جاوید ہاشمی اور واقعاتی شہادتیں

جاوید ہاشمی اور واقعاتی شہادتیں
جاوید ہاشمی اور واقعاتی شہادتیں
کیپشن: 1

  

آخر دونوں طوفان ساتھ ساتھ چلتے ہوئے آپس میں مل گئے۔ ہندو مت کے مطابق دو مقدس دریاﺅں گنگا جمنا کا سنگم بہت پوتر ہے۔ عمران خان اور قادری کا یہ سنگم بھی بہت پوتر ہے۔ عمران خان نے کنٹینر کی چھت تک تو قادری سے شراکت کر لی، دیکھئے اندرون کنٹینر شراکت کیا رنگ دکھاتی ہے اور کب دکھائی دیتی ہے۔جاوید ہاشمی نے سیٹی بجا کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، بعض لوگوں کو شکایت ہے کہ انہوں نے تاخیر سے ایسا کیا، لیکن دنیا میں ہر کام کے ہونے کا ایک وقت مُعین ہے، کوئی کام نہ اس سے پہلے ہو سکتا ہے، نہ اس کے بعد۔ پَر لگا کر اڑنے کی کوشش کرنے والوں نے اپنی جانیں گنوا دیں، لیکن انسان کے ہوا میں اُڑنے کا وقت آیا تو رائٹ برادران نے مشینی اڑن کھٹولا بنا ڈالا اور اب لوگ اس پر اُڑے اُڑے پھرتے ہیں۔ ہاں کچھ لوگ اَنا کے گھوڑے پر بھی ہواﺅں میں اُڑنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، جو کچھ جاوید ہاشمی نے کہہ دیا ہے اُسے جتنا بھی چھان لیں وہی نکلے گا، جو انہوں نے کہہ دیا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعاتی شہادتیں جاوید ہاشمی کی تائید کرتی ہیں؟

عمران خان نے پرویز مشرف کے بعد پہلا جمہوری دور عجیب طور پر گزار دیا۔ ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے چودھریوں کے خلاف اور ایم کیوایم کے خلاف جو ادھوری مہمات چلائی تھیں اُن کے سوگ میں اُن کا سیاست سے جی اچاٹ ہو چکا ہے۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے دور میں ہمالیہ جیسی کرپشن کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے انتخابات کی تیاری شروع کی تو اس کا نقطہ آغاز مسلم لیگ(ن) سے پنجہ آزمائی تھی۔ پیپلزپارٹی کے لئے یہ طرز عمل موافق تھا، لیکن اس میں عمران خان کی کیا مصلحت تھی، اللہ جانے یا پھر ”وہ“ جانیں، وہ سے مراد عمران خان نہیں ہیں، بلکہ وہ ہیں، جنہیں عمران خان ”وہ“ کہتے ہیں۔نیک پروین بیویاں اپنے مجازی خداﺅں کے نام نہیں زبان پر لاتی تھیں، اُنہیں ”وہ“ کہا کرتی تھیں۔

بے شک مسلم لیگ(ن) اپوزیشن کے طور پر پہلے والی مسلم لیگ(ن) نہیں تھی۔ اگرچہ آصف علی زرداری سے چوٹ بھی کھائے ہوئے تھی، لیکن محترمہ مرحومہ سے جو وعدے وعید ہوئے تھے کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی نہیں بنایا جائے گا۔ مسلم لیگ(ن) کسی حد تک اس پر کاربند تھی، اس پر عمران خان”مُک مکا“ کی طنزکرتے تھے، لیکن خود اس ”مُک مکا“ جتنی اپوزیشن کا کردار بھی ادا نہیں کرتے تھے۔ آئینی ترامیم اور الیکشن کمیشن کی تشکیل وغیرہ میں انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی ۔نگران حکومتوں پر حکومت (پیپلزپارٹی) اور مسلم لیگ(ن) میں خاص کشمکش ہوتی رہی، لیکن عمران خان اس سے الگ تھلگ رہے۔ نگران حکومتیں بن گئیں تو وہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی سے ملے اور شہباز شریف کے دور کے تمام افسروں کے تبادلے کرا دیئے۔ اُن کا لاہوروالا جلسہ عام پہلا اور آخری عظیم الشان جلسہ تھا جس کے بارے میں شکوک و شبہات پر مبنی کہانیاں گردش کرتی رہیں۔ موسمی پرندے اُڑ اُڑ کر عمران خان کی شاخ ِ تازہ پر آشیاں بندی کی دوڑ میں لگ گئے۔ آج اُن کے قادری سے قائم رشتے کے حوالے سے قریبی رشتہ داروں، یعنی گجرات کے چودھریوں نے کہنا شروع کیا کہ راولپنڈی میں لانڈری لگ گئی ہے، جو ہمارے گندے لوگوں کو دھو دھو کر عمران خان کے سپرد کر رہی ہے۔ یہ تو خیر اخباری خبر بھی بن گئی، لیکن کہا یہ بھی گیا کہ چودھری شجاعت حسین نے باقاعدہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے شکایت کی کہ جنرل شجاع پاشا اُن کے بندے توڑکر عمران خان کو فراہم کر رہے ہیں، لیکن اتنا تو سب جانتے ہیں کہ جب یہ خبر اُڑی تو موسمی پرندوںکی ہجرت میں ٹھہراﺅ آ گیا۔ عمران خان نے2013ءکا الیکشن پیپلزپارٹی کے خلاف نہیں، مسلم لیگ(ن) کے خلاف لڑا، اگرچہ وہ کبھی کبھی مُنہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے ایک ہی گیند سے نواز شریف اور آصف علی زرداری کی وکٹ اُڑانے کی بات بھی کرتے رہے۔

سندھ میں نگران حکومتوں کے قیام کا وقت آیا تو ایم کیو ایم نے عجیب چال چلی کہ حکومتی بنچوں سے اُٹھ کر اپوزیشن کی بنچوں پر جا بیٹھی تاکہ نگران حکومتوں کے قیام میں اپوزیشن سے مشورے اور اپوزیشن کی مرضی کی پابندی سے فائدہ اٹھا سکے۔ عمران خان نے اس کا نوٹس تک لینا ضروری نہیں سمجھا۔ انہی کے مطالبے پر عدلیہ سے ریٹرننگ افسر لگائے گئے، انتخابات میں اُن کے پولنگ ایجنٹوں نے کہیں بھی کسی بے قاعدگی کی شکایت نہیں کی۔ ووٹ شماری پرانہوں نے دستخط کئے، لیکن انہیں جو امیدیں دلائی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ اس کے باوجود انہوں نے انتخابات کے نتائج تسلیم کر لئے، اسمبلیوں میں جا کر حلف بھی اٹھا لئے۔ بعض لوگ حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر اتنی بڑی دھاندلی ہوئی تھی تو انہیں 1977ءکے انتخابات کی طرح نتائج قبول کرنے سے پہلے روز ہی انکار کر دینا چاہئے تھا۔ انقلاب کے نام پر سال بعد اُن کے سونامی کو بھی کئی حلقے1977ءکے قومی اتحاد کے احتجاج کے مترادف قرار دیتے ہیں، لیکن اس کا 1977ءکی تحریک سے کوئی مقابلہ و موازنہ نہیں بنتا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اسی وقت اس مسئلے کو کیوں نہیں اٹھایا اور حلف کیوں اٹھا لئے۔ یہ کوئی ایسی راکٹ سائنس نہیں جو سمجھ نہ آ سکے۔ اگر وہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے تو ان کے احتجاج کا رُخ پیپلزپارٹی کی حکومت اور نگران حکومت کی طرف ہوتا اور اس وقت دوسری کئی جماعتیں جو دھاندلی کی شکایت کرہی تھیں۔ بالخصوص کراچی میں وہ بھی تحریک انصاف کی ہم نوا ہو جاتیں۔ گویا پیپلزپارٹی کی حکومت کے لئے جاتے جاتے اور نگران حکومتوں کے لئے ایک اچھی خاصی پریشانی کھڑی ہو جاتی اور شاید چار حلقے بھی کھل جاتے، لیکن عمران کے مقاصد یہ تھے ہی نہیں، انہیں تو یہ کام سونپا گیا تھا کہ تم نے مسلم لیگ(ن) کے دودھ میں مکھی ڈالنا ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کی صوفیانہ پیشگوئی اور عمران خان کے خصوصی کالم نگار کے لوگوں کو لکھ کر دینے کہ آئندہ وزیراعظم عمران خان ہوں گے، نے عمران خان کی توقعات کو آسمانوں تک پہنچا دیا۔ وزیراعظم نہ بننے کا صدمہ الگ، اتنے بڑے بڑے اللہ والوں کی پیشگوئیاں غلط ہونے کا صدمہ الگ، جو بگولے انہیں اڑائے پھرتے تھے ان کے لئے اور آسان ہو گیا کہ وہ انہیں اقتدار کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیں۔ اس کے بعد عمران خان” ہز ماسٹرز وائس“ بن گئے۔ اِدھر اُن کے کان میں سرگوشی ہوئی، اُدھر اُن کے مُنہ سے نکل کر ہوا کے دوش پر پہنچ گئی۔ انہوں نے ہر ایسی سرگوشی کو آخری سچ قرار دے کر آگے بڑھا دیا اور بعد میں وہ بات غلط نکلی۔ 35پنکچروں، چودھری افتخار محمد(سابق چیف جسٹس) جسٹس کیانی کی کہانی سرگوشی کی مرہون منت تھی، لیکن عمران خان جھوٹ سچ کی سرحدوں سے آگے نکل چکے تھے، کیونکہ لندن میں انہیں باور کرا دیا گیا تھا کہ آپ سونامی اٹھائیں اور حکومت ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ جائے گی۔ جب اس منصوبے میں شیخ الاسلام جیسے ساحرالموت بھی شامل ہوں اور راولپنڈی کی لانڈری کی شکایت کرنے والے بھی شامل ہوں تو عمران خان کو تو ایک بار پھر وزارت عظمی کے خواب نظر آنا ہی تھے۔

”وہ“صرف عمران خان ہی کو استعمال نہیں کر رہے تھے وہ تو ایک عرصے سے ٹینکو کریٹ حکومت یا بنگلہ دیش کے ناکام ماڈل کے لئے کوشاں تھے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں جو حکومت کے صبح جانے، شام جانے کی باتیں کی جاتی تھیں ان کے پیچھے کون تھا۔ واقف ِ راز تو یہ بھی جانتے ہیں کہ دو بار حالات کچھ ایسے پیدا کر بھی دیئے گئے تھے اور ایک بار تو نواز شریف نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ انہیں حکومت کے خلاف ساتھ دینے کی دعوت دی گئی، جو انہوں نے مسترد کر دی۔ اب نواز شریف اس گناہ عظیم کی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔

جاوید ہاشمی کا خیال ہے کہ یہ بات محض تحریک انصاف کے حلقوں میں مستند سمجھی جا رہی تھی کہ”وہ“ فوج کو بھی شیشے میں اتار چکے ہیں اور چیف جسٹس کو بھی۔ یہ بات تو کوئی راز ہی نہیں۔ مَیں اپنے ایک گزشتہ کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ امریکہ میں تحریک انصاف کے لوگ ببانگ ِ دہل یہ کہتے پھر رہے تھے کہ فوج نے عمران خان کو Go ahead کا اشارہ دے دیا ہے۔14اگست کے دھرنے سے ایک ہفتہ قبل میرے ایک جاننے والے نے مجھے پورے وثوق سے کہا کہ نواز شریف کی حکومت گئی اور عمران خان وزیراعظم بننے والے ہیں۔ فون نے انہیں یقین دہانی کرا دی ہے۔ مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان صاحب کا لاہور میں ایک سابقہ ناظم اور نائب ناظم سے رابطہ رہتا ہے اور یہ خبر انہیں وہیں سے دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود کسی کو جاوید ہاشمی کے متذکرہ سکرپٹ کے بارے میں شبہ ہو تو اب عمران اور قادری کے شیرو شکر ہونے کے بعد تو کوئی شبہ نہیں رہنا چاہئے۔ اس کے علاوہ حکومت نے تو شاید سانحہ ¿ ماڈل ٹاﺅن کے خوف کے زیراثر نرمی اختیار کی ہو، حالانکہ سانحہ ¿ ماڈل ٹاﺅن خود بہت سے شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے، لیکن دھرنے والوں کی صریح تخریب کاری کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حیران کن نرمی اور اس کے ساتھ یہ مشورہ کہ طاقت کا استعمال معاملات بگاڑ سکتا ہے۔

 ڈیلی ”ٹیلی گراف“ کی بہ خبر کہ ”عمران اور قادری کو فوج کے اندر سے حمایت حاصل ہے“ ہو سکتا ہے مغربی پریس کی روایتی شرارت ہو، لیکن شرارتیں ہوا میں جنم نہیں لے سکتیں۔ مشرف کے وزیر قانون شیر افگن مرحوم آئین کی کسی ایک شق کے ساتھ دوسری شق کو ملا کر پڑھنے پر زور دیا کرتے تھے۔ جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس کو حفیظ اللہ نیازی کے کالم اورڈیلی ”ٹیلی گراف“ کی خبر کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو شاید وہ سب کچھ بھی الم نشرح ہو جائے جو جاوید ہاشمی نے نہیں کہا۔ عینی شہادتیں موجود نہ ہوں، تو واقعاتی شہادتوں سے بھی مقدمات ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -