دھرنے سے داعش تک

دھرنے سے داعش تک
دھرنے سے داعش تک
کیپشن: 1

  

لڑائی نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تھی، دھرنے والوں کو محض آلہ کار بنا کر استعمال کیا گیا۔ عمران خان اور طاہرالقادری بھرپور ضمانتوں کے بعد میدان عمل میں آئے۔ غیرجانبدار تجزیہ کار لیکن اس تمام کارروائی کے حوالے سے روز اول سے ہی خدشات کا شکار رہے۔ یہ پختہ تاثر موجود تھا کہ دھرنا سیاست کے مضمرات انتہائی سنگین ہوں گے۔ آیئے آگے چلنے سے پہلے بی بی سی کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مندرجات کا جائزہ لیں۔

”عراق اور شام میں ”خلافت“ کا اعلان کرنے والی دولت اسلامی تنظیم نے بظاہر اب عرب ممالک سے باہر بھی اپنی حمایت بڑھانے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں داعش کی طرف سے ایک کتابچہ شائع کیا گیا ہے، جس میں عام لوگوں سے اسلامی خلافت کی حمایت کی درخواست کی گئی ہے۔ ”فتح“ کے نام سے پشتو اور دری زبانوں میں شائع شدہ 12صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ پشاور شہر کے افغان پناہ گزین کیمپوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ یہ اشاعت پشاور میں افغان امور پرکام کرنے والے بعض صحافیوں کو بھی بھیجی گئی ہے۔ کتابچے میں کہا گیا ہے کہ خلافت کو خراسان، یعنی پاکستان، افغانستان ، ایران اور وسطی ایشیا کے ممالک تک پھیلایا جائے گا۔ پشاور میں افغان امور پر کام کرنے والے سینئر صحافی تحسین اللہ کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی کوشش ہے، جس میں عام لوگوں سے خلافت کی حمایت کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں بعض شدت پسندوں نے دولت اسلامیہ کے امیر المومنین ابوبکر بغدادی کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔عراق اور شام میں تقریباً 2ماہ قبل جب داعش کی جانب سے خلافت کا اعلان کیا گیا تو پاکستان میں بھی تحریک خلافت نامی ایک غیر معروف تنظیم نے اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ یہ تنظیم خود کو طالبان کا ایک دھڑا قرار دیتی ہے۔پڑوسی ملک افغانستان میں بھی بعض سلفی طالبان نے ابوبکر بغدادی کو اپنا امیر المومنین تسلیم کر لیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے کچھ علاقوں میں بھی داعش کے حق میں وال چاکنگ دیکھی گئی ہے، جبکہ لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں دولت اسلامیہ کی حمایت میں پوسٹرز بھی لگائے ہیں۔

پشاور میں شدت پسندی اور عسکری تنظیموں پر تحقیق کرنے والے تجزیہ نگار اور مصنف پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ چونکہ اس خطے میں شدت پسند تنظیموں کے لئے پہلے سے ایک بھر پور فضا موجود ہے اسی وجہ سے دولت اسلامیہ کو یہاں سے حمایت ملنے کا امکان زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کے مرکزی دھارے سے چھوٹے موٹے عسکری گروہ یا کمانڈرز اختلافات کے باعث کٹ جاتے ہیں اور موجودہ حالات میں ایسی ہی تنظیمیں دولت اسلامیہ کی طرف جا سکتی ہےں۔انہوں نے کہا کہ ایسے شدت پسند گروہوں کو اپنے نظریات کی تکمیل کے لئے ایک آئیڈیل کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ابوبکر بغدادی کی شکل میں انہیں ایک ”ماڈل“ مل چکا ہے۔

ان کے مطابق ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ یہاں کی بعض عسکریت تنظیمیں داعش سے منسلک ہو سکتی ہےں، کیونکہ دولت اسلامیہ بھی خراسان کا استعارہ استعمال کر رہی ہے اور یہاں سرگرم عسکریت پسند بھی وسیع تر خلافت کے قیام پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان میں حال ہی میں وجود میں آنے والی شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار بھی خراسان کے نظریے پر یقین رکھتی ہے، یعنی وہ خلافت کا قیام پاکستان، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے ممالک تک وسعت دینے کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں“۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی اس جامع رپورٹ کے بعد ان عناصر کی آنکھیں کھل جانا چاہئیں،جو اس سارے کھیل کو محض مقامی تماشا قرار دینے پر تلے ہوئے تھے۔ سب کو علم ہونا چاہئے کہ جب کبھی اس قسم کا تماشا لگتا ہے تو کئی بیرونی عناصر بھی کرتب دکھانے کے لئے متحرک ہو جاتے ہیں۔ سو اب مسلح افواج کے ساتھ پوری قوم کو بھی الرٹ رہنا ہو گا۔ کھیل اندازے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اذیت ناک سیاسی تماشے کے دوران لوگوں کا دھیان آپریشن ضرب عضب اور طالبان سے ہٹا رہا۔ ایک روز اچانک معلوم ہوا کہ طالبان کے پاس عرصہ دراز سے قید سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ اگلے ہی روز مولوی فضل اللہ نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں واضح طور پر انہیں تین انتہائی مطلوب طالبان رہنماﺅں سے ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ طالبان پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھے۔ راز کھلا تو سب نے جانا کہ ڈاکٹر اجمل کی رہائی ایک معاہدے کے ذریعے عمل میں آئی، جس کے تحت طالبان کے 3 قیدیوں کو رہا کرنا پڑا۔ اِسی ویڈیو میں مولوی فضل اللہ نے سفاک لہجے میں یہ بیان بھی دیا کہ محض 30ہزار لوگوں نے دھرنے کے ذریعے حکومت کو یرغمال بنا کر ہمارے لئے کام بہت آسان کر دیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کا یہ بیان واضح کر رہا ہے کہ حقیقی جنگجو اور شدت پسند عناصر دھرنوں کے حوالے سے صورت حال کو کسی مناسب موقع پر اپنے حق میں استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ نے حکومت گرانے کی کوشش کے دوران اس بات کو بھی یکسر نظرانداز کر دیا ہے کہ غیرآئینی طریقہ اپنانے کے اثرات کہاں کہاں تک جائیں گے۔ بلوچستان میں حکومت کرنے والی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی غیرآئینی اقدام کیا گیا تو پھر ہمارا ساتھ رہنا ممکن نہ ہو گا۔ اور تو اور اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر آئین ختم کیا گیا، تو پھر ہر صوبے کو اپنا الگ آئین بنانے کا حق مل جائے گا۔ غیرآئینی طریقہ الطاف حسین کو کراچی کو الگ صوبے کے مطالبے میں وزن پیدا کرنے کا موقع دے سکتا ہے تو یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہونے پر دیہی سندھ سے کیسا خوفناک ردعمل سامنے آئے گا۔

خیبرپختونخوا کے حوالے سے جماعت اسلامی کے ایک زیرک لیڈر کا تبصرہ سب کیلئے قابل غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرنوں کے ذریعے مطالبات منوانے کی بات آگے بڑھی تو کوئی بھی شرعی نظام کے نفاذ کے نام پر اچانک پشاور میں دھرنا دے سکتا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو تعداد 24گھنٹوں کے اندر 3لاکھ سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ پھر نہ گورنر ہاﺅس ہو گا نہ وزیراعلیٰ ہاﺅس نہ ہی کوئی سول سیکرٹریٹ باقی رہ جائے گا۔ نفاذشریعت کا مطالبہ کرنے والے اپنی جغرافیائی خودمختاری کی حد تک آگے بڑھ سکتے ہیں۔ بظاہر ٹھنڈے ٹھار دکھائی دینے والے صوبہ پنجاب کے حوالے سے زیادہ خوش فہمی میں نہ رہا جائے۔ سیاسی بگاڑ جاری رہا تو یہاں پر بھی بھونچال آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ سارے معاملات آئین کے فریم کے اندر رہ کر طے کرنا ہوں گے۔ ”دھرنے سے داعش تک“ کا سفر روکنے کے لئے یہی واحد راستہ ہے۔

باغی جاوید ہاشمی کے انکشافات کے بعد توثیق ہو گئی کہ گھناﺅنے کھیل میں صرف سیاست دان ہی نہیں، بلکہ غیرسیاسی عناصر بھی ملوث ہیں۔ اب صرف سیاست دانوں کو ہی نصیحتیں کرنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی حدود کا تعین کرنا ہو گا۔ مانا کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی اندھادھند طاقت پر بہت زعم ہے، لیکن یہ جان لینا چاہئے کہ دشمن ممالک اور انتہاپسند تنظیموں کی نظریں ہمارے ایٹمی اثاثوں پر لگی ہیں۔ ملکی دفاع کا یہ اہم مرحلہ طے کرنے کے لئے سب کو ایک ہونا ہو گا۔

مزید :

کالم -