کراچی میں شادیاں اور ایک منفرد دعوت نامہ

کراچی میں شادیاں اور ایک منفرد دعوت نامہ
کراچی میں شادیاں اور ایک منفرد دعوت نامہ
کیپشن: 1

  

موسم بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔اسلام آباد کا ماحول اگرچہ تین ہفتوں سے خاصا گرم ہے، لیکن کراچی میں گرمی کا وہ زور نہیں جو پنجاب میں ہے۔یہاں تو رات کو ہلکی ہلکی خنکی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔دن کے وقت نہ ٹھنڈا نہ گرم یہ موسم کچھ دنوں بعد سخت گرمی میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے اور اکتوبر میں توبہر صورت لو چلتی ہی ہے۔ اسلام آباد کے گرما گرم ماحول میں عمران خان نے نئے پاکستان میں شادی کا شوشہ چھوڑا ہے۔نیا پاکستان بنے گا یا نہیں بنے گا، وہ شادی کریں گے یا نہیں کریں گے، یہ سیاسی اعلانات ہیں، جس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن ایک حقیقت اٹل ہے اور وہ یہ کہ پرانے پاکستان کے پرانے کراچی میں آج کل شادیاں زور و شور سے ہو رہی ہیں، جس کے سبب رات دیر گئے تک سڑکوں پر چہل پہل رہتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بارڈر تو لاہور کا امرتسر سے ملتا ہے، لیکن وہاں شادی کی تقریب دس بجے ختم ہو جاتی ہے، جبکہ تقریب کے اختتام کے لئے سکھوں والا بارہ بجے کا ٹائم کراچی میں نافذ کیا گیا ہے۔شادی حال سے نکلتے نکلتے ساڑھے بارہ ایک بج جاتے ہیں اور گھر پہنچتے پہنچتے ڈیڑھ دو بجے کا ٹائم ہو جاتا ہے، جن لوگوں نے صبح دفتر جانا ہوتا ہے، وہ بہت مشکل میں ہوتے ہیں۔فیملی ساتھ ہونے کی وجہ سے اگر چاہیں بھی تو بارہ بجے سے پہلے شادی ہال سے نہیں نکل سکتے۔

کاروباری لوگوں کے البتہ مزے ہیں۔دن کو ایک بجے تک دکانیں کھولتے ہیں اور رات نودس بجے گھر واپس آتے ہیں۔شادی بیاہ وغیرہ کی تقریبات کے اوقات انہی کی سہولت کے مطابق طے کئے جاتے ہیں۔کراچی دراصل کاروباری لوگوں کا شہر ہے اور انہی کے مزاج کے حساب سے ملتا ہے۔شادی ہالوں کا پھیلتا ہوا کاروبار بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔فائیو اسٹار ہوٹلوں کے شادی ہالوں کی مقبولیت دیکھ کر انہوں نے بھی اپنے ہالوں کو ایئرکنڈیشنڈ کرکے فائیو اسٹار جیسا ماحول پیدا کر دیا ہے اور خوب رقم بٹور رہے ہیں۔شادی کی تقریب میں ایک اہم عنصر ”شادی کارڈ“ ہوتا ہے، جس کا فیشن بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ معاشرے میں جب سے بچوں کو نام نہاد انگلش میڈیم میں بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔شادی کارڈ بھی انگریزی میں چھپنے لگے ہیں، جن میں بعض اوقات زبان کی مضحکہ خیز غلطیوں کی نہ تو کارڈ چھپوانے والوں کو خبر ہوتی ہے اور نہ ہی مدعوئین کو۔ انگریزی کے شوق میں نقل کی انتہا یہاں تک پہنچی ہے کہ یار لوگوں نے انگریزوں کے دعوت ناموں کی ہو بہو نقل چھپوانی شروع کر دی ہے، جن میں یہ تحریر ہوتا ہے کہ ”شادیاں آسمانوں پر طے ہوتی ہیں اور زمین پر وقوع پذیر ہوتی ہیں“۔

 یہ عیسائیوں کے کٹر فرقے کیتھولک عیسائیوں کا عقیدہ ہے، اس لئے ان کے ہاں طلاق نہیں ہوتی۔اس لحاظ سے کیتھولک اپنے عقیدے میں بالکل سچے ہیں، کیونکہ جو رشتہ آسمانوں پر طے ہو گیا، اس پر انسان کے ردوبدل کا کیا سوال؟ لیکن ہمارے ہاں جہاں چار چار شادیوں کی گنجائش ہے اور کھڑے کھڑے طلاق ہو جاتی ہے۔ کیتھولک عقیدے کا اطلاق کسی لحاظ سے بھی واجب دکھائی نہیں دیتا، لیکن کیا کریں کہ یہ عقیدہ عوام الناس میں بہت مقبول ہے ، بلکہ بہت سے مذہبی افراد بھی اس کا پرچار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔شادی کا عیسوی ماحول صرف عقیدے تک محدود نہیں، بلکہ وڈیو اور فوٹو سیشن بھی شادی کا لازمی جزو قرار پا چکے ہیں، جس کے لئے دولہا دلہن بھلے ایک دن کے لئے سہی فلمی ستاروں کا روپ دھار لیتے ہیں۔شادیوں کے ایسے ہی انگریزی زدہ ماحول میں جب شادی کے لئے اردو میں اور وہ بھی ادیبانہ اندازمیں ایک دعوت نامہ نظر سے گزرا تو طبیعت گویا پھڑک اُٹھی۔ آپ بھی لطف اٹھایئے اور داد دیجئے۔سید محمود علی صاحب اور ان کی اہلیہ حناصاحبہ کی جانب سے یہ دعوت ایک خط کی شکل میں تھا جو کھلنے سے پہلے ائیروگرام مانگتا تھا۔اس کا نفس مضمون کچھ یوں تھا۔

”از کراچی شوال 1435ھ : عرض یہ ہے کہ جیسے ہی ہمارے بیٹے سید قسیم علی اتنے بڑے ہوئے کہ لکھے پڑھے ہوئے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے ہم نے جھٹ ان کے لئے دلہن ڈھونڈی اور نکاح کے بول گنتی کے رشتہ داروں کی موجودگی میں نہایت سادگی سے مسجد میں پڑھوا دیئے۔یہ خوشگوار واقعہ پچھلے سال 10اگست کو پیش آیا، جب ہماری پیاری بہو ثناءسید (دختر ڈاکٹر اطہر حسین و رعنا سید) زوجہ قسیم قرار پائیں۔اما بعد دولہا میاں اس دعوے کے ساتھ پردیس سدھارے کے ایک سال بعد دلہنیا لے جائیں گے.... لوصاحبو! برخوردار اپنے وعدے کے پکے نکلے، لہٰذا ولیمے کی تقریب کی نوید ہے۔تاریخ ہال والوں نے 17اگست 2014ءطے کی ہے۔اس رقعہ کو دعوت عام جانیں اور اس تقریب میں ضرور شرکت فرمائیے۔آپ آئیں گے تو رونق اور برکت آئے گی۔ ہاں ایک ضروری بات! مروجہ طور پر قابوں کے ڈھکن ٹھیک ساڑھے دس بجے اٹھا دیئے جائیں گے۔بھلے اس دوران دولہا اور دلہن کے قریبی رشتہ دار رخ بدل بدل کر ایک ہی طرح کی تصویریں بنواتے رہیں۔اللہ ہمیں اور آپ کو پابندی وقت کی توفیق عطا فرمائے....

 آخر میں آپ سے درخواست ہے کہ دولہا اور لہن کو دعا دیئے بغیر ہر گز نہ جائیے گا۔(نوٹ: یہاں دعا کا مطلب کچھ اور نہ سمجھا جائے).... انشاءاللہ ہم آپ کے استقبال کے لئے 9بجے رات یونیورسٹی روڈ اور گلستان جوہر جوہر روڈ کے سنگم پر واقع الصفا بینکوئٹ ہال بالمقابل سبحانہ شاپنگ مال میں موجود ہوں گے۔ آپ کی شرکت، عزت افزائی اور دعا کا پیشگی شکریہ“!....اس دعوت نامہ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ ائر وگرام نما یہ دعوت نامہ رنگین کپڑے کے ایک خوبصورت لفافے میں موصول ہوا تھا جو نہ صرف یہ کہ دولہا کی والدہ نے خودسیا تھا، بلکہ اس پر دیدہ زیب مینا کاری بھی انہوں نے خود ہی کی تھی۔اس کے علاوہ چھوہاروں کی دلربا مخملی تھیلیاں بھی انہوں نے خود ہی تیار کی تھیں۔ جو ان کے مصورانہ مزاج کی عکاس تھیں۔محمود علی صاحب ایک اچھے شاعر بھی ہیں، لیکن انہوںنے نثر اور مزاح نگاری میں بخوبی جھنڈا گاڑ دیا۔انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے شادی کی تقریب میں جو ندرت پیدا کی اس پر ہر طرف سے ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برس رہے ہیں اور یہ کالم بھی انہی میں ایک ہے۔

مزید :

کالم -