اسلام میں ہر مسئلے کا حل!

اسلام میں ہر مسئلے کا حل!

  

مدینہ منورہ میں کئی گروہ ایسے تھے، جو کسی بھی وقت مسلمانوں کے لئے کوئی بڑا مسئلہ پیدا کر سکتے تھے۔ ان میں یہود اور منافقین سرفہرست تھے۔ ان دونوں گروہوں میں اگرچہ کئی باہمی اختلافات تھے، مگر وہ مسلمانوں کے خلاف اپنے تمام اختلافات بھلا کر متفق ہو جاتے۔ جب کبھی مسلمانوں کا کوئی نقصان ہوتا تھا تو وہ بہت خوش ہوتے اور جب مسلمانوں کی کسی کامیابی کی اطلاع ملتی تو وہ بڑے رنجیدہ ہوتے۔ وہ آئے روز مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں سے منحرف ہو جاتے۔ اُن کا خیال تھا کہ مسلمان غزوہ احد کے بعد کمزور ہو چکے ہیں، لہٰذا وہ اپنی من مانی کرنے لگے۔ دوسرے ممالک سے بھی کمک اُن کی مدد کے لئے پہنچ جاتی۔ ایک موقعہ پر کفار مکہ نے اہل یہود سے کہا کہ مسلمانوں کو مدینہ سے نکال دو ورنہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ بنو نضیر، بنو عامر کے حلیف تھے اور ان دونوں کا مسلمانوں سے امن معاہدہ بھی ہو چکا تھا۔ کسی طرح ایک مسلمان سے دو آدمی جو کہ بنو عامر سے تعلق رکھتے تھے، قتل ہو گئے۔ اب معاہدہ کے مطابق رسول اکرم ان دونوں مقتولوں کا خون بہا ادا کرنا چاہتے تھے ۔ ایک خون بہا بنو نضیر کے حصے آتا تھا۔ چنانچہ رسول اکرم دس ساتھیوں کے ہمراہ بنو نضیر سے ملنے تشریف لے گئے تاکہ معاملہ حل ہو سکے۔ وہ لوگ ظاہری طور پر خوش اخلاقی سے پیش آئے، مگر اُن کے دل میں کھوٹ تھا۔ انہوں نے آپ کو ایک اونچی دیوار کے نیچے بٹھا دیا۔ اُن کا ارادہ تھا کہ اوپر سے ایک پتھر گرا کر رسول مقبول کو شہید کر دیا جائے۔ (نعوذ باللہ)

اس کام کے لئے انہوں نے عمرو بن جحش کو کہا وہ یہ کام کر دے۔ آپ کو اُن کی چال کا بذریعہ وحی علم ہو گیا اور آپ وہاں سے بحفاظت نکل آئے۔ اہل یہود کو اپنی ناکامی پر بڑا افسوس ہوا۔ بہرحال انہوں نے کہا کہ آپ 30صحابہ اکرامؓ کے ہمراہ آئیں تاکہ معاہدہ ہو جائے۔ آپ اُن کے پاس تشریف لے گئے، لیکن کوئی بات طے نہ پا سکی۔ اِس کے بعد آپ دوسرے قبیلے والوں کے پاس گئے اور اُن سے معاہدہ کر کے لوٹے۔ یعنی معاملات طے پا گئے۔ جبکہ بنو نضیر نے ارادہ بنایا کہ جونہی آپ ہمارے قلعہ میں داخل ہوں گے، انہیں شہید کر دیا جائے گا۔ (نعوذ باللہ) آپ کو جب یہ خبر ملی تو آپ مدینہ لوٹ آئے اور محمد ابن مسلمہ کے ذریعہ مندرجہ ذیل پیغام بھیجا۔

”اے بنو نضیر! میرے شہر کو چھوڑ دو۔ میرے قتل کی سازش کر کے تم نے اس معاہدے کو توڑ دیا ہے،جو میرے اور تمہارے درمیان ہوا تھا۔ مَیں تمہیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں“۔

بنو نضیر انتہائی مغرور اور شرپسند تھے۔ مندرجہ بالا پیغام کا اُن پر کوئی اثر نہ ہوا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے پاس مضبوط قلعے تھے اور قریش کی پشت پناہی حاصل تھی، جب عبداللہ بن ابی سلول کو اس کی خبر ملی تو اس نے بنو نضیر کو کہا کہ اپنے علاقہ کو ہرگز خالی نہ کرنا۔ بنو قریظہ اور ہمارے ساتھی تمہارے ساتھ رہیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورة حشر (آیت 21) میں بیان فرمایا:”کیا آپ نے ان منافقین کی حالت نہیں دیکھی کہ اپنے بھائیوں سے جو کفار اہل ِ کتاب ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا بھی کہنا نہیں مانیں گے اور اگر تم سے کسی کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں“۔ رسول اکرم نے تقریباً 15دن تک ان کا محاصرہ کیا۔ اس دوران مسلمان فوج کا راستہ صاف کرنے کے لئے آپ نے کھجوروں کے باغات کے کچھ پیڑ کٹوانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ ادا بہت پسند آئی اور قرآن پاک میں سورة حشر( آیت نمبر 5)میں فرمایا :”جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا ان کو ان کی جگہ پر کھڑا رہنے دیا، سو دونوں باتیں اللہ ہی کے حکم کے مطابق ہیں تاکہ نافرمانوں کو ذلیل کرے“۔ محاصرہ کے دوران بنو نفیر کے وہ ساتھی جو ان کو اُکساتے رہے مدد کو نہ آئے۔ بالآخر آپ سے انہوں نے اس درخواست پر مدینہ چھوڑنے کی اجازت مانگی کہ وہ اپنے ساتھ کچھ سامان لے جائیں اور یہ کہ اُن کی جان بخشی کی جائے۔ آپ نے اُن کی درخواست قبول کر لی، لہٰذا وہ اونٹوں پر جتنا سامان لاد کر لے جا سکتے تھے لے گئے۔ کچھ خیبر، کچھ شام اور باقی ماندہ اس کے اطراف میں جا بسے، حالانکہ وہ جلاوطن ہو رہے تھے۔ لیکن دکھاوے کے طور پر انہوں نے ایک شاندار جلوس نکالا اور ڈھول بجاتے گاتے ہوئے گئے۔ مسلمانوں کو اُس ضرورت کے وقت بطور مال غنیمت 50 زرہ بکتر، 50خود، 340تلواریں اور اُن کے باغات اور زمینیں ملیں۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ مزید جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے،لیکن آپ کی دور اندیشی، صبر، تدبر اور معاملہ فہمی کی بدولت نہ صرف جنگ سے بچ گئے، بلکہ امن بھی حاصل کیا اور مالِ غنیمت بھی۔ ہمارے نبی ہیں بڑی شان والے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں توحید پرستی پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم امن سے یہ زندگی گزاریں اور آخرت میں بھی۔ آمین

(اس تحریر کا موجودہ ملکی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں، البتہ اس سے سبق ضرور حاصل کیا جا سکتا ہے۔ صرف سمجھنے کی ضرورت ہے باقی مرضی اپنی اپنی۔)

مزید :

کالم -