جننگ فیکٹریوں میں روٹی کی 17 لاکھ 62 ہزار282 بیلوں کی برابرپھٹی پہنچ گئی

جننگ فیکٹریوں میں روٹی کی 17 لاکھ 62 ہزار282 بیلوں کی برابرپھٹی پہنچ گئی

  

        کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان کاٹن جنرز ایسوی ایشن (پی سی جی اے ) نے سال 2014-15ءکیلئے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے اوّلین پیداواری اعدادوشمار جاری کر دیے ۔پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق 31 اگست تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 17 لاکھ 62 ہزار 282 روئی کی بیلز کے برابر پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے ۔جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 36 ہزار 429 بیلز (2.11فیصد) کم ہیں رپورٹ کے مطابق مذکورہ عرصے تک پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 8لاکھ 10ہزار 316بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1لاکھ 65 ہزار 959 بیلز (25.76 فیصد) زائد ہیں جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 31اگست تک مجموعی طور پر 9لاکھ 51ہزار 966 بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1لاکھ 29 ہزار 530 بیلز کم ہیں ۔رپورٹ کے مطابق 31 اگست تک ٹیکسٹائل ملز نے جننگ فیکٹریوں سے 15 لاکھ 23 ہزار 854 بیلز خریدیں ہیں جبکہ 56 ہزار 875 بیلز بیرون ملک برآمد کی گئی ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں اس وقت 1لاکھ 81 ہزار 553 بیلز قابل فروخت پڑی ہوئی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ پھٹی ضلع وہاڑی کی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے جو کہ 1لاکھ 53 ہزار 97 بیلز ہے جبکہ ضلع خانیوال میں 1 لاکھ 51 ہزار 561 ،ضلع ساہیوال میں 1 لاکھ 44 ہزار 993 بیلز کے برابر ،ضلع بہاولنگر میں 78 ہزار 650 بیلز کے برابر جبکہ ضلع بہاولپو کی جننگ فیکٹریوں میں 51 لاکھ 650 بیلز کے برابر پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے جبکہ سندھ میں سب سے زیادہ پھٹی ضلع سانگھڑ کی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے جو کہ 5 لاکھ 81 ہزار 282 بیلز کے برابر ہے جبکہ ضلع میر پور خاص کی جننگ فیکٹریوں میں 1 لاکھ 66 ہزار 364 بیلز کے برابر ،حیدرآباد کی جننگ فیکٹریوں میں 86 ہزار 768 بیلز کے برابر جبکہ ضلع جام شورو کی جننگ فیکٹریوں میں 68ہزار 891 بیلز کے برابر پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں اس وقت پچھلے سال کی 195 کے مقابلے میں 231 جبکہ سندھ میں پچھلے سال کی 207کے مقابلے میں 175 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔ممبر پی سی جی اے احسان الحق نے بتایا کہ سندھ میں رواں سال فروری ،مارچ کے دوران درجہ حرارت میں غیر متوقع غیر معمولی کمی کے باعث سندھ بھر میں کپاس کی کاشت میں تاخیر ہونے کے ساتھ ساتھ قابل کاشت رقبے میں بھی کمی واقع ہوئی تھی جس کے باعث یکم ستمبر تک سندھ میں کپاس کی پیداوار میں تقریباً 12 فیصد کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ستمبر کے دوران موسمی حالات بہتر ہونے کی صورت میں سندھ میں کپاس کی پیداوار میں بہتری کا رجحان سامنے آ سکتا ہے ۔

مزید :

کامرس -