پارلیمنٹ ہمارا سیاسی کعبہ ہے،اسے جلانے نہیں بچانے آئے ہیں ،شاہ محمود قریشی

پارلیمنٹ ہمارا سیاسی کعبہ ہے،اسے جلانے نہیں بچانے آئے ہیں ،شاہ محمود قریشی ...

  

                                                  اسلام آباد (اے این این، آئی این پی، آن لائن)بد ھ کے روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کا ایک اور اہم دن رہا اس موقع پر حالیہ سیاسی بحران میں اپنا کردار رکھنے والی پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی خاص طور پر اپنی جماعت کی صفائی پیش کرنے آئے اور انہوں نے اپنی تقریر میں بہت سے الزامات کے حوالے سے اپنی جماعت کا موقف واضح کیا۔ اپنی تقریر میں شاہ محمود قریشی نے سیاسی جمودتوڑنے کےلئے مذاکرات پرآمادگی ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہماراسیاسی کعبہ ہے اسے جلانے نہیں بچانے آئے ہیں ،کسی کے اشارے پرآئے ہیں نہ جمہوریت کےخلاف کسی گرینڈ پلان کا حصہ بنیں گے، خون خرابہ نہیں چاہتے ، ہم سب دلدل میں پھنس چکے ہیں ، پارلیمنٹ ہی کو دلدل سے نکالنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ میں نے ایوان میں بہت سے لوگوں کو سنا، تقاریرکا جواب دے سکتا ہوں مگرماحول خراب نہیں کرنا چاہتا،پاکستان کے حالات غیر معمولی ہیں، ملکی نظام رکا ہوا ہے، ملک میں ایک عجیب کیفیت ہے، معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے، ہم پر امن طور پر آئے، پر امن دھرنے دئیے، ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا ۔ہمیں پارلیمنٹ سے اختلاف نہیں ، یہ ہمارا سیاسی کعبہ ہے ، پارلیمان کا تحفظ ہمارا فرض ہے، سوال یہ ہے کہ یہ کیسے پارلیمان ہےں ، ہم پارلیمنٹ جلانے نہیں بچانے آئے ہیں ، میری تربیت میں بے نظیربھٹو کی رہنمائی شامل ہے ، 1970ءکے بعد سے تمام الیکشن متنازعہ رہے ، اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر افراد ایوانوں میں آتے ہیں ، آئی جے آئی کو اسٹیبلشمنٹ نے ہی بنایا ، اصغر خان کیس میں بہت پردہ نشین بے نقاب ہوچکے ہیں ، سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس ثابت ہو چکا ہے ، تحریک انصاف کسی سکرپٹ کا حصہ ہے نہ بنے گی ، ہم آئین ، جمہوریت پر داغ نہیں لگنے دیں گے ، ہمارا رونا سترہ روزہ دھرنے کا نہیں ہے چودہ ماہ سے ہے ، تحریک انصاف نے آرٹیکل 245 کی مخالفت کی تھی ، تیسری قوت کو ہم نے نہیں بلایا ، سب کو پتہ ہے کہ تیسری قوت سے ثالثی کی درخواست کس نے کی ؟ ثالثی کو بعد میں سہولت کار بول دیا گیا، ہم کسی کے اشارے پر یہاں نہیں آئے ، ہم عوام کے اشارے پر آئے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر بدلتے رہتے ہیں،وہ کبھی نظر میں آتے ہیں اور کبھی نظر سے گر جاتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا یہاں تاثر ہے کہ ایک گرینڈ پلان ہے، کوئی اسکرپٹ ہے،تحریک انصاف کسی ایسے گرینڈ پلان کا حصہ نہیں بنے گی جو جمہوریت کے خلاف ہو آرٹیکل 245 کا استعمال حکومت کا حق ہے لیکن ہمارے ساتھ اپوزیشن کے کئی رہنماوں نے بھی اس کی مخالفت کی،ہمیں کہا جاتا ہے کہ تیسری قوت کو دعوت دے رہے ہیں، تاریخ بتائے گی کہ ثالثی اور سہولت کاری کی دعوت کس نے دی، آپ کہتے ہیں کہ دھرنا کسی کے اشاروں پر کیا گیا،یہ دھرنا تحریک انصاف کے اشارے پر کیا گیا۔ عمران خان نے بار بار کہاتھا کہ کہیں انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر نکلوں گا اور وہ سڑکوں پر نکلے،ہم یہاں لڑنے نہیں، بات کرنے آئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ آج میڈیا اور عدالت آزاد ہو چکی ہے ، ماضی میں یہی عدلیہ نظریہ ضرورت کے تحت مہریں لگاتی رہی ، ہم مارشل لاءکے مخالف ہیں، مارشل لاءکی مذمت اور مزاحمت کریں گے ، چار حلقوں کی بات عمران خان نے اسمبلی کے پہلے اجلاس میں کہی تھی ، یہ مطالبہ نیا نہیں ہے ، عوامی تحریک کے کارکنوں کو منع کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر نہ جائیں قادری صاحب کو منع کیا تھا کہ آپ کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روکیں لیکن مجھے کہا گیا کہ مجمع ان کے کنٹرول میں نہیں رہا ، ہم خون خرابہ نہیں چاہتے ، فوج کو ثالثی کےلئے درخواست کرنا میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی تھی۔انہوں نے کہاکہ ماڈل ٹاﺅن میں قتل عام کیا گیا پھر بھی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی ، کیا اس کو جمہوریت کہتے ہیں ؟ قادری ہمارے پابند نہیں ہیں، ماڈل ٹاﺅن میں خطرناک محاصرہ کیا گیا ، ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جب لاٹھی چارج ہو آنسو گیس ہو گولیاں چلائی جاتی ہوںتو لوگ افراتفری میں پارلیمنٹ میں گھسیں گے ، حکومت نے صحافیوں پر بھی تشدد کیا ، ہم سب دلدل میں پھنس چکے ہیں ، پارلیمنٹ ہی کودلدل سے نکالنا ہے ، ہم مذاکرات میں آگے بڑھ چکے تھے کہ ریڈ زون پر پولیس گردی کردی گئی ، ہماری جدوجہد آزادانہ منصفانہ ، شفاف انتخابات کےلئے ہے ، ہم خود مختار الیکشن کمیشن چاہتے ہیں، ہمیں انا چھوڑنا پڑے گی ، حکومت انا ترک کرے اور صاف شفاف مڈٹرم الیکشن کرائے ، تمام سیاسی جماعتیں گزشتہ الیکشن کو مسترد کرچکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ اگر ذاتی مفاد کے لئے اکٹھی ہوسکتی ہے تو عوامی مسائل کے حل کیلئے کیوں نہیں ، پارلیمنٹ عوام کو ریلیف نہیں دے سکی ، عوام غربت مہنگائی جہالت کا شکار ہے ، تحریک انصاف جمہوریت کی خاطر اب بھی مذاکرات کے لئے تیار ہے۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا پی ٹی آئی کے استعفوں کے باوجود شاہ محمود قریشی کو ایوان میں خطاب کرنے کی اجازت دینا دانشمندانہ فیصلہ ہے، قواعد و ضوابط سپیکر کو اس کی اجازت دیتے ہیں ‘ یہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کی فتح و کامرانی کا دن ہے ‘ پارلیمنٹ کو جعلی قرار دینے والے اسے تسلیم کر کے گئے ہیں ‘ سپیکر کے فیصلے پر تنقید کرنے والے اور پی ٹی آئی کے استعفے منظورکرنے کا مطالبہ کرنے والے یاد رکھیں کہ ان کے استعفے منظور کرنے سے استعفوں کی بارش ہو سکتی ہے ‘ پارلیمنٹ کے خلاف سازش ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی ‘ استعفے منظور ہو گئے تو پھر جرگہ تحریک انصاف سے کیسے مذاکرات کرے گا‘ دوہرے معیار کا مظاہرہ نہ کیا جائے ‘ اگر جاوید ہاشمی کے خطاب پر اعتراض نہیں تھا تو شاہ محمود قریشی پر بھی نہیں ہونا چاہیے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ ارکان سپیکر کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ سپیکر نے کوئی غیر قانونی فیصلہ نہیں کیا بلکہ جمہوریت کے حق میں فیصلہ کیا۔ آج جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو دھرنے کی اجازت دی جائے ۔ پی اے ٹی کو نہ دی جائے کیونکہ پی اے ٹی آئین اور قانون کو نہیں مانتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز طے ہوا کہ دھرنے والی پارٹیوں سے مذاکرات کیلئے سیاسی جرگہ بنایا جائے اگر ان کے استعفے منظور کر لئے گئے تو پھر جرگہ کس سے بات کرے گا۔ تحریک انصاف کی ایوان میں آمد سے ثابت ہو گیا کہ وزیر اعظم اور ایوان ڈٹے ہوئے ہیں وہ پسپا ہو گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی اس پارلیمنٹ کو تسلیم کر کے گئے ہیں، میڈیا پارلیمنٹ کی کامیابی کا اعلان کرے گی۔ پارلیمنٹ نے جمہوریت کی جنگ لڑی ‘ وقت آ گیا ہے کہ اپنی کامیابی پر پانی نہ پھیریں ‘ سازش اب بھی ہو رہی ہے اس لئے تحریک انصاف کے استعفے منظور کرنے کے مطالبے نہ کئے جائیں۔ میاں نوا زشریف نے طاقت میں ہونے کے باوجود طاقت استعمال کرنے سے گریز کر کے خو دکو حقیقی طاقتور ثابت کیاہے۔ آج کا دن جمہوریت اور پارلیمنٹ کی فتح اور کامیابی کا دن ہے اسے ضائع نہ ہونے دیا جائے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجونے کہا کہ پارلیمنٹ کو قبرستان بنانےکی باتیں کرنےوالوں کی سیاست کوکفن پہناکر پارلیمنٹ ہاوس میں ہی دفن کردیں گے ،آئین کو نہ ماننے والے پاکستان کو نہ ماننے کی بات کررہے ہیں، بار بار یہ کہنا کہ کفن لاﺅ، قبریں کھودو،کیا پارلیمنٹ ہاوس کو قبرستان بنانا چاہتے ہیں؟،ایسی باتیں کرنے والوں سے وعدہ ہے کہ ان کی سیاست پارلیمنٹ ہاوس میں دفن کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چین کے صدر نہ آ پائے تو پوچھوں گا کہ یہ دھرنا نواز شریف کے خلاف تھا یا پاکستان کے؟ہم نے جو سیاست سیکھی، اس کا پہلا سبق ہے کہ آپ کو اخلاقیات آنی چاہئیں،آپ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کوگریبان سے پکڑ کر باہر نکالوں گا،کل یہ کسی اور کو یہی کہہ دیں گے۔سینیٹر حاصل بزنجو نے سوال کیا کہ پاکستان اس وقت مشکل میں کیوں ہے؟ہم نے حکومت کو مجبورکیا کہ لانگ مارچ کرنیوالوں کو نہ روکیں۔ انہوں نے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھی زندگی بھرلانگ مارچ اوردھرنے دیئے ہیں لیکن اتناآرام دہ اورسکون والا لانگ مارچ ہم نے نہیں دیکھا،کہیں لانگ مارچ ناشتہ کررہا ہے کہیں لنچ اورکہیں ڈنرکررہا ہے،لانگ مارچ ایسے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں ماوزے تنگ کے مارچ میں سیکڑوں، ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاﺅ نے کہا کہ نواز شریف اگلے چار سال تک وزیراعظم رہیں گے، نئے پاکستان کا اسکرپٹ کسی پرانے پاکستان والے نے لکھاتھا، آج بغیر کسی کے ٹیلی فون کے سب یہاں آئے، یہ ہوتی ہے جمہوریت،یہ بحران گزر جائے گا، ہم اپوزیشن کا کردار ادا کرتے رہیں گے،دنیا یاد رکھے گی اس بحران میں بھی پارلیمنٹ نے اپنا کردارادا کیا۔ انہوںنے کہا کہ وہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی ناصر خٹک، گلزار خان اور مسرت احمد زیب کو اچھا فیصلہ کرنے پر مبارکباد دیتے ہیں،ان تینوں نے جمہوریت کا ساتھ دیا۔ خطاب کے دوران شیرپاﺅ نے اسپیکرقومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب، تحریک انصاف کے اراکین کو تب موقع دیں جب وہ اپنے الفاظ واپس لیں کہ یہ جعلی اسمبلی ہے، انہیں تب موقع دیں جب یہ باہر بیٹھے لوگوں کو اور سیکریٹریٹ میں موجود لوگوں کو واپس نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم کے نہیں، پارلیمنٹ کے اختیار میں ہے کہ وزیر اعظم استعفی دیں یا نہ دیں۔ آفتاب شیر پاوکا کہنا تھا کہ جو لوگ باہر بیٹھے ہیں، یہ جمہوری طریقہ نہیں، ایسے طریقے ہم اپنا بھی نہیں سکتے۔ شیر پاو نے دھرنا دینے والوں کو مشورہ دیا کہ چاہو تو فتح کا نشان بناتے ہوئے گھر چلے جاﺅ، لیکن وزیر اعظم کے استعفے کی بات ذہن سے نکال دو۔انہوں نے پارلیمنٹ اور صحافیوں پر حملے کرنے والوں کی مذمت کی۔ آفتاب شیرپاﺅ نے عمران خان اور طاہرالقادری کا نام لیے بغیر کہا کہ آج ایوان ایک ساتھ ہے تو باہربیٹھے دو بھائی بھی مل گئے، دونوں بھائیوں کا لندن میں گٹھ جوڑ شروع ہوا تھا۔ دھاندلی کے ثبوت کم از کم اپوزیشن پارٹیوں کو ہی دکھا دو،ثبوت دیکھ لیں گے تو ہم بھی پارلیمنٹ کی تحلیل اور وزیراعظم کے استعفی کا مطالبہ کریں گے۔ صحافیوں اور وکلا پرعمران خان کے الزامات کو شرمناک قراردیتے ہوئے آفتاب شپرپاﺅ نے کہا کہ جو ان کے خلاف بولے گا، اس پر الزام لگے گا، سیاست میں بھی کچھ رکھ رکھاﺅ ہوتا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کو بیورو کریسی ہضم نہیں کررہی ،چھوٹے صوبوں کو حقوق نہیں مل رہے ، بارہ مئی والوں کیخلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے ، وزیراعظم نے کسی کے دباﺅ میں استعفیٰ دیا تو ہم ان کیخلاف کھڑے ہوں گے ، طاہر القادری پارلیمنٹ کو جلانے کی بات کرتے ہیں ان کیخلاف ایکشن کیوں نہیں ہورہا ہے وزیراعظم کسی صورت خوفزدہ نہ ہوں پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں مگر حکمرانوں کو طرز حکمرانی بھی بدلنا ہوگا ، گزشتہ الیکشن میں ہم لوگوں اور کارکنوں کے جنازے اٹھاتے رہے ہیں وہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن تھے ۔ آئی ڈی پیز کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،آج اسلام آباد میں حکومت کی رٹ نہیں ہے ہم بچوں کی طرح چھپتے پھر رہے ہیں اور ہمیں پارلیمنٹ میں پہنچنے میں مشکلات ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -