کسی بھی امتحان میں سو فیصد کامیابی ضروری نہیں ہوتی

کسی بھی امتحان میں سو فیصد کامیابی ضروری نہیں ہوتی

  


گزشتہ روز شاہ محمود قریشی نے اپنے ارکان کے ساتھ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی ،پورے جوش و خروش کے ساتھ خطاب بھی کیا اور پھر اپنی بات مکمل کرتے ہی ایوان سے رخصت ہو گئے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی جدوجہدکا پس منظر بتاتے ہوئے اسے مکمل طور پر آئینی اور قانونی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں جمہوریت ختم کرنے نہیں، بلکہ اس کو بچانے آئے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں ان کا مینڈیٹ چوری ہوا ، ان کی حق تلفی کی گئی، لیکن عوام نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے،اِسی لئے وہ آج ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ یہ سب کسی گرینڈ پلان کا حصہ ہے اور اس کا سکرپٹ کہیں لکھا گیا ہے، پی ٹی آئی کبھی کسی گرینڈ پلان کا حصہ نہیں رہی۔ انہوں نے اقرار کیا کہ یہ دھرناواقعی کسی کے اشارے پر کیا جا رہا ہے، لیکن وہ اشارہ عوام کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا دھرنا پُرامن ہے،دس دن میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا تھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی اہمیت کو تو تسلیم کیا، اسے اپنا سیاسی کعبہ مانا اور کہا کہ اس پر حملے کے بار ے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے کی مذمت کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔انہوں نے ایوان میں کھڑے ہو کر کہا کہ اگر پانچ مطالبے مانے گئے تھے تو اس میں ان کی کوششیں بھی شامل تھیں،تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، وہ بھی جمہوری انداز میں ہی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے مارشل لاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت قطعاً مارشل لاء کی حامی نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پارلیمنٹ میں کہا گیا ہر جملہ تاریخی ہوتا ہے، باہر صرف لفاظی ہوتی ہے، اِسی لئے وہ اپنی بات کہنے یہاں آئے ہیں، بہت اچھا ہوتا کہ اس بات کی روح کو سمجھتے ہوئے ان کی جماعت تمام مسائل پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کرتی تو حالات اس نہج پر نہ پہنچتے،جو سیاسی جماعتیں آج ان کے مخالف کھڑی ہیں ہو سکتا ہے وہ حکومت کی بجائے ان کی حامی ہوتیں۔شاہ صاحب کی سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں،لیکن اب اس سے آگے بھی تو بڑھنا ہے ،سمجھ میں نہیں آتا آگے کا سفرکیسے طے ہو گا؟اصلاح مقصود ہے توتمام فریقین کو آئین کی چھتری تلے ہی اکٹھے ہونا ہو گا،ماورائے آئین کوئی بھی اقدام صرف اور صرف بگاڑ ہی پیدا کرے گا۔وہ جمہوری طریقے سے اس بحران کو حل تو کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے ’’ انداز‘ ‘اس بات کی عکاسی کرتے نظر نہیں آتے۔

تمام تر سیاسی جماعتوں کا موقف انتخابی اصلاحات پرایک ہی ہے، عمران خان کے چھ میں سے پانچ، بلکہ شاہ صاحب کی زبان میں ساڑھے پانچ مطالبات مانے جا چکے ہیں گویا ان کو تقریباً 90 فیصد کامیابی حاصل ہو چکی ہے، وہ اپنا امتحان اے پلس گریڈ میں پاس کر چکے ہیں۔ اگر ایک سوال کا جوب دینے میں مشکل درپیش ہو تو اس کی وجہ سے پورا امتحانی پرچہ خالی نہیں چھوڑا جاتا۔دنیا کا کوئی امتحان ایسا نہیں ہے، جس میں سو فیصد نمبر حاصل کرنے کو ہی کامیابی سمجھا جائے۔ سیاست ناممکنات کا کھیل نہیں ہے، یہاں افہام و تفہیم کرنی پڑتی ہے، کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مسائل حل کرنے پڑتے ہیں۔یہا ں ضد اور اَنا کے زور پر فیصلے نہیں ہوتے، شاہ صاحب دوسروں کو اَنا چھوڑنے کی نصیحت تو کر رہے ہیں، لیکن خود ان کی جماعت اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے۔ تبدیلی جمہوریت سے آتی ہے ،ڈنڈوں اور دھرنوں کے زور پر صرف تباہی آتی ہے۔ برطانیہ، بھارت ہر جگہ ترقی و تبدیلی جمہوریت ہی کی مرہون منت ہے۔ یہ ’’پاکستانی جمہوریت ‘‘کا ہی حسن ہے کہ لوگ پارلیمنٹ کے لان کو گھر سمجھ کر اس میں ڈیرہ لگائے بیٹھے تھے کسی اور ملک میں اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے اس سے سب واقف ہیں۔ پاکستان دنیا کا کوئی نرالا ملک نہیں ہے، جہاں سسٹم کوسبوتاژ کئے بغیر تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی صاحب اور پاکستان تحریک انصاف کے تمام رہنما اِسی ’’سسٹم‘‘ کی پیداوار ہیں، وہ کوئی آسمان سے اُتر کر نہیں آئے ہیں،اگر شاہ محمود قریشی مسلم لیگ سے گزر کر پیپلز پارٹی کے راستے پاکستان تحریک انصاف میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ سکتے ہیں توتحریک انصاف ملک کی سا لمیت اور آئین کی بالادستی کی خاطر درمیانہ راستہ اختیار کیوں نہیں کر سکتی؟ پاکستان تحریک انصاف مینڈیٹ چوری ہونے کا رونا تو رو رہی ہے، لیکن وہ اس بات سے کیسے انکار کر سکتی ہے کہ اس کے موقف کے بالمقابل ایک دوسرا موقف بھی موجود ہے، اگرپاکستان تحریک انصاف نے 80 لاکھ ووٹ لئے ہیں تو ڈیڑھ کروڑ ووٹ پاکستان مسلم لیگ (ن)نے بھی تو حاصل کئے ہیں۔ مانتے ہیں کہ جمہوریت میں ایک ایک ووٹ قیمتی ہوتا ہے، لیکن 80 لاکھ ووٹ ڈیڑھ کروڑ سے کسی صورت زیادہ نہیں ہو سکتے۔تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں ہے، معاملات کو آگے بڑھنے سے روک کر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اب بہت ہو چکا ہے ،دھرنے کے شرکاء کے صبر کا پیمانہ تو پتہ نہیں لبریز ہوا ہے یا نہیں،لیکن پاکستانی قوم کے ہاتھ سے صبر کا دامن ضرور چھوٹ رہا ہے، اس لئے تمام فریقین ایک ہی لکیر پیٹنے کی بجائے جلد از جلد آگے بڑھنے کے لئے کوئی لائحہ عمل اختیار کرلیں تاکہ ہم سب سکھ کا سانس لے سکیں۔

مزید :

اداریہ -