نئی نمبر پلیٹوں کی تقسیم!

نئی نمبر پلیٹوں کی تقسیم!

  

محکمہ ایکسائز نے بالآخر گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس جاری کرنے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے یہ نمبر پلیٹیں اس ماہ کے تیسرے ہفتے سے ان گاڑیوں کے مالکان کو جاری کی جائیں گی جن کی گاڑیاں 2011ء سے 2013ء کے لئے رجسٹر ہوئیں اور انہوں نے ایک ایک ہزار روپے نمبر پلیٹ کے لئے بھی جمع کرائے تھے محکمہ کی اطلاع کے مطابق نمبر پلیٹیں لاہور سے جاری ہوں گی۔یہ بہت پرانا منصوبہ ہے جس کا مقصد گاڑیوں کی چوری کو روکنا ہے یہ نمبر پلیٹیں نادرا کے تعاون سے تیار کرائی گئی ہیں جو گاڑی میں فکس کر دیئے جانے کے بعد کھولی نہیں جا سکیں گی اور ٹوٹ جانے کی صورت میں بھی محکمہ ہی سے ڈپلیکیٹ حاصل کرنا ہوں گی۔ یہ جو نظام وضع کیا گیا اس کے مطابق ہائی ویز پر کیمرے لگائے جائیں گے جو گاڑی کی نمبر پلیٹ کے کمپوٹرائزڈ نظام کی وجہ سے فوراً ہی سرور میں موجود ڈیٹا کی وجہ سے متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیں گے کہ گاڑی کدھر سے گزری ہے یوں چوری ہونے والی گاڑی کو پکڑا جا سکے گا۔

یہ نظام کئی سال سے زیر التوا چلا آ رہا تھا کہ نمبر پلیٹیں تیار نہیں ہو پا رہی تھیں اب وزیر ایکسائز میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کی صدارت میںآنے والے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں پندرہ لاکھ نمبر پلیٹیں تقسیم کی جائیں گی، تاہم یہ امر تصدیق شدہ نہیں کہ پندرہ لاکھ پلیٹیں تیار کرلی گئی ہیں یا بتدریج تیار ہو کر آئیں گی اور مالکان کے حوالے کی جائیں گی محکمے کا ایک مقصد سرکاری ٹیکس کی وصولی بھی ہے کہ کوئی شہری نمبر پلیٹ تبدیل بھی نہیں کر سکے گا کہ بعض حضرات ایک نمبر پلیٹ پر دو گاڑیاں چلا لیتے ہیں ایک سرکاری اور دوسری بازار سے بنوالی جاتی ہے۔یہ ایک اچھا منصوبہ ہے بشرطیکہ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے فی الحال تو یہ پچھلے کئی سالوں سے ملتوی ہوتا چلا آیا ہے اب عمل شروع ہوا تو یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ مالک لاہور سے نمبر پلیٹ وصول کرے گا۔ جتنی تعداد میں گاڑیاں ہیں ان کے مطابق لاہور کے دفتر سے تقسیم مشکلات کا باعث بنے گی۔ اگر اس نظام کو رائج کیاہی جا رہا ہے تو نمبر پلیٹ کی تقسیم کا سلسلہ بھی بہتر انداز میں ہونا چاہئے کہ عوام کو پریشانی نہ ہو محکمہ نے ان سے ایک ایک ہزارر وپے بھی وصول کئے ہوئے ہیں، توقع کرنا چاہئے کہ عوامی سہولت کا انتظام کیا جائے گا۔

مزید :

اداریہ -