وزیراعظم؟ ماضی کا آئینہ.... جاوید کا سچ!

وزیراعظم؟ ماضی کا آئینہ.... جاوید کا سچ!
وزیراعظم؟ ماضی کا آئینہ.... جاوید کا سچ!
کیپشن: 1

  

”آج تک تمام حکومتیں فوج نے بنائیں اور اسی نے ختم کیں۔ جب بھی سیاست دانوں میں مفاہمت ہوئی اسمبیاں توڑ دی گئیں۔ سیاست دانوں نے ہمیشہ ملک کو فائدہ پہنچایا، لیکن فوج جب بھی حکومت میں آئی، کوئی نقصان ہوا ہے۔ فوج نے52سالہ سالہ تاریخ میں 25سال براہ راست یا بالواسطہ طور پرملک پر حکومت کی، آج تک جتنی بھی حکومتیں بنیں وہ فوج نے بنائیں اور اسی نے انہیں ختم کیا، ذوالفقار علی بھٹو کو گل حسن لایا اور جنرل ضیاءنے ختم کیا۔ جونیجو کو جنرل ضیاءلایا اور اُسی نے ختم کیا، بے نظیر بھٹو کو جنرل اسلم بیگ لایا اور جہانگیر کرامت نے ختم کیا۔ نواز شریف بھی فوج کی آشیر باد سے اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے کہا فوج ملکی معاملات میں ملوث رہی ہے، ملک میں کبھی سیاست دانوں کو اکٹھے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، جب بھی مفاہمت پیدا ہوئی، اسمبلیاں توڑ دی گئیں، جونیجو مرحوم نے مفاہمت پیدا کی، اُسے چلتا کر دیا گیا، نواز شریف اور بے نظیر میں مفاہمت کے نتیجے میں اسے خارجہ امور کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا، لیکن اسحاق خان نے قبول نہ کیا جو ایسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ تھا، اس کے نتیجے میں اسمبلی توڑ دی گئی۔ سیاسی جماعتوں میں وسیع تر مفاہمت کے بغیر ملک ترقی کی شاہراہ پر نہیں چل سکتا۔ جاوید ہاشمی نے کہا میاں نواز شریف نے بیان دیا تھا کہ کارگل میں آپریشن کرتے وقت بحریہ اور فضائیہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا، اس پر بہت شور مچایا لیکن آج تک کسی ادارے نے اس کی تردید نہیں کی۔ جاوید ہاشمی نے مزید کہا ہم ”پرو ملٹری“ لوگ ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں، ہمارا ہمسایہ کمینہ ہے، اس لئے فوج کو مضبوط رہنا چاہئے اور اسے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہونا چاہئے“۔

یہ ایک انٹرویو کے اقتباسات ہیں جو اک دلیر آدمی جاوید ہاشمی نے ہمیں جولائی 2000ءمیں دیا، یہ تفصیلی انٹرویو روز نامہ ”پاکستان“ میں 2جولائی2000ءکی اشاعت میں شائع ہوا تھا۔ جاوید ہاشمی آج بھی خبروں میں ہیں اور انہوں نے اپنی جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا، اُن کی طرف سے بعض اہم انکشاف کئے گئے، جن میں عمران خان کی طرف سے فوج کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے متعدد اور انکشاف بھی کئے، پھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک زبردست تقریر کر کے رکنیت چھوڑ دی۔ ان کو چاروں طرف سے داد دی جا رہی ہے۔

خود عمران خان نے اس کی تردید نہیں کی، البتہ تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے غلط قرار دیا جس کے بعد جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ کے خطاب میں بھی اپنی بات کو دہرایا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ انہوں نے جاوید ہاشمی کو بہت احترام دیا اس کا اعتراف جاوید ہاشمی نے بھی کیا ہے، لیکن اپنے اختلاف کا اظہار برملا کیا، جس وقت یہ انٹرویو ہوا اور چھپا وہ دور جنرل(ر) پرویز مشرف کا تھا اور اس وقت تک وہ چیف ایگزیکٹو ہی تھے۔

جاوید ہاشمی جن کو طلباءسیاست کے دور میں بہادر آدمی اور دلیر آدمی کے لقب سے نوازا گیا تھا، جیل میں اپنی یاد داشتوں پر مشتمل کتاب لکھ کر باغی کہلایا کہ اس کی کتاب کا نام” مَیں باغی ہوں“ رکھا گیا تھا۔ جاوید ہاشمی بہت رکھ رکھاﺅ والے ہیں۔ ان کی پالیسیوں یا حکمت عملی یا سیاست سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے دلیر، بے باک اور خوش اخلاق ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی طالب علمانہ سیاست سے ترقی پا کر ہی وہ سیاست دان بنے تھے،جس جاوید ہاشمی سے ہماری یادِ اللہ ہے وہ تو غلطی کا احساس ہونے یا دلانے پر معذرت سے بھی نہیں چوکتا تھا اور آج بھی ان کے اندر ویسا ہی طنطنہ ہے۔اب بھی انہوں نے اعلانیہ بغاوت کر کے سنسنی پھیلا دی اور سب سے داد وصول کی ہے۔

جہاں تک محترم کپتان عمران خان صاحب کا تعلق ہے تو انہوں نے بذات خود جاوید ہاشمی کے الزامات کا جواب نہیں دیا، مخدوم جاوید ہاشمی کی جو بات سب سے زیادہ ناگوار گزری ہے وہ عمران خان کی طرف سے فوج کی حمایت کے حوالے سے کہے گئے الفاظ کا دہرانا ہے۔ تحریک انصاف کے بھی لوگ چیں بچیں ہیں۔ اس پس منظر میں مزید رنگ بھرنے کے لئے ہم7مئی2000ءکے روزنامہ ”پاکستان“ میں شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہیں، جو ہماری ہی تھی، اس کے مطابق عمران خان اور اس وقت تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل (ر)اصغر خان نے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو جنرل (ر) پرویز مشرف سے خفیہ ملاقات کرکے حکومت سازی کے معاملے پر بات چیت کی تھی۔ اس ملاقات میں جنرل(ر) پرویز مشرف نے ہر دو حضرات سے کابینہ میں شمولیت کے بارے میں پوچھا اور رائے بھی لی تھی، ہر دو نے اپنی شمولیت کی حامی بھرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حصہ طلب کیا تھا، ان دنوں جنرل (ر) پرویز مشرف اپنا اقتدار مستحکم کرتے چلے جا رہے تھے اور ان کو سیاسی حمایت کی ضرورت تھی، افسوس کہ ہر دو رہنماﺅںکی ملاقات بے سود رہی اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیٹھے بٹھائے مسلم لیگ مل گئی، چنانچہ چودھری شجاعت حسین کی بات بن گئی۔ مسلم لیگ کے بطن سے مسلم (ق) قائم ہو گئی اور پھر حکومت میں بھی اُن کو حصہ مل گیا۔ عمران خان اور اصغر خان شرائط ہی میں پھنسے رہ گئے۔ بہرحال عمران خان نے ابھی تک آس نہیں توڑی اور پاکستان کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔

یہ ماضی کی بات تو ہے، لیکن زیادہ دور کی نہیں چند سال پہلے ہی کا قصہ ہے۔ ایئر مارشل(ر) اصغر خان تو اپنی جماعت کو تحریک انصاف میں ضم کر کے خود گوشہ نشین ہو چکے کہ اُن کی عمر بھی کافی ہو گئی ہے تاہم عمران خان میدان میں ہیں اور آج کل کنٹینر سے دن میں کئی بار قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ اُن کو تو اب بھی یقین ہے کہ اقتدار اُنہی کو ملنا ہے، لیکن کیسے؟ یہ وہ نہیں بتاتے! شاید انہیں خود بھی پتہ نہیں وہ بخوبی جانتے ہوں گے جنہوں نے اُنہیں ”لارا“ لگا رکھا ہے اصغر خان آرام کر رہے ہیں، کیا یہ بھی اسی انجام سے دوچار ہیں؟

مزید :

کالم -