امریکہ کا ”داعش“کے جنگجوﺅں کو”تباہ اور رسوا “کرنے کا اعلان

امریکہ کا ”داعش“کے جنگجوﺅں کو”تباہ اور رسوا “کرنے کا اعلان

  

واشنگٹن(اظہر زمان،بیوروچیف)صدر اوبامہ دہشت گردی کے خلاف قائم امریکہ کے جنگی تھیٹرز سے بتدریج واپسی اختیار کر رہے تھے لیکن عراق اور شام کی سرحد پر ”داعش“ کے جنگجوﺅں کی طرف سے ”اسلامی ریاست“کے قیام اور نئی ظالمانہ کارروائیوں نے انہیں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وائٹ ہاﺅس کے ایک پیغام کے مطابق صدر اوبامہ نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اب امریکہ کا مقصد جنگجوﺅں کو ”تباہ اور رسوا کرنا“قرار دے دیا گیا ہے۔صدراوبامہ اس وقت نیٹوکے اجلاس میں شرکت کے لئے بیرونی دورے پر ہیں اور اس وقت اسٹونیا میں ہیں جہاں انہیں ان جنگجوﺅں کی طرف سے دوسرے امریکی صحافی سیٹون سٹلوف کا سر قلم کرنے کی ویڈیو جاری ہونے کی اطلاع ملی ۔ اس کے بعد انہوں نے اسٹونیا کے صدر ٹومس ہینڈرک کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ویڈیو مستند ہے اور اب امریکہ نے تہیہ کیا ہے کہ ان جنگجوﺅں کو ”رسوا اور برباد“ کیا جائے گا تاکہ وہ مہذب دنیا کے لئے مزید خطرے کا باعث نہ بنیں۔

صدر اوبامہ کے اس اعلان کے بعد مبصرین اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف وسیع کارروائی کی توقع کر رہے ہیں جن کے مطابق یہ اعلان مستقبل کی کارروائی کے لئے بنیاد فراہم کر رہا ہے۔امریکہ عراق میں ”اسلامی ریاست “ کی یلغار کو روکنے کے لئے وقفے وقفے سے ریگولر اور ڈرون طیاروں کے ذریعے ان کے ٹھکانوں پرحملے کر رہا ہے۔ تاہم دباﺅ کے باوجود امریکی انتظامیہ نے سرحدپار شام کے علاقے میں ان کے خلاف کارروائی سے احتراز کیا ہے جہاں اس تنظیم نے کافی حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اب ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ان جنگجوﺅں نے دو امریکی صحافیوں کا سر قلم کر دیا ہے جس کے بعد امریکی انتظامیہ اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبورہوگئی ہے ۔ مبصرین اب سمجھتے ہیں کہ تازہ ظالمانہ کارروائیوں کے بعد امریکہ کا کردار عراقی انتظامیہ کی حمایت تک محدود نہیں رہے گااور امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ کو جنگجوﺅں کے خلاف براہ راست کارروائی کا جواز مل گیا ہے۔

وائٹ ہاﺅس کے پیغام کے مطابق صدر اوبامہ نے مستقبل کے جو معاملات واضح کئے ہیں ان میں اولیت عراق حکومت کو مضبوط بنانے میں مدد دینا ہے تاکہ وہ جنگجوﺅں کا بھر پورطریقے سے مقابلہ کر سکے۔ صدر اوبامہ کہتے ہیں کہ بدلتے ہوئے حالات میں اب امریکہ صرف فضائی امداد فراہم نہیں کرے گا بلکہ زمینی کارروائیوں میں بھی مدد کر سکتا ہے۔

مزید :

علاقائی -