جیسا کہ ”فن لینڈ“ میں فطرت کے اذن کے تحت ہو رہا ہے۔یہ ممکن ”ناظم کائنات“ اور ممکنات کے قادر کا معجزہ ہے۔حکومت کے تو ”ٹف ٹائم“ ضرور دیں،آئین میں ”ہنی مون“ پیریڈ اور کسی استثنا کا تذکرہ نہیں۔یہ گھوڑا اور یہ میدان.... لیکن شاہ جی آپ سے بے پناہ عقیدت کے باعث دستہ بستہ عرض کیا ”گھوڑا“سرپٹ دوڑانے کی کوشش کرنے میں، کہیں اپنا ناقابل تلافی نقصان نہ کرلینا۔حکومت کو اور آپ کی جماعت کو آپ کی ضرورت ہے۔ایم کیو ایم سے محتاط رہنے والی بات۔کیاخوب کہہ گئے آپ، یا جوش خطابت میں ہاشمی صاحب کی اور قومی اسمبلی میں نووارد تحریک انصاف کے رکن کی طرح نوازشریف کے گُن گانے میں زبان پھسل گئی۔     ٭

مزید :

کالم -