26 سال قبل مسلمان ہونے والے کے ہاتھ پر ایک لاکھ 8 ہزار افراد نے اسلام قبول کیا

26 سال قبل مسلمان ہونے والے کے ہاتھ پر ایک لاکھ 8 ہزار افراد نے اسلام قبول کیا
26 سال قبل مسلمان ہونے والے کے ہاتھ پر ایک لاکھ 8 ہزار افراد نے اسلام قبول کیا

  

بدین (ویب ڈیسک) 1989ءمیں اسلام قبول کرنے والے سابق ہندو دین محمد شیخ نے تبلیغ کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے ایک لاکھ 8 ہزار افراد کو اسلام قبول کرا دیا۔ دیگر مذاہب کے افراد کے ذہنوں میں اسلام کی حقانیت راسخ کرنے کی بے مثال قوت رکھنے والے 70 سالہ بزرگ جامع مسجد اللہ والی اور مدرسہ عائشہ تعلیم القرآن کے سربراہ ہیں۔سندھ کے علاقے ماتلی کے اس ادارے میں لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔

شیخ دین محمد نے کہا میری دلی خواہش ہے کہ پوری دنیا مسلمان ہوجائے۔ میں اسلام سے محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بتایا کہ میں نے قرآن پڑھا اور سمجھ لیا کہ 360 خداﺅں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق شیخ کی والدہ نے جب دیکھا کہ وہ اسلام میں دلچسپی لے رہے ہیں تو اس نے 15 سال کی عمر میں اس کی شادی کردی تاہم گھریلو مصروفیات بڑھنے کے باوجود اس کا تجسس ختم نہ ہوا۔ پھر شیخ کا تعلق سائیں محمد جگسی سے ہوا جس نے دین محمد کو قرآن و حدیث سے آشنا کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ کی بیٹی کی جب ہندو سے شادی ہوئی تو شیخ نے اپنے خاندان کو اسلام کی دعوت دینا شروع کردی۔ جنرل ریٹائرڈ سکندر حیات نے اس حوالے سے دین محمد کا تعاون کیا اور نئے اسلام قبول کرنے والوں کو اپنی شوگر ملز میں روزگار مہیا کئے۔

اب دین محمد کی شہرت بلوچستان تک پہنچ گئی ہے اور ہر مذہب کے لوگ آکر ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان کی رہائشی عمارت میں ایک چھوٹی مسجد قائم کی گئی ہے۔ مسجد کے ساتھ کچھ کمروں میں بچیوں کو قرآن کی تعلیم دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ شیخ دین محمد فرقہ وارانہ تقسیم پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ ہر سال رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع میں بھی شرکت کرتے ہیں۔

مزید :

بدین -