طالبان کی شریعت نہیں مانی ڈنڈا بردار سیاست کیسے مان لیں؟:پروفیسر ساجد میر

طالبان کی شریعت نہیں مانی ڈنڈا بردار سیاست کیسے مان لیں؟:پروفیسر ساجد میر
 طالبان کی شریعت نہیں مانی ڈنڈا بردار سیاست کیسے مان لیں؟:پروفیسر ساجد میر

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ہم نے صوفی محمد،لال مسجد والوں اورطالبان کی ڈنڈا بردار شریعت قبول نہیں کی، ان کی ڈنڈا بردار سیاست کیسے مان لیں۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے استعفے کامطالبہ نا منظورہے، اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں،طالبان سے مذاکرات کیے،ان سیاسی طالبان سے بھی مذاکرات کررہے ہیں،جس طرح طالبان سے کی گئی اسی طرح سیاسی طالبان سے بھی سختی کرنا پڑیگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ باہر بیٹھے دونوں رہنماﺅں کا تکبر بہت واضح ہے ، یہ دونوں زبردستی خود کو اوراپنے پسندیدہ نظام کو ہم پرلانا چاہتے ہیں۔پروفیسرساجد میر کا کہنا تھا کہ اسلام جمہوریت کے ذریعے ہی رائج ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ طاہر القادری بتائیں کہ نبی پاکﷺ نے کس جنگ میں عورتوں اور بچوں کو آگے کیا ؟، وہ بتائیں کہ انقلاب کی رات لیلة القدر سے بڑی کیسے ہوسکتی ہے ؟،طاہر القادری جو باتیں کر رہے ہیں وہ عام آدمی کو زیب نہیں دیتی ہیں ۔

 انہوں نے عمران خان پر تنقید کر تے ہوئے کہا کہ عمران خان سے کہنا چاہتا ہوں انہیں خیبر پختونخوا میں رنز بنانے کے بعد مر کز میں آنا چاہیے تھا ، وہ نوبال پر نوبا ل کیے جا رہے ہیں ، انہیں مشورہ دوں گا کہ یہ کرکٹ نہیں سیاست ہے ، عمران خان کی گفتگو فاﺅل پلے ہے ، احتجاج جمہوی حق لیکن یلغار اور بغاوت دوسر ی چیز ہے ، فوج اس وقت دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے ، اس وقت دھر نے دینا غلط ہے ۔

انہوں نے میڈیا کو اپنی تنقید کی لپیٹ میں لیتے ہوئے کہا کہ میڈیا عمران خان کی خالی کرسیاں بھی دکھا دیا کرے ۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -