خاتون اہلکارکو اپنی نازیبا تصویرٹوئیٹ کرنامہنگاپڑگیا

خاتون اہلکارکو اپنی نازیبا تصویرٹوئیٹ کرنامہنگاپڑگیا

  

برن (مانیٹرنگ ڈیسک) سوئٹزرلینڈ میں پارلیمنٹ کی ایک خاتون اہلکار کو برہنہ تصویرمائیکروبلاگنگ ویب سائٹ پر شائع کرنے پر نوکری سے فارغ کردیاگیاہے۔ تفصیلات کے مطابق سوئس پارلیمان کی پارلیمان میں ایک سیکریٹری کے عہدے پر کام کرنے والی خاتون نے اپنے دفتر میں کئی برہنہ سیلفیز بنا کر اسے ٹوئٹر پر پوسٹ کر دیا تھاتاہم خاتون کی شناخت ظاہرنہیں کی گئی۔یہ بھی معلوم نہیں ہوسکاکہ خاتون نے اپنی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟پارلیمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پارلیمان کے وقار کو خطرے میں ڈالنے کے بعد خاتون اہلکار کی نوکری کو باہمی رضامندی سے ختم کر دیا گیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق حکام نے اس وقت اس واقعے کی تحقیقات شروع کیں جب کسی نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ تصاویر دارالحکومت برن میں واقع سوئس پارلیمان میں لی گئی تھیںاورفیصلہ ہواکہ مذکورہ خاتون اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی قابل نہیں رہی تھیں۔خاتون اہلکار نے گذشتہ ہفتے سوئس اخبار این زی زی کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں تصاویر شائع کرنے سے کسی قاعدے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہ تصاویر ان کی نجی زندگی کا حصہ ہیںلیکن پارلیمان نے اپنے عملے کو دیے گئے تجاویز میں کہا ہے کہ وہ صرف وہی تصاویر اور الفاظ شائع کر سکتے ہیں جنھیں وہ اپنے دیگر ساتھیوں کو دکھانے میں جھجھک محسوس نہ کریں۔

مزید :

صفحہ آخر -