گجرات میں امریکہ پلٹ نوجوان کا بے ادبی پر قتل

گجرات میں امریکہ پلٹ نوجوان کا بے ادبی پر قتل

معاشرے میں قوت برداشت تیزی کے ساتھ کم ہو رہی ہے اس سے قبل جب لوگ مٹی کے برتنوں میں کھاتے پیتے تھے انکی قوت برداشت بھی تھی لوگ ایک دوسرے کے غم وخوشی میں شریک بھی ہوتے تھے اب خوشیاں تو خود ہی منانا پڑتی ہیں تو غم بھی صرف اپنے ہی ہوتے ہیں معمولی معمولی سی باتوں پر مرنے اور مارنے پر نوبت پہنچ جاتی ہے بعض اوقات معمولی سی تلخ کلامی پر کئی خاندان اجڑ جاتے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ لمحات نے غلطی کی اور صدیوں نے سزا پائی ایک ایسا ہی دلخراش واقعہ تھانہ صدر لالہ موسی کے نواحی گاؤں بدھو کالس میں پیش آیا جہاں پر امریکہ میں مقیم ایک خوشحال گھرانے کے سربراہ ناصر ولد نیامت چھٹی پر آبائی گاؤں آیا اسکا چال چلن شاہانہ تھا گاؤں کے لوگوں پر دبدبہ اور دولت کا رعب جمانے کے لیے اس نے کوئی حربہ نہ چھوڑا لوگ اسے سلام کرتے تھے اور وہ چھوٹے گاؤں کا بڑا چوہدری بن کر بڑے بڑے دعوے کرنے لگا اہل دیہہ کو امریکہ کی ترقی اور سپر پاور ہونے کے علاوہ امریکہ میں مختلف شہروں تک وسیع اپنے کاروبار کی دھاک بٹھاتا رہا اس دوران گاؤں کے ہی ایک نوجوان قاسم علی نے اس کی بعض باتوں سے اختلاف کیا اور کہا کہ دنیا اب گلوبل ولیج بن چکی ہے جو لوگ گوروں کے ملک میں برتن صاف کرتے ہیں وہ پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب اور اہل علاقہ پر اپنی عمارت کا رعب جمانے کیلئے بڑی بڑی چھوڑتے ہیں جبکہ حقائق اسکے برعکس ہوتے ہیں امریکہ سے آئے ہوئے ناصر کو نوجوان کی اس بے ادبی کا بڑا دکھ ہوا کیونکہ اسکے تصور میں بھی نہ تھا کہ کوئی شخص اسکے خیالات کی نفی بھی کر سکتا ہے اس دکھ کو سینے سے لگائے وہ امریکہ واپس چلا گیا مگر اپنی بے عزتی کی وجہ سے انتقام کی آگ اسکے سینے میں جل رہی تھی اپنے چھوٹے بھائی محمد آصف کو اسکی شان میں گستاخی کرنے والے قاسم علی کو قتل کرنے یا کرانے کا حکم جاری کیا ناصر کے بھائی محمد آصف نے با لآخر ارد گرد کے دیہات کے آوارہ گرد ایسے نوجوانوں کی تلاش شروع کر دی جو رقم لیکر قاسم علی کو قتل کرسکیں بالآخر اس نے تین ایسے نوجوانوں کو تلاش کر لیا جو پانچ لاکھ روپے کے عوض قاسم علی کو قتل کرنے کے لیے تیار ہو گئے ان نوجوانوں میں اورنگزیب ‘ گلزار احمد اور محمد سلیمان شامل تھے ناصر کے بھائی محمد آصف نے اپنے بھائی کو امریکہ میں بتایا کہ تمام انتظامات مکمل ہیں تمہاری شان میں گستاخی کرنیوالے کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا پانچ لاکھ روپے فوری طور پر بجھوا دو تاکہ کام مکمل کیا جا سکے ملزم ناصر نے پانچ لاکھ روپے اپنے بھائی کو بجھوا دیے جس نے مذکورہ نوجوانوں کو قتل کرنے کی سپاری دی اور قاسم علی کی نشاندہی بھی کر دی گئی سارا کام مکمل ہو چکا تھاملزمان نے دھاک لگا کر قاسم علی کو ایک ویران ڈیرے کے قریب اندھا دھند فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھانہ صدر پولیس لالہ موسی نے اندھے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گاؤں میں ایک کہرام مچ گیا کیونکہ بدھو کالس کے لوگ انتہائی محنتی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والے لوگ ہیں سبھی ایک بے گناہ کے قتل ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا پولیس کے لیے اس اندھے قتل کا سراغ لگانا ایک چیلنج بن گیا ڈی پی او کے پی آر او اسد گجر نے تھانہ صدر لالہ موسی کے ایس ایچ او مجاہد عباس کو جو اس سے قبل درجنوں اندھے قتلوں کا سراغ لگا چکے ہیں اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے بہترین ایس ایچ او کا متعدد بار ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں ہر قیمت پر اس قتل کا سراغ لگانے کا پیغام دیا مجاہد عباس ایس ایچ او جن کی نیک نامی پر گجرات پولیس فخر کرتی ہے نے اس اندھے قتل کو چیلنج سمجھا اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہومیو سائٹ کے انچارج عرفان الحق کے ہمراہ ہمہ وقت مشغول ہو گئے تمام تر ذرائع استعمال کیے بالآخر پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ امریکہ سے گاؤں چھٹیاں گزارنے کیلئے آنیوالے ناصر کے ساتھ مقتول قاسم علی کی معمولی تلخ کلامی ضرور ہوئی تھی جس پر تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملزم کے بھائی محمد آصف کو جو اسی گاؤں کا رہائشی ہے شامل تفتیش کر لیا گیا پولیس تو پھر پولیس ہے جب وہ تفتیش پر آ جائے تو ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے ابھی ملزم کے بھائی نے تھانہ میں چند گھنٹے ہی گزاریں ہوں گے کہ اس نے حقائق بیان کرنا شروع کر دیے اور بتایا کہ اس کے بھائی ناصر نے مقتول کو قتل کرنے کے لیے پانچ لاکھ روپے بجھوائے تھے اور اس نے مقتول کی نشاندہی بھی کی اس طرح ایک اندھا قتل نہ صرف ٹریس ہوا بلکہ علاقہ کے لوگوں میں پایا جانیوالا غم و غصے اور خوف و ہرا س کی لہر ختم ہو گئی یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی آر او اسد گجر ڈی پی او کے حکم پر بڑے سے بڑے جرم اور چھوٹے سے چھوٹے جرم کو ٹریس کرنے کے لیے ہر وقت ایس ایچ او حضرات سے آن لائن ہوتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بھی مقدمہ ان ٹریس نہ ہو یہ تو انکی محکمانہ ذمہ داری ہے مگر بطور انسان لوگوں کے دکھ اور غم کو فوری انصاف فراہم کر کے جو سکون اور راحت وہ محسوس کرتے ہیں انہیں الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے پی آر او برانچ کے تمام ملازمین جو ہر مقدمہ کی پیش رفت اور اسکے اندرا ج کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں اسد گجر کی کامیابی کے ضامن ہیں ان سطور میں اگر مجاہد عباس ایس ایچ او تھانہ صدر لالہ موسی کے کارہائے نمایاں کا ذکر کیا جائے تو صبح سے شام ہو جائے مجاہد عباس شریف شہریوں کے لیے سایہ شفقت اور بدمعاشوں کیلئے ایک ننگی تلوار ہیں وہ جہاں بھی تعینات رہے انہوں نے تاریخ ہی رقم کی وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا ‘ شرافت اور دیانتداری انکا طرہ امتیاز ہے محکمہ کی آن و شان کیلئے ہر وقت وردی میں چوکس رہنا انکی پہچان بن چکا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2