گاڑیوں کی نیلامی، ایم سی بی انتظامیہ کاخریدار سے دھوکہ

گاڑیوں کی نیلامی، ایم سی بی انتظامیہ کاخریدار سے دھوکہ
گاڑیوں کی نیلامی، ایم سی بی انتظامیہ کاخریدار سے دھوکہ

  

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) مسلم کمرشل بینک کی انتظامیہ مبینہ طورپر جعلسازی میں ملوث نکلی۔ ایکسائزاینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے مسلم کمرشل بینک سے نیلام کی گئی گاڑی کی ٹرانسفر کو جعلی قرار دیتے ہوئے کینسل کردیا۔ دوسری طرف نیلامی میں گاڑی خریدنے والے شخص کے مطابق ایم سی بی کی انتظامیہ نے اس کے ساتھ فراڈ کیا ہے۔البتہ ایم سی بی کے وائس پریذیڈنٹ کا کہناہے کہ بینک نے اصل گاڑی بیچی تھی ۔جعلسازی کسی اور نے کی ہے۔معلوم ہواہے کہ موٹر رجسٹریشن اتھارٹی لاہور ٹائی اپ نے گزشتہ دنوں ایم سی بی لاہور کے خلاف ایک فیصلہ سنایا ہے۔ کوٹ عبدالمالک کے محمد اشفاق نامی شخص نے ایکسائز اینڈٹیکسیشن موٹر برانچ لاہور سے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ایم سی بی نے

 فیصل ٹاﺅن لاہور کے محمد شیراز نامی شخص نے گاڑی نمبر LWM-5125ٹیوٹا کروالاماڈل2006 قسطوں پر بیچی۔ کچھ ہی عرصہ بعد محمد اشفاق نے یہ گاڑی محمد شیراز سے خرید کر قسطیں ادا کرنا شروع کردیں۔اسی دوران محمد شیراز بیرون ملک چلا گیا جس کے باعث محمد اشفاق گاڑی کی تمام قسطیں ادا کرنے کے باوجود گاڑی کی اصل فائل حاصل کرکے گاڑی اپنے نام ٹرانسفر نہ کرواسکا۔یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا کہ اچانک ایک دن محمد اشفاق نے ایک دوسری گاڑی دیکھی جس پر LWM-5125کی ہی نمبر پلیٹ آویزاں تھی۔اس پر محمد اشفا ق نے پریشان ہوگیا اور اس نے ایک طرف تھانہ سمن آباد میں مقدمہ نمبر 38/14درج کروادیااور دوسری طرف ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے ڈائریکٹر موٹرز سے رجوع کیا ۔ محکمے نے انکوائری کی تو یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ گاڑی 30دسمبر 2008کو جلیس ارشد کے نام ٹرانسفر ہوئی جس نے 24ستمبر 2009کو یہ گاڑی عرفان الحق کو بیچ دی اور عرفان الحق نے 10جنوری 2011کو گاڑی محمد خضرحیات کو بیچ دی۔دوران انکوائری جلیس ارشد انصاری نے ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے روبروتحریری بیان دیا کہ اس نے یہ گاڑی مسلم کمرشل بینک سے خرید ی ۔ ایم سی بی نے اس کے ساتھ فراڈ کیا ہے۔ اور نیلامی میں اسے بوگس گاڑی دیدی ، جو کہ خضرحیات کے قبضہ سے پکڑی گئی۔اور

معائنے میں یہ بات سامنے آئی کہ ایم سی بی کی طر ف سے نیلامی میں بیچی جانے والی گاڑی کا اصل نمبر LWM -5125کی بجائےLWQ-6404ہے۔لہذا یہ گاڑی اب اس کے نام سے کینسل کردی جائے اور اس سلسلے میں جو ڈپلیکیٹ رجسٹریشن بک جاری کی گئی ہے۔ اسے بھی کینسل کیا جائے۔ذرائع کے مطابق مسلم کمرشل بینک کی انتظامیہ نے قسطوں کی عدم ادائیگی پر محمد شیراز کو بیچی جانے والی گاڑی قبضے میں لیتے ہوئے بذریعہ نیلامی جلیس ارشد انصاری کو بیچ دی اور جلیس ارشد انصاری نے بینک سے گاڑی کی اصل فائل اور ڈپلیکٹ رجسٹریشن بک حاصل کرکے گاڑی قبضے میں لے لی۔ حالانکہ محمد شیراز کی گاڑی ،اور اصل رجسٹریشن بک محمد اشفاق کے قبضے میں تھی۔جس کے مطابق وہ بینک کو باقاعدگی سے قسطیں بھی ادا کررتا رہا۔ یوں بینک انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت اور غفلت کے باعث ایک ہی نمبر پر دو الگ الگ گاڑیاں چلتی رہیں۔اس سلسلے میں بینک کا موقف جاننے کے لیے مسلم کمرشل بینک کے وائس پریذیڈنٹ برائے آپریشنز اینڈ کریڈٹ محمد ثاقب تاجی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہناتھا کہ ان کے پاس ایک شخص شکایت لیکر آیا تھا۔ لیکن اس نے دوبارہ رجوع نہیں کیا۔ بینک نے جلیس ارشد انصاری کو اصل گاڑی بیچی ہے۔ اب فراڈ جلیس ارشد انصاری نے کیا ہے یا کسی دوسرے نے کچھ کہ نہیں سکتے۔ان سے

 پوچھا گیا کہ اگر بینک نے جلیس ارشد انصاری کا اصل گاڑی بذریعہ نیلامی فروخت کی ہے۔ تو محمد اشفاق کے پاس گاڑی دوسری گاڑی کیسے موجود ہے۔ اور محمد اشفاق کی درخواست پر لاہور کے تھانہ سمن آباد نے مقدمہ کیوں درج کیا اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے جلیس ارشد انصاری کے نام ٹرانسفر ہونے والی گاڑی کو بوگس قرار دیتے ہوئے ٹرانسفر کینسل کیوں کی۔اور جلیس ارشد انصاری نے محکمے کے روبرو تحریری طورپر کیوں کہا کہ ایم سی بی نے اس کے ساتھ فراڈ کرتے ہوئے اسے دونمبر گاڑی بیچی ہے۔اس پر بینک کے وائس پریذیڈنٹ کوئی جواب نہ دے سکے۔

مزید :

لاہور -