امریکہ ،دو بھائی 30 سال بعد ریپ اور قتل کے الزام سے بری

امریکہ ،دو بھائی 30 سال بعد ریپ اور قتل کے الزام سے بری

  

نیویارک(آن لائن)امریکہ میں دو افراد کو تین دہائیاں قید میں گزارنے کے بعد ریپ اور قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ فیصلہ ڈی این اے رپورٹ کے منفی آنے کے بعد کیا گیا جس میں دونوں بھائی بے گناہ ثابت ہو گئے۔یہ دونوں بھائی ذہنی مریض ہیں۔ ان میں سے بڑے کا نام ہینری میک کلم ہے جس کی 50 عمر برس ہے جب کہ لیون براو¿ن کی 46 عمر برس ہے۔ ان دونوں کو شمالی کیرولائینا میں سنہ 1984 میں 11 برس کی ایک بچی کے ساتھ ریپ اور قتل کے الزام میں سزا ہوئی تھی۔حال ہی میں ڈی این ٹیسٹ کے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ یہ کسی اور شخص کے ہیں۔ وہ آدمی اس وقت اسی نوعیت کے دوسرے جرم میں قید میں ہے۔جج نے ان دونوں بھائیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ شمالی کیرولائنا میں بے گناہی کی تحقیقات کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں جائے وقوعہ سے ملنے والے ڈی این سے شواہد کی جانچ کی گئی۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ڈی این اے کے نمونے نہ تو میک کلم کے تھے اور نہ ہی براو¿ن کے۔براو¿ن کے وکیل این کِربے کا کہنا ہے ’یہ مقدمہ ایک المیہ ہے جس میں نہ صرف ان لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں جو جس میں ملوث تھے بلکہ اس نے ہمارے نظامِ انصاف کو بھی متاثر کیا ہے۔شمالی کیرولائنا کے ریڈ سپرِنگ علاقے میں 11 برس کی سبرینا کی نیم برہنہ لاش سنہ 1983 میں ملی تھی۔

 اسے قتل سے قبل ریپ کیا گیا تھا۔میک کلم اور براو¿ن کی عمریں اس وقت 19 اور 15 برس تھیں۔ پولیس نے انھیں واقعے کے چند ہفتوں بعد گرفتار کر لیا۔ ان کے اس جرم سے وابستہ ہونے کے کوئی شواہد بھی نہیں تھے۔میک کلم نے سخت پوچھ گچھ کے نتیجے میں چند ہی گھنٹوں بعد ہی اعتراف جرم کر لیا۔ اس وقت اس کے خاندان کے دوسرے افراد یا ان کا وکیل بھی موجود نہیں تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی نے بھی ایک تحریری اقبالی بیان پر دستخط کیے تھے۔تاہم بعد میں دونوں نے عدالت کے سامنے جرم سے انکار کیا تھا اور کہا کہ یہ اعتراف انھوں نے دباو¿ میں کیا تھا۔ لیکن کمزور مقدمہ ہونے والے باوجود دونوں بھائیوں کو مجرم ٹھہرایا کر سزائے موت دے دی گئی۔براو¿ن کی سزا بعد ازاں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور ان کے خلاف صرف ریپ کا الزام باقی رہ گیا جبکہ میک کلم تین دہائیوں تک موت کا سزا کا مجرم رہا۔ ان برسوں میں دونوں کی جانب سے کی اپیلیں کی گئیں۔سنہ 2010 میں بے گناہی سے متعلق ادارے نے ان کا مقدمہ لیا اور وہ شواہد سامنے لے آئے جن تک ان دونوں کے وکلا کی رسائی نہیں ہو سکی تھی۔شہادتوں کے مطابق مقتولہ اور ان دونوں بھائیوں میں کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ وقوعے سے ملنے والا ڈی این اے 76 سالہ روسکو آرٹیس کا تھا اور وہ جگہ کے قریب ہی رہتے تھے جہاں سے بچی کی لاش ملی تھی۔آرٹس کو سبرینا کے قتل کے ایک ماہ کے اندر ہی ایک دوسری لڑکی کے انھی حالات میں ریپ اور قتل کے مقدمے میں سزا ہوگئی تھی۔

مزید :

عالمی منظر -