بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتا نوموبے مےں قےدےوں کے ساتھ شرمناک سلوک

بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتا نوموبے مےں قےدےوں کے ساتھ شرمناک سلوک

  

ہوانا (نیوز ڈیسک) بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتا نوموبے کے ایک قیدی نے انکشاف کیا ہے کہ جیل کے حکام نے تشدد کا ایک نیا خوفناک حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے جس میں احتجاج کرنے والے یا بات نہ ماننے والے قیدیوں کے ہاتھ اور پاﺅں توڑے جارہے ہیں۔ اس قید خانے میں امریکہ نے ایسے لوگوں کو قید کررکھا ہے جسے وہ انتہائی خطرناک دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور خود امریکی عدالتیں اس قید خانے کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں متعدد قیدی بغیر کسی ثبوت اور مقدمے کے قید ہیں۔یمن سے تعلق رکھنے والے قیدی عماد حسن نے اپنے وکیل کو ایک خط میں بتایا ہے کہ قیدیوں کو ان کی کوٹھڑیوں سے زبردستی نکال کر تشدد کیا جاتا ہے۔ بعض قیدیوں کو دن میں آٹھ آٹھ بار تشدد کا نشانہ بنای اجاتا ہے اور کسی بھی مزاحمت کی صورت میں ایک خصوصی ٹیم قیدیوں کے ہاتھ پاﺅں توڑنے پر مامور ہے۔عماد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے اور مزید یہ کہ 2009ءمیں اس کی رہائی کے حکم کے باوجود وہ ابھی تک بدترین قید میں ہے اور یہی معاملہ درجنوں اور قیدیوں کے ساتھ بھی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -