مشاہدحسین سید نے تحریک انصاف کے استعفے منظور نہ کرنے کی سفارش کردی

مشاہدحسین سید نے تحریک انصاف کے استعفے منظور نہ کرنے کی سفارش کردی
مشاہدحسین سید نے تحریک انصاف کے استعفے منظور نہ کرنے کی سفارش کردی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )مسلم لیگ ق کے رہنماءاورسینیٹرمشاہدحسین سید نے تحریک انصاف کے اراکین کے استعفے منظور نہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہاکہ معاملات جلد حل ہوجائیں گے ، پڑوسی ملک کے صدر پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں اور اچھاپیغام دینے کی ضرورت ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ پاکستان کو درپیش مسائل کو ئی ایک طبقہ یاشخص حل نہیں کرسکتا، نوجوان طبقے کو بہترمستقبل فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، داعش کا نیاہدف پاکستان اور افغانستان ہے ۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید کاکہناتھاکہ مشتر کہ اجلاس کے نتائج سامنے آرہے ہیں ، اچھی بات ہے کہ اس بحران کے فیصلے میں پارلیمان نے اہم کرداراداکیا اور مذاکرات کا فیصلہ قابل تعریف ہے کیونکہ مودی اور طالبان سے بات ہوسکتی ہے تواِن سے بھی ہونے چاہیے تھے اورملک کامستقبل جمہوریت سے ہی وابستہ ہے ، سفارش کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے استعفے قبول نہ کیے جائیں ۔

اُنہوں نے کہاکہ پاکستان خود جمہوریت کی پیداوارہے اورآج کے بدلے ہوئے پاکستان میں نئے حقائق تسلیم کر نا ہوں گے ، بہترین کل کی حکمت عملی آج بناناہو گی ، چینی صدر کا دورہ بہت کامیاب رہے گا ، چین سے ہمارے تعلقات قومی وحدت کے زمرے میں آتے ہیں ۔

اُن کاکہناتھاکہ سلالہ کے حملے پر پارلیمان کے فیصلے فوج ،آئی ایس آئی اور امریکہ نے قبول کیا اور توقع ہے کہ موجودہ بحران کا پرامن حل نکل آئے گا ، اچھی بات ہے کہ کسی شہزادے یا سفیر کو نہیں بلایا گیا ، خطروں سے نمٹنے کے لیے ملکر چلنا ہوگا،آرمی چیف بھی اچھے اور تعاون کرنیوالی شخصیت ہیں ، مکمل فوجی ہیں۔مشاہدحسین سید نے کہاکہ آئی ڈی پیز کے مسائل پر کسی نے بات نہیں کی،ایک آدھ رکن کے علاوہ کسی نے نہیں کہاکہ انہیں کوئی نہیں پوچھ رہا ،داعش کا نیا ہدف پاکستان اور افغانستان ہے ۔

مشاہدحسین سید کاکہناتھاکہ اب گیند وزیر عظم کی کورٹ میں ہے ، مغل بادشاہت کے مزاج کو منڈیلا کے مزاج میں بدلناہوگا، مودی بھی عام آدمی تھے ، چائے بیچتے تھے اور آج بھارت کے وزیراعظم ہیں ۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -