داعش کے ہاتھوں قتل دوسرے صحافی کے لواحقین کا بغدادی کو چیلنج

داعش کے ہاتھوں قتل دوسرے صحافی کے لواحقین کا بغدادی کو چیلنج
داعش کے ہاتھوں قتل دوسرے صحافی کے لواحقین کا بغدادی کو چیلنج

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق اور شام میں سرگرم جنگجو گروپ ISISکے ہاتھوں قتل ہونیوالے دوسرے امریکی صحافی سٹیون سوٹلوف کے لواحقین نے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو قرآن میں امن کی تعلیمات کے حوالے سے مناظرے کا چیلنج دے دیاہے اور بتایاہے کہ آنجہانی ایک نرم مزاج انسان تھے۔

داعش نے منگل کے روز ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک نامعلوم جنگجو کو سوٹلوف کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔سوٹلوف کے خاندان کے ترجمان کا کردار ادا کرنے والے دوست بارک برفی نے خاندان کی طرف سے ایک بیان تیار کیا جس میں آنجہانی کو خوش خوراک اور امریکی فٹبال کا شوقین بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مقتول ساﺅتھ پارک نامی ٹی وی سیریز بڑے شوق سے دیکھا کرتا تھا، وہ اپنے والد سے گالف سے متعلق بھی ڈھیروں باتیں کیا کرتا تھا۔بیان کے مطابق31سالہ سوٹلوف دو کشتیوں کا ایک سوار تھا کہ جسے عرب دنیا نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا, اسے جنگ کا کوئی شوق نہیں تھا وہ تو صرف ان لوگوں کو آواز دینا چاہتا تھا کہ جن کے پاس اپنی آواز پہنچانے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں تھا۔

انہوں نے ISISکے قائد ابوبکر البغدادی کو اسلام پر مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ رمضان تو رحمت کا مہینہ تھا مگر تم اپنی رحمت دکھانے میں ناکام رہے، تم سے امن کی تعلیمات کے ساتھ مناظرے کو تیار ہوں،ہاتھ میں کوئی تلوار نہیں ہے اور میں تمھارے جواب کے لئے تیار ہوں۔

سوٹلوف کو اگست 2013 ءمیں ترکی سے شام جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ٹویٹر پیغام میں بتایا کہ سوٹلوف کے پاس اسرائیلی شہریت بھی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -