عمران خان نے طاہر القادری کیساتھ گٹھ جوڑ کر کے تحریک انصاف کی سیاسی موت کا اعلان کر دیا ،شہباز شریف

عمران خان نے طاہر القادری کیساتھ گٹھ جوڑ کر کے تحریک انصاف کی سیاسی موت کا ...

  

                              لاہور(پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کچھ لوگو ںنے اسلام آباد پر لشکرکشی کے ذریعے عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی تذلیل کی کوشش کی لیکن پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی یکجہتی کی وجہ سے انہیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے یقین ہے کہ جاوید ہاشمی کے بعد تحریک انصاف کے بہت سے رہنما اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسی اخلاقی جرا¿ت کا مظاہرہ کریں گے تاکہ آنے والا مو¿رخ سیاسی تاریخ رقم کرتے ہوئے انہیں پاکستان اور جمہوریت کے دشمنوں میں شمار نہ کرے۔وہ یہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے طاہرالقادری کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے تحریک انصاف کی سیاسی موت کا اعلان کر دیا ہے اور یہ بات پوری قوم جان چکی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت بھی عمران خان کے آمرانہ اور غیر جمہوری رویوں کے باعث نالاں ہے اور ان کے بے شمار ساتھی ”گو عمران گو“ کے نعرے لگاتے ہوئے پارٹی سے راہیں جدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے دھرنے تک عمران خان نے جتنے یو ٹرن لئے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ آج وہ سیاسی طور پر بالکل تنہا کھڑے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے ساتھ قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ پوری قوم کی آواز ہے۔ بلاشبہ اس نازک موڑ پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے جس بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ہے وہ جمہوریت اور جمہوری نظام کے استحکام کیلئے خوش آئند ہے۔ وزیراعلیٰ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کی جانب سے جمہوری نظام کے تحفظ کیلئے تقاریر کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کا جمہوری نظام کے تحفظ کا عزم ایک تاریخی واقعہ ہے۔ انہو ںنے کہا کہ عمران خان اور طاہرالقادری نے احتجاجی سیاست کو آزما کر دیکھ کر لیا ہے اور عوام نے احتجاجی سیاست کو مسترد کرکے اپنی رائے دے دی ہے۔ہر محب وطن پاکستانی نے پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاﺅس اور پی ٹی وی کی عمارت پر یلغار کی سخت مذمت کی ہے۔ ملک کے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے درپے سیاسی عناصر جان لیں کہ اگر ملک عدم استحکام کا شکار ہوا تو ذمہ دار بھی عمران خان اور طاہرالقادری ہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاستدان کا اوڑھنا بچھونا سیاست اور عوام کی طاقت ہونا چاہیئے جس کا اظہار عوام ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ بہت اچھا ہوتا اگر عمران خان ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انہیں اس کا آغاز مئی 2013ءمیں خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد کر دینا چاہیئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں فیصلے سڑکوں پر نہیں ہوتے بلکہ پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہمیشہ سیاسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حامی رہی ہے۔ لانگ مارچ سے لے کر دھرنے تک حکومت نے ہر مرحلے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -