محمدعرفان کی لیڈزآمد۔۔۔کارڈف۔۔۔اورحمیدکی سوگواریاد

محمدعرفان کی لیڈزآمد۔۔۔کارڈف۔۔۔اورحمیدکی سوگواریاد
محمدعرفان کی لیڈزآمد۔۔۔کارڈف۔۔۔اورحمیدکی سوگواریاد

  

(تحریرراجہ اسدعلی خان)حمید کو میں گزشتہ بیس برس سے جانتا تھا۔ کلب کرکٹ ،فرسٹ کلاس کرکٹ اور پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی کھلاڑی یا منتطم ہو جو حمید(سکورر) کے نام ، کام اور مرتبہ سے واقف نہ ہو۔ حمید کا کام بڑا باریک تھا ۔ وہ ٹاس سے لے کر میچ کے آخری گیند تک کا حساب کتاب رکھتا تھا۔ یہ سلسلہ اس کا پیشہ اور شوق بھی تھا ۔ مجھے ملک اور ملک سے باہر بڑے سکورز سے واسطہ پڑا۔ عموماً اس شعبے کے لوگ بڑے چڑچڑے اور بددماغ ہوتے ہیں۔ ان سے آسانی سے معلومات حاصل نہیں کی جاسکتیں۔ خاص طور پر میچ کے دوران ان کا مزاج آسمان سے باتیں کررہا ہوتا ہے۔ مگر حمید بڑے حلیم اور کچھ اور طرح کے انسان تھے۔ یو ں لگتا ہے وہ جیسے ابھی دوبارہ آئیں گے۔( اور ابھی صرف لنچ یا چائے کا وقفہ ہے۔) حمید ٹیلی ویژن ،ریڈیو اور میڈیا باکس کے پرانے ساتھی، بڑے ذمہ دارانہ مزاج کے حامل کمال انسان تھے جو بحیثیت سکورر اپنی اولین ذمہ داریاں خوب جانتے اور ان پر عمل بھی کرتے تھے۔ طویل عرصے سے پاکستان میں مختلف سطح کے میچوں میں اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے لمبی مسافت طے کرتے۔بیرون ملک ان کی ا لمناک موت کی خبر اور پھر سوگوار یاد نے مجھے بہت مغموم کیا ۔ انگلستان میں بھی ان کے کافی چاہنے والے ملے اندازہ ہوا کہ وہ اپنے پیچھے دوسست احباب کا ایک وسیع ا ور غمزدہ حلقہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ حمید نے لاہور سمیت ملک کی تمام کرکٹ گراؤنڈز کو اپنی شاندار محنت اورمو جودگی سے نوازا اور پاکستان کے سرکردہ کرکٹرز کی کارکردگی کو سکورنگ شیٹس پر قلمبندکیا جس کی بنیاد پر وہ پاکستان کی قومی ٹیم کا حصہ بنے۔ ان کے تیار کردہ نتائج پر قومی ٹیم کا انتخاب عمل میں لایا جاتا رہا۔ آؤٹ، ناٹ آؤٹ اور کھیل کے ایا م و اختتام کا با ضابطہ اعلان کرنے والے حمید اب خود زندگی سے آؤٹ ہوچکے ہیں۔ ان کی سکورنگ بک ہمیشہ کے لیے بند ہوچکی ہے۔ میں نے انہیں ہمیشہ خوددار اور شخصی اعتبارسے نفیس انسا ن پایا۔ وہ ابھی میدان عمل میں تھے اور اپنے گھرانے کے واحد کفیل بھی۔ حمید نے جس پائے کی طویل خدمات سرانجام دیں اس بنیا د پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان کی قدرکرنی چاہیے۔ ان کے بچوں میں سے کسی ایک کو ملازمت بھی دی جائے تو یہ حمید کی شاندار خدمات کے عوض ایک قا بل تعر یف خدمت ہوگی۔

پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف چوتھی بڑی ناکامی ہوچکی ہے۔ ماہرین کی طرف سے اظہر علی کی تبدیلی کا مطالبہ درست ہے جوابی طور پر چیئرمین پی سی بی بھی صحیح فرماتے ہیں کہ اظہر کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی کرکٹ کا خاصہ ہے کہ قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے امکانات دیکھ کر سرکردہ کھلاڑی اپنی پرفارمنس اور رویے میں تبدیلی کرلیتے ہیں۔ جسے ہم عرف عام میں سازش کہتے ہیں۔ عام فہم شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ اظہر علی کے جانے کے بعد کون لوگ کپتانی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس تناظر میں چیئرمین پی سی بی کا یہ بیان حالات کے مطابق ہے اور یوں ہوسکتا ہے کہ اظہر علی کے ساتھ ہی گزارا کرنا پڑے۔ مگر ضروری ہے کہ عماد وسیم کو ترجیحی بنیادوں پر خاص توجہ دے کرکپتانی کے لیے تیار کیا جائے۔ سرفرا ز کی بحثیت نائب کپتان کارکردگی متا ٰ ثرکن نہیں اور ا ن کے رویے پر ایک سوا لیہ نشان ہے۔ لیڈز میں محمد عرفان کے حوالے سے برطانوی صحافی بڑے متجسس تھے کہ انکی آمد میں تاخیر کیوں؟۔ انہیں کس قسم کی فٹنس کے مسائل ہیں؟ کیا وہ مستقل طورپر ٹیم کا حصہ بن پائیں گے؟ کیا انہیں پانچ اوورزکے لیے پاکستان سے بھیجا گیا تھا؟ظاہر ہے کہ جواب ٹیم کے ساتھ آئے ہوئے میڈیا مینیجر رضا راشدکچلو فوری طور پر نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن طے شدہ بات ہے کہ مینجمنٹ ،سلیکشن کمیٹی اور کرکٹ بورڈ ان کی فٹنس کے حوالے سے درست معلومات ہی رکھتے تھے۔ یہ ہماری کرکٹ کا المیہ ہے کہ پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل ماہرین بھی اپنے دائرہ کار میں ہوتے ہوئے سرگرمیوں اور معلومات سے سو فیصد و ا قف نہیں۔ لیڈز میں ان کا حشر اور ظاہری چال دیکھ کر برطانوی صحافی میڈیا باکس میں قہقہے لگاتے رہے عرفان کی سیلیکشن ایک سنجیدہ غلطی ہے جس کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے۔ آج پاکستانی ٹیم کارڈف میں پانچواں اور آخری ون ڈے کھیل رہی ہے ابتدائی چار ون ڈے ہارنے کے بعدکیا اب ٹیم اور خصوصیت کے ساتھ عوام کی دلچسپی اور مورال انتہائی پست ہے۔موسمی پیش گوئی کے مطابق آج صبح بارش کا امکان ہے۔متو قع بارش اور ٹیم کی حالیہ کارکردگی و نتایج کے پیش نظرآج کے میچ پر اتنا ہی لکھا جا سکتا ہے ۔

مزید :

کالم -