پنجاب کے دریاؤں چناب،راوی اور ستلج میں سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری

پنجاب کے دریاؤں چناب،راوی اور ستلج میں سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری

  

گجرات(بیورو رپورٹ) محکمہ موسمیات نے صوبہ پنجاب کے دریاؤں چناب، راوی اور ستلج میں سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کی بارشوں کا ایک نظام بھارت سے ہوتا ہوا پنجاب کے مشرقی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض خان نے بتایا کہ اگر بارشوں کا یہ سلسلہ پاکستان کے علاقوں تک آ جاتا ہے تو یہ تیز ہواؤں اور بارشوں کا سبب بنے گا اور اس کی شدت چناب اور راوی میں اونچے درجے کہ سیلاب کا باعث بن سکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ بارشیں بھارت کی سرحد کے اندر اِن دریاں میں طغیانی کا باعث بن سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بارشوں کے سلسلے کا رخ بدلے جانے کا امکان بھی ہے تاہم فی الحال رجحان یہی بتاتا ہے کہ بارشیں اِس رخ ہی آ رہی ہیں۔ سیلاب آنے کی صورت میں سیالکوٹ، گجرانوالہ ڈویژن، وزیر آباد، منڈی بہاالدین کے علاوہ پنجاب کے نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ بھارت کے محکمہ موسمیات سے سیلاب یا موسم کی صورتحال پر معلومات کے تبادلے کے حوالے سے محمد ریاض کا کہنا تھا کہ بنگال سے آنے والا بارشوں کا یہ سلسلہ راجستھان کے علاقوں میں ہے اور فی الحال ایسی کوئی معلومات نہیں ملیں تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اگر دریائے چناب میں پانی 75 ہزار کیوسک تک چلا جاتا ہے تو بھارتی حکام وہ پاکستانی حکام کو مطلع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے دریاں کے لیے بھی حدیں مقرر کی گئی ہیں۔ محکمہ موسیمات کے مطابق ابھی سیلاب کی وارننگ نہیں بلکہ الرٹ جاری کیا گیا ہے تاہم آئندہ 24 سے 36گھنٹوں میں سیلاب کے بارے میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض خان کے مطابق مون سون کا سلسلہ عموما ستمبر کے وسط تک ختم ہو جاتا ہے تاہم کبھی کبھار یہ ستمبر کے آخر تک چلا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ ایل نینو کے اثرات کی وجہ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں بارشیں معمول سے بہت کم ہوئی ہیں۔ دریں اثناء ہندوستانی حکومت نے پاکستانی حکومت کو باضابط طور پر مطلع کا ہے کہ دریائے چناب میں 5,4 اور 6 ستمبر کو 4 لاکھ کیوسک سے لے کر 7 لاکھ کیوسک تک پانی داخل ہو سکتا ہے جس پر ڈی سی او گجرات لیاقت علی چٹھہ نے دریائے چناب پر واقع سینکڑوں دیہات کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کے لئے قریبی سرکاری سکولوں اور دیگر مقامات پر رہائش کا بندوبست کیا جارہا ہے مساجد سے اعلانات کروائے جارہے ہیں کہ لوگ ازخود اپنے مال مویشی اور قیمتی سازو سامان لے کر محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ اگر دریائے چناب میں 5 لاکھ کیوسک سیلابی ریلہ داخل ہوا تو اس سے ضلعی گجرات کے سینکڑوں دیہات میں تباہی مچ سکتی ہے ، جبکہ سیلابی ریلے کی پیش گوئی 5 لاکھ سے 7 لاکھ کیوسک تک کی گئی ہے یہ امر قابل ہے کہ 1973ء میں دریائے چناب میں 7 لاکھ کیوسک کے ریلہ نے تباہی مچادی تھی۔ جبکہ دوسری جانب ہیڈمرالہ کے مقام پر دریا ئے چناب کے پانی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -