یہ سیاست ملک کو کس طرف لے جارہی ہے؟

یہ سیاست ملک کو کس طرف لے جارہی ہے؟
یہ سیاست ملک کو کس طرف لے جارہی ہے؟
کیپشن: 1

  

پاکستان کی سیاست بہت مشکل ہوتی جارہی ہے ملک میں بعض سیاسی ہیجان اچانک ابھرتے ہیں اور صورتحال بدلتی چلی جاتی ہے عام لوگوں کے ذہن اس صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ اب جو نقشہ سیاست کا شاطر دماغوں نے ترتیب دیا ہے اس نے ملک کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور افرا تفری نظر آرہی ہے پارلیمنٹ موجود ہے لیکن عمران خان نے اپنی سیاست کو کسی اور رخ پر ڈال دیا ہے اس وقت حکومت ایک طرف ہے اور پارلیمنٹ میں موجود حزب اختلاف اپنی سیاست چھوڑ کر حکومت کی نمائندہ بن گئی ہے اور حکومت مخالفین کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانے کی کوشش کررہی ہے۔

 اب جو نقشہ بنا ہے وہ بہت واضح ہوتا چلا جارہا ہے عمران خان قادری اور چودھری برادران کی پوری کوشش ہے یہ سیٹ اپ ختم ہوجائے، حکومت کو حزب اختلاف کی پارٹیوں نے جس طرح ہر مسئلہ پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ اس لانگ مارچ کو جانے دو اور وہ آئے چلے جارہے ہیں پیپلزپارٹی ڈبل گیم کھیل رہی ہے۔ ایک طرف نواز شریف پر تنقید کررہی ہے تو دوسری طرف لانگ مارچ کو تقویت بھی پہنچا رہی ہے دونوں لیڈروں کے مطالبات دستوری نہیں ہیں لیکن حزب اختلاف ان کی حمایت مسلسل کئے چلے جا رہی ہے۔ بلوچستان میں عمران خان اور قادری کی پارٹیاں کمزور ہیں اس لئے بلوچستان دوسرے صوبوں کی نسبت بہت مختلف نظر آ رہا ہے بلوچستان اسمبلی نے لانگ مارچ کے خلاف قرار داد بھی منظور کر دی ہے یہ قرار داد مسلم لیگ (ن) کے سردار ثناءاللہ زہری نے پیش کی تھی اور متفقہ طور پر پاس ہو گئی ۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور قادری کی جانب سے لانگ مارچ اور ان کے مطالبات کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے اور اس عمل کی شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا کہ عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا جائے اور بلوچستان اسمبلی توڑنے کے مطالبے کی شدید مذمت کی اور سیاسی مسائل کے حل کے لئے سیاسی طریقہ اختیار کیا جائے اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا کہ یہ ملک اور آئین اور پاکستان کے عوام کے خلاف سازش ہے اور ان کے تمام مطالبات غیر آئینی ہیں اور یہ عوام کی توہین ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام غیر آئینی اقدامات دستور سے متصادم ہیں تمام غیر جمہوری سرگرمیوں کو فوری ختم کیا جائے اور اس کے حق میں مسلم لیگ اور پشتونخوا اور نیشنل پارٹی کے وزراءاور اراکین نے قرار داد کے حق میں تقاریر کیں اور عمران خان اور قادری کے رویہ کی شدید مذمت کی۔

 بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) اور وحدت المسلمین کے ارکان نے کھل کر قرار داد کی حمایت کی نیشنل پارٹی کے لیڈر جناب سینیٹر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ سول نا فرمانی آئین اور ریاست سے بغاوت ہے بلوچستان اسمبلی تحلیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور قادری کے غیر آئینی مطالبات کو تسلیم نہیں کریں گے اور ہماری پارٹی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہے ہم ثالثی کا کردار ادا نہیں کرسکتے اس لئے کہ ہم حکومت کا حصہ ہےں اور عمران خان اور قادری غیر جمہوری راستہ ترک کر کے جمہوری راستہ اختیار کریں بلوچستان میں ایک جمہوری حکومت ہے اس لئے ہم کوئی غیر جمہوری راستہ اختیار نہیں کریں گے اور نہ حمایت کریں گے غیر جمہوری طریقہ سے ملک کو نقصان ہو گا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ جب صوفی محمد نے دستور کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو ایک طوفان برپا تھا لیکن آج جب کینیڈا کے صوفی نے دستور کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو اس کی ٹی وی کوریج مسلسل ہورہی ہے اس کی ایک ایک حرکت اور عمل کو پیش کیا جارہا ہے صوفی محمد نے تو اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا جناب قادری صاحب تو اسلام کے حوالے سے کوئی بات نہیں کر رہے صرف لفظ انقلاب استعمال کر رہے ہیں عمران خان اور قادری دونوں نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں ان دونوں کے مطالبات کا جس پہلو سے بھی تجزیہ کیا جائے تو بالکل غیر دستوری نظر آتے ہیں۔

سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ یہ دونوں کس کے اشارے پر یہ کھیل کھیل رہے ہیں اور کیوں ایسا کررہے ہیں اور ان دونوں کو آزادی ہے کہ اسلام آباد کے جس حصہ میں جانا چاہتے ہیں چلے جارہے ہیں اور تمام رکاوٹیں ختم ہوتی چلی جارہی ہیں اس سے پہلے جتنے لانگ مارچ یا دھرنے ہوئے ہیں تو ان پر ایک قیامت توڑی گئی تھی اب یہ دونوں حضرات قیمتی کنٹینر میں محو سفر ہیں اور عوام پانی اور روٹی کو ترس گئے ہیں عالم اسلام کا جائزہ لیں تو پاکستان مستحکم نظر آرہا تھا اب اس کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ اب لگتا ہے کہ اس کھیل اور ان دونوں کی پشت پر کوئی خفیہ ہاتھ تو بڑا واضح نظر آرہا ہے ایسا ہوا تو تمام سیاسی پارٹیاں دیکھتی رہ جائیں گی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت ان قوتوں کو پسند نہیں ہے۔ مسلم لیگ اس کھیل اور شاطرانہ بساط کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے اور بد قسمتی سے پاکستان کی سیاسی پارٹیاں بھی اس کھیل کو سمجھنے سے قاصر رہی ہیں۔ اب یہ کھیل اپنے آخری سبق کی طرف تیزی سے گامزن ہے اور جلدہی سیاسی پردہ اٹھ جائے گا ۔

مزید :

کالم -