شاہ محمود قریشی پارلیمنٹ میں،استعفے دیئے جواب سنے بغیر چلے گئے

شاہ محمود قریشی پارلیمنٹ میں،استعفے دیئے جواب سنے بغیر چلے گئے
شاہ محمود قریشی پارلیمنٹ میں،استعفے دیئے جواب سنے بغیر چلے گئے
کیپشن: 1

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

شاہراہ دستور پر دھرنوں کے جو حالات ہیں اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے، تحریک انصاف کا دھرنا حجم میں کم ہوتے ہوتے اتنا چھوٹا ہو گیا کہ اسے پاکستان عوامی تحریک کا سہارا لینا پڑا، بہرحال عوامی تحریک والے تاحال پارلیمنٹ کے سبزہ زار، پی ٹی وی چوک کے کنٹینروں اور شاہراہ دستور پر گھروں کی طرح قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ پارلیمنٹ ہاﺅس میں مشترکہ اجلاس جاری ہے۔اراکین پارلیمینٹ کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے۔عمران خان کے فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی شاہ محمود قریشی کی قیادت میں آئے۔شاہ محمود قریشی نے اپنے زور دار لہجے میں اپنی جماعت کا موقف پیش کیا جسے انہوں نے آئین اور جمہوریت کی پاسبان، پُرامن اور متحمل قرار دیا،پارلیمنٹ کے باہر شاہراہ دستور، پی ٹی وی پر قبضے اور وزیراعظم ہاﺅس کے سامنے دھرنے وغیرہ کو انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے کھاتے میں ڈال دیا اور کہا کہ جب ڈاکٹر طاہر القادری نے ڈیڈ لائن ختم ہونے پر مارچ کا اعلان کیا تو عمران خان کے کہنے پر وہ (قریشی) پارٹی کے دوسرے دوستوں کو ساتھ لے کر ان کے پاس گئے اور منت کی، ہاتھ جوڑے کہ وہ آگے نہ جائیں، لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ لوگ ان کے بس میں نہیں رہے، وہ مجبور ہو گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کی تقریر تحمل سے سنی گئی بلکہ ایک مرحلے پر جب سپیکر نے ان کو تقریر مختصر کرنے کے لئے کہا تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اٹھ کر درخواست کی کہ ان کو بول لینے دیں۔شاہ محمود اپنی تقریر مکمل کرکے ساتھیوں سمیت چلے گئے اور جواب میں دوسرے اراکین کی رائے نہ سنی اس پر بعد میں ناراضی کا اظہار ہوا۔

شاہ محمود قریشی نے ایوان کو یہ ضرور بتایاکہ مذاکرات پھر سے شروع ہیں اور اپوزیشن کے چھ رکنی جرگہ سے چار بجے عبدالرحمن ملک کے گھر پربات ہوگی۔ان کا دعویٰ تھاکہ تحریک انصاف کی طرف سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور کی جائے گی۔شاید اسی وجہ سے تحریک انصاف کے اراکین نے اپنے دیئے گئے استعفوں کے مطابق جاوید ہاشمی کی طرح مستعفی ہونے کا اعلان مناسب نہیں جانا، قوم مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہے۔

منگل کے روز جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا تو وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اپنے انداز میں حکومتی کیس پیش کیا، اس میں سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ دھرنا اور احتجاج والوں کے ساتھ تربیت یافتہ دہشت گرد بھی اسلام آباد میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ اطلاع ہے جو یقینا ایجنسیوں کی ہوگی، اگر حکومت کو ایسے لوگوں کو پکڑنا ضروری ہے تو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ یہ دہشت گرد تو دھرنا ختم ہو جانے کے بعد بھی یہاں رہ جائیں گے۔آج زیادہ گزارش نہ ہو تو بہتر ہے کہ مذاکرات کے نتائج کا انتظار بہتر اور مثبت توقع رکھنا چاہیے۔دوسری صورت میں اب مزید گنجائش نہیں رہی کہ اسلام آباد کو خالی کرایا جائے اور اس کے لئے مناسب حکمت عملی وضع کی جائے۔تاحال بحران موجود ہے اور اعصاب کشیدہ ہیں۔

مزید :

تجزیہ -