برما کے بے بس روہنگیا مسلمان

برما کے بے بس روہنگیا مسلمان
برما کے بے بس روہنگیا مسلمان

  

برما(میانمر) میں روہنگیا مسلمانوں کیلئے میانماری فوج اور شدت پسند بدھ متوں نے عرصہ حیات تنگ کر دیاہے ۔برما میں آج جو ظلم و ستم مسلمانوں پر کیا جارہا ہے اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ۔برما جنوب مشرقی ایشا میں واقع ہے اور اس کی آبادی تقریباً 8 کڑوڑ ہے ،وہاں پر سب سے زیادہ تعداد بدھ متوں کی ہے اس کے علاوہ وہاں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں ۔عرصہ دراز سے برما میں فوجی آمرانہ تسلط قائم رہا اور اس وقت برما کی وزیر اعظم آنگ سان سوچی نے ملک کو آمرانہ تسلط سے نکالنے کے لیے طویل جدوجہد کی اور کئی بار قید و بند کی صوبتیں بھی برداشت کیں دوران حراست ہی آنگ سان سوچی کو امن نوبل انعام سے نوازا گیا ۔مگر امن کا نوبل انعام لینے والی آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی اختیا ر کیے ہوئے ہیں۔ برماکا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے ،ارکان برما کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں مسلمانوں کی اکژیت ہے اور اس وقت سب سے زیادہ ارکان میں ہی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پر تششدد کاروئیاں کی جارہی ہیں۔

یوں تو بدھ مت اپنے مذہب کو امن کا علمبدار مذہب کہتے ہیں اور ان کے نزدیک انسان کو ایسے چلنا چاہیے کہ اس کے پاؤں کے نیچے کیڑے مکوڑے بھی نہ آئیں ،لیکن دوسری طرف وہی بدھ مت مسلمانوں کے ساتھ جو انسانیت سوز سلوک کر رہے ہیں وہ سلوک دیکھ اور سن کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے ۔ برمی فوج بدھ متوں کے ساتھ مل کر روہنگیامسلمانوں کے گھروں کو نظر آتش کر رہی ہے،مساجد کو آگ لگائی جا رہی ہے،مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر پھینکا جا رہا ہے ،مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے ،عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کی جارہی ہے ،بچوں کو آگ میں پھینک کر زندہ جلایا جارہا ہے ۔ان دہشت گرد بدھ بھکشوں کے ظلم و ستم سے تنگ مسلمان وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ،لیکن وہ بے بس اور بے آسرا جائیں تو جائیں کہاں ،ان مظلوموں کا کوئی پرسان حال نہیں ،کوئی بھی ملک ان کو پناہ دینے کو تیار نہیں ،یہ مظلوم و محکوم مسلمان کئی دنوں کے بھوکے پیاسے سمندر میں بھٹک رہے ہیں ، اب تک سینکڑوں افراد سمندر کی بے رحم لہروں کی نظر ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ بھوک و پیاس اور کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر سینکڑوں موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔ برمامیں نیم جمہوری حکومت برمی مسلمانوں کوتحفظ دینے میں مکمل ناکام ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ ان شدت پسند بدھ بھکشوں کو حکومت کی آشیرباد حاصل ہے ۔

برما میں بدھ بھکشوں کی جانب سے مسلمانوں پر ظلم و جبر کوئی نئی بات نہیں بلکہ عرصہ دراز سے وہاں کے مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ،وہاں پر صدیوں سے بسنے والے مسلمانوں سے ان کی شہریت چھین لی گئی ہے ،مسلمانوں کو دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی ہے ،ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی ہے،مسلمان وہاں اپنی جائیداد نہیں بنا سکتے ،کاروبار نہیں کر سکتے اور ان کے سرکاری ملازمت کے امکان بھی انتہائی کم ہیں ،لیکن حالیہ دنوں میں ہونے والی ظلم و زیادتی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑد ئیے ہیں ۔برما کے مسلمانوں پر بدھ متوں کی بربریت انتہائی افسوس ناک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر امت مُسلمہ کی خاموشی اور مسلمان حکمرانوں کی بے حسی ہے ۔اس وقت اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت کوئی بھی ملک برما کے مظلوم مسلمانوں کے حق میںآواز نہیں اٹھا رہا ، مسلمان ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی شرمناک اور معنی خیز ہے ۔دنیا میں امن قائم کرنے کے ٹھیکیدا ر بھی خاموشی سادھے بیٹھے ہیں، اس کے علاوہ پوری دنیا کا میڈیا اس معاملے پر خاموشی کی تصویر بنا بیٹھا ہے اور تو اور ہمارے ملک کا میڈیا جو چھوٹی سے چھوٹی بات پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ، اس کو برما میں مسلمانوں پر ہونے والے بدترین مظالم نظر ہی نہیں آرہے۔یہی حال پوری دنیا کے مسلمان ممالک کا ہے ،یوں لگتا ہے کہ مسلمان ملکوں کے سر براہوں کو اس بات سے کوئی سروکار ہی نہیں کہ برما میں کیا ہورہا ہے ان کو تو بس اپنے اقتدار کی فکر لاحق ہے اور وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے مصروف عمل ہیں۔ماسوائے ترکی کے کوئی بھی مسلم ملک برما کے مظلوم و محکوم مسلمانوں کیلئے کھل کر سامنے نہیں آ رہا، پوری دنیا میں ترکی وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی بحریہ کے ذریعے سمندر میں بھٹکے ہوئے برمی مسلمانوں کو مدد بہم پہنچائی ہے اور ان کو اپنے ملک میں پناہ دی ہے اور اس کے علاوہ بنگلا دیش کی حکومت کو بھی کہا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دے ان پر جتنا خرچہ آئے گا وہ ترکی برداشت کرے گا ۔

جون 2015 میں بھی جب روہنگیا مسلمانوں کے پُرتششد کارروائیوں کا آغاز ہوا تھا تب بھی ان کی مدد کرنے میں ترکی صف اوّل میں تھا اور ہزاروں پناہ گزینوں کواپنے ملک میں جگہ دی ان پناہ گزینوں کا استقبال ترکی کے صدر طیب اردگان اور ترکی کی خاتون اوّل نے خود کیا تھا اور جب خاتون اوّل کی نظر مظلوم اور بے بس برما کے مسلمانوں پر پڑی تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے اور وہ برمی مسلمان خوتین کو گلے لگا کر اُن کے آنسو پونجھتی رہیں،ترکی کے علاوہ کسی بھی اسلامی ملک کو ابھی تک یہ توفیق حاصل نہیں ہوئی کہ وہ برمی مسلمانوں کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔اگر ہم بات کریں اپنے ملک کی تو پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی ملک ہے اور چند ماہ پہلے ہم نے یوم تکبیر بڑے جوش خروش سے منایا ہے پوری امت مسلمہ کو ہمارے ایٹمی قوت ہونے پر فخر ہے ۔ ماناکہ ہم خود ملک کے اندر دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ہمیں اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ایسا بھی کیا ؟ کہ ہم عالمی سطح پر برمی مسلمانوں کے حق میں آواز بھی نہیں اٹھا سکتے ،ہم سمندر میں بھٹکتے برمی مسلمانوں کیلئے ادویات اور کھانے کا سامان بھی نہیں بھجوا سکتے ؟ہمارے حکمرانوں کی یہ مجرمانہ خاموشی روہنگیا مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ موجودہ حالات اور مسلم حکمرانوں کے رویوں کو دیکھ کر برما کے مسلمانوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ پر بھروسا رکھیں اور اسی سے مد د کی امید رکھیں اور متحد ہو کر بدھ مت دہشت گردوں کا مقابلہ کریں کیونکہ اس کے علاوہ کہیں سے بھی نظر نہیں آرہا کہ کوئی بھی ملک کھل کر برما کے مسلمانوں کی مدد کیلئے آگے آئے گا ۔

دنیا کے ان تمام بڑے ممالک جنہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے اور دہشت گردوں کا کو ختم کرنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے کیا ان کو برما میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے دہشت گرد نظر نہیں آتے ؟ اقوام متحدہ ،او آئی سی ،دنیاکے تمام بڑے ٹھیکے داروں،مسلمان ملکوں کے حکمرانوں اور پاکستان کے میڈیا سمیت تمام عالمی میڈیا سے برما کے مسلمانوں کا ایک ہی سوال ہے،کہ کیا برما میں بسنے والے مسلمان انسان نہیں؟

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -