روس،چین،پاکستان ،ایران اتحاد زیادہ دور نہیں

روس،چین،پاکستان ،ایران اتحاد زیادہ دور نہیں
 روس،چین،پاکستان ،ایران اتحاد زیادہ دور نہیں

  



حالیہ دنوں میں روسی صدر نے تاشقند میں صدر پاکستان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب مسلمان ہیں" جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے مشترکہ دشمن کے ہاتھوں اذیت اٹھائی ہے" جس نے گزشتہ تین دہائیوں میں نصف درجن سے زائد مسلم ممالک کو تباہ و برباد کیاہے اور دو ملین سے زائد بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا اور اب روس کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔روس کے خلاف غیر منصفانہ اقتصادی پابندیوں اور تیل کی سپلائی لائن’جسے زندگی کی علامت کہنا بجا ہوگا’ کو بلاک کر کے اسے تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح روسی اور مسلمان دونوں ہی پسے ہوئے ہیں جن کا مقصدایک ہے ’ یعنی عالمی سطح پر ظلم وبربریت کی ذمہ دار شیطانی قوتوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ "یہ نظریہ دنیا کو مستقبل کے تصادم سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے روسی صدر کا وژن (Vision) ہے۔"

اس تصادم کے پس منظرسے ایک نیا منظر نامہ سامنے آتا ہے جونئے عالمی تزویراتی نظام کے خدوخال کو واضح کرتا ہے اور کافی حد تک ماضی کی سرد جنگ سے مشابہ ہے لیکن اس کی حدود مختلف ہیں کیونکہ اس کا ہدف دنیا کے تمام اقتصادی قوت کے مراکز کو اپنے حصار میں لینا ہے جن کی نشاندہی امریکہ کے تزویراتی مرکز(Asian Pivot) کی ایشیا کی جانب تبدیل ہونے والی حکمت عملی سے ہوتی ہے۔ لہذا۔ Trans Pacific Partnership (TPP) اتحاد بنایا گیا ہے جس کا مقصدچین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی و عسکری قوت کا توڑ کرنا ہے جس سے امریکہ کے Indo -Pacific Region میں توسیع پسندانہ عزائم کو چیلنج درپیش ہے۔ غیر جانبدار بھارت نے 29 اگست کوواشنگٹن کے ساتھ (LEMOA) معاہدہ کیا ہے’ جس کی رو سے دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کی عسکری سہولتیں استعمال کر سکیں گی۔بھارت نے ماضی میں کبھی کسی غیر ملکی قوت کو اپنے عسکری ٹھکانے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اب وہ غیر جانبداری کے دیرینہ موقف سے مکمل طور پردستبردارہو چکا ہے۔اس وقت بھارت جدید اسلحہ و عسکری سازوسامان کا سب سے بڑا خریدار ہے اور امریکہ اسلحہ فروخت کرنے والا سب سے بڑا تاجر ہے اوریہ امردونوں ممالک کیلئے باہمی ملاپ کا سبب ہے کیونکہ امریکہ عنقریب بھارت کو150 بلین ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ فروخت کرے گا۔اب اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں رہاکہ بھارت دنیا کی ایک سپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ اس کے 600 ملین سے زائد بھارتی عوام خط غربت سے نیچے کی زندگی گزار نے پر مجبورہیں۔

نیٹو اور دیگر اتحادیوں کے جدید ترین اسلحہ اور تکنیکی سہولیات سے آراستہ لڑاکا فوجیوں کی امداد کے باوجودامریکہ افغانستان کی طویل ترین جنگ ہار چکا ہے لیکن وہ شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا جیسا کہ 1989 ء میں روس نے اپنی شکست کھلے دل کے ساتھ قبول کر لی تھی۔ امریکیوں میں حقائق تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں ہے اس لئے اب وہ 1990ء کی طرح دھوکے اور سازشوں میں مصروف ہے تاکہ افغانستان میں طالبان کی سربراہی میں اسلامی مملکت کے قیام کو روکا جا سکے۔اب انہوں نے امریکہ’بھارت اورافغانستان کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے تاکہ اشرف غنی کی ڈگمگاتی ہوئی حکومت کو سہارا دیا جاسکے لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہوں گے کیونکہ انہوں نے افغانوں کی ذہنیت کو سمجھا ہی نہیں جو گذشتہ پینتیس (35)سال سے اپنے نظریے، اقدار اور روایات کے تحفظ کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے نظریاتی اثاثے کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے للکارا مگر جارحیت کی مرتکب قوتوں نے اس مشہورچینی کہاوت کو فراموش کردیا کہ ’’انقلابیوں سے اس وقت تک مت الجھو جب تک تمہیں یقین نہ ہوکہ تمہارا نظریہ ان کے نظریے سے زیادہ مستحکم ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی نظریہ افغانوں کے نظریے یعنی نظریہ اسلام سے بہتر نہیں ہے۔

امریکہ، بھارت اور افغانستان پر مشتمل اس شراکتی معاہدے نے روس، چین اور پاکستان کوعلاقائی اتحاد تشکیل دینے پر مجبور کیا ہے جس میں ایران بھی شامل ہوجائیگا کیونکہ ایٹمی معاہدے کے بعدامریکہ کا سحرٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ ایران نے روسیوں کو شام میں باغیوں کی سرکوبی کیلئے ہمدان ائربیس استعمال کرنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ افغان طالبان نے پہلے ہی روس ’ چین اور ایران کے ساتھ اچھے مراسم قائم کررکھے ہیں جبکہ پاکستان کے حوالے سے بھی وہ فکر مند نہیں ہیں جو افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بنا تھا۔ ملا عمر نے پاکستان کو بڑے واضح الفاظ میں یاد دلایا تھا کہ:’’آپ نے ہمارے خلاف جنگ میں ہمارے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم پاکستان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے قومی مفادات اور منزل مشترک ہیں۔‘‘ ان کے یہ الفاظ روس، چین، پاکستان،ایران اور افغانستان پر مشتمل اتحاد(RCPIA) قائم ہونے کا واضح اشارہ ہیں جس سےLEMOA اورUIAP جیسے معاہدوں کا نہ صرف توڑ کیا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔میں نے گذشتہ سال اپنے مضمون بعنوان "افغانستان۔۔۔۔ملا عمر کے بعد" میں لکھا تھا کہ:

’’عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے مفادات نے افغان مسئلہ کو مزید الجھا دیا ہے۔امریکہ اور ان کے اتحادی افغانستان کو غیرمستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ روس،چین، پاکستان اور ایران کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کا توڑ کیا جا سکے اورچین۔پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)کے فوائدپاکستان سے باہر نہ پھیل سکیں۔ادھربھارت ’پاک چین اقتصادی راہداری کے اثرات کی وجہ سے زیادہ فکر مند ہے کیونکہ بھارتی پنجاب میں جاری خالصتان تحریک اور تحریک آزادی کشمیر میں بڑھتی ہوئی شدت دونوں تحریکوں کے مابین ہم آہنگی کی دلیل ہے۔ان تحریکوں کے علاقے اپنے آپ کو پاک چین اقتصادی راہداری کے اقتصادی فوائد سے محروم رہ جانے کے خوف میں مبتلا ہیں کیونکہ پاکستان نے 'بھارت کوپسندیدہ ترین ملک کا درجہ نہ دینے ' کا فیصلہ کیا ہے جس کے سبب بھارت کی شمال کی جانب دیکھنے کی پالیسی بے ثمر رہے گی۔یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے جس کے سبب خطے کے تزویراتی اور سیاسی حقائق اقتصادی ترجیحات کے تابع نظر آتے ہیں۔’’

خطے کے بدلتے ہوئے تزویراتی اورسیاسی حقائق پاکستان کیلئے روشنی کی کرن ہیں کہ ‘‘ہم امریکہ کے بوجھ ‘‘ سے آزادی حاصل کریں اور روسی صدر پیوٹن کے نظریے کو قبول کرتے ہوئے عالم اسلام کے پسے ہوئے ممالک کی صف میں شامل ہوکران کے مصائب میں شریک ہوجائیں تاکہ روسی صدر کا ‘‘دنیا کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا نظریہ’’ حقیقت کا روپ دھار سکے۔

مزید : کالم