جعلی ادویات کی بھرمار، عطائیوں کے ڈیرے

جعلی ادویات کی بھرمار، عطائیوں کے ڈیرے

محمد ارشد شیخ بیوروچیف شیخوپورہ

جعلی اور زائدالمیعاد ادویات کھانے سے پورے پاکستان میں مریض موت کے منہ میں مسلسل جا رہے ہیں کہ جس کا شمار کرنا مشکل ہو رہا ہے تمام ادویات بنانے والی کمپنیاں ادویات فروش،میڈیکل سٹورز کے مالکان عملاً موت کے سوداگر بن چکے ہیں انکی بلا سے کہ دوائی زائد المعیاد ہے اصلی ہے یا کہ نقلی ان پر صرف منافع کمانے کی دھن سوار ہے۔معاشرے کے یہ کریہہ الذہن افراد انسانوں کو صحت افزا ادویات نہیں موت کے پروانے تقسیم کر رہے ہیں پنجاب بھربلعموم ضلع شیخوپورہ کی مارکیٹوں میں بلخصوص نشہ آور ادویات،دو نمبر جعلی ادویات اور زائد المعیاد ادویات کی بھر مار ہو چکی ہے کف سیرپ،گولیاں اور کیپسول اور مختلف ناموں کے نشہ آور سیرپ نوجوان ہی نہیں بلکہ عمر رسیدہ افراد بھی مسلسل استعمال کر رہے ہیں اور زائد المعیاد اور دو نمبر ادویات کھا کر اپنی موت کو قریب تر کر رہے ہیں جس وجہ سے شرع اموات زیادہ ا ور اوسط عمر 40/45سال رہ گئی ہے مقامی میڈیا ضلعی انتظامیہ کی توجہ بار بار اس طرف کروا چکا ہے مگر ذمہ دار ضلعی افسران سمیت بعض ملازمین مبینہ طور پر ساز باز کر کے سستی اور لاپرواہی سے کام چلا رہے ہیں پرانے زمانے کے بڑے بوڑھے تو 100سال کی عمر تک پہنچ جاتے تھے مگر آج کے لوگ 40سال کی عمرکو پہنچتے پہنچتے ہی ذہنی بے سکونی،تھکاوٹ ،نیند نہ آناجیسی خود ساختہ بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں جو کہ انہی ادویات کے اثرات ہیں جبکہ ضلع بھر میں بیٹھے میڈیکل سٹو روں کے مالکان اورادویات بنانے والے افراد ایسی ادویات بیچ بیچ کر کروڑ پتی بن چکے ہیں غیر معیاری ادویات کے استعمال سے نوجوانوں کے جگر،گردے اور معدے بری طرح متاثر ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف عملاًنقاہت ،سستی ان پر اثرا نداز رہتی ہے اور وہ کسی کام کو کئے بغیر لاکھوں کمانے کے چکر میں دو نمبر دھندوں چوری،ڈکیتی،اغواء برائے تاوان جیسے سنگین جرائم میں مصروف ہو جاتے ہیں اورمعاشرے کیلئے ناسور کا کردار ادا کر رہے ہیں اسی وجہ سے شائد کسی حد تک ضلع شیخوپورہ میں دوسرے اضلاع کی نسبت کرائم ریٹ بھی زیادہ ہے۔ نوجوان ہی نہیں کالج کی لڑکیوں اور نوجوان خواتین میں بھی ان ادویات سے نشہ حاصل کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔لمبی کمائیوں کے چکر میں دو نمبر کمپنیاں اپنی غیر معیاری پروڈکٹس بنا کرمارکیٹوں میں فروخت کررہی ہیں نوجوان نسل مارکیٹ میں دستیاب کف سیرپ،ٹینکچر، کپیاں، گولیاں اور کیپسول استعمال کر رہے ہیں جبکہ محکمہ صحت شیخوپورہ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور خواب خرگوش کے مزے لوٹے جا رہے ہیں رہی سہی کسر ضلع میں ڈیرے جمائے نیم حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں نے نکال دی ہے جن میں سے زیادہ تر حکمت اور ادویات کی الف ب بھی نہیں جانتے اور محکمہ صحت میں تعینات کرپٹ مافیا کی آشیر باد سے عالی شان کلینکس اور ہسپتال بنا کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے پورے ضلع میں محکمہ صحت کی نا اہلی اور ذاتی طمع نفسانی کی وجہ سے عطائی ڈاکٹرز کے خلاف سخت کاروائیوں کے واضع احکامات پچھلے دنوں سپریم کورٹ کی طرف سے بھی جاری کئے گئے مگر معزز عدالت کے احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیا گیا اور ایک بار پھر سے پہلے کی طرح ہی غیر معیاری ،ایکسپائری ڈیٹ، نشہ آور ادویات کی فروخت جاری و ساری ہے اور عطائی ڈاکٹر ز اور نیم حکیم بڑے دھرلے سے اپنے مکروہ دھندے سے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اگر کوئی سائل ان عطائیوں کے خلاف محکمہ صحت کو شکائت کرتا بھی ہے تو اس کی شکائت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے چند روز قبل فیروز وٹواں کے مقامی صحافی عارف جاوید بھٹی کے اہل خانہ نے معصوم بچے کے کان میں معمولی درد کی وجہ سے تانی چک مشمولہ کچی کوٹھی میں ڈیرہ جمائے ہوئے عطائی ڈاکٹر ،جس نے اپنے کلینک پر ہومیو فزیشن کا گولڈ میڈلسٹ کا بورڈ بھی آویزاں کررکھا ہے سے رجو ع کیا عارف جاوید بھٹی نے بتایا کہ عطائی نے بچے کے کان میں ڈالنے کے لئے انہیں سیل بند ڈاپس دیئے جس پر واضع طور پر (ناٹ فار سیل ) بھی لکھا ہوا تھا جبکہ ڈراپس کو بچے کے کانوں میں ڈالا گیا تو بچے کے کان میں ہونے والی درد کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی جسے مقامی ہسپتال لیجایا گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے ڈراپس چیک کئے تو ان کی ڈٹ ایکسپائر تھی اور ڈراپس صرف 2017 تک استعمال کئے جا سکتے تھے بچے کی حالت زیادہ تشویشناک ہونے پر جب عطائی مذکورہ ساجد نسیم سے رابطہ کیا گیا تو اس نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر لیا اور کہا کہ محکمہ صحت کے ملازمین ان سے منتھلیاں لیتے ہیں اس لئے اس کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کریں گے واضع رہے کہ کے پاس ایلو پیتھک ادویات فروخت کرنے اور انہیں استعمال کروانے کاکسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کا اجازت نامہ ، سرٹیفیکیٹ یا ڈپلومہ وغیرہ نہیں ہے تاہم وہ اپنے کلینک کو ہسپتال نما بناکر علاقہ بھر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے اور عوام کی قیمتی زندگیوں سے کھیل رہا ہے عطائی مذکورہ کے علاج معالجہ اور اس کے غیر قانونی بنائے گئے میڈیکل سٹور سے استعمال کروائی گئی ایکسپائری ڈیٹ ادویات کے استعمال سے کافی لوگ متاثر ہو رہے ہیں اس حوالہ سے خبریں بھی شائع ہوئیں تاہم محکمہ صحت میں ساز باز اور ذاتی تعلقات ہونے کی وجہ سے عطائی مذکورہ کے خلاف کاروائی عمل میں لانا تو دور کسی ملازم نے اس کے کلینک پر جانا تک گنوارہ نہیں کیا ہے جبکہ علاقائی معززین سیاسی و سماجی حلقوں کے ارکان میں عطائی کے خلاف کافی حد تک غم و غصہ پایا جا رہا ہے مگر نا معلوم وجوہات کی بناء پر محکمہ صحت کے سی ای او سمیت انسپکٹر ڈرگز بھی مسلسل خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ضلع بھر میں میڈیکل سٹوروں پر عطائیوں کے کلینکوں پر کچھ ایسی ہی صورت حال ہے ہر جگہ غیر ممنوعہ گولیاں ،سیرپ اور کیپسول سرعام دیدہ دلیری سے فروخت کئے جا رہے ہیں اس قسم کے کیپسول اور گولیاں میڈیکل سٹوروں کے مالکان بغیر کسی مستند ڈاکٹر کے نسخہ بھاری مقدار میں لوگوں کو کھلم کھلا فروخت کررہے ہیں نیچرل پراڈکٹس،آیورویدک پراڈکٹس وغیرہ کے نام سے سینکٹروں غیر رجسٹرڈ اور جعلی ادویا ت کی تو سرکاری ہسپتالوں کے گردونواح میں دھڑلے سے فروخت جاری ہے۔جعلی ادویات میں بھاری پانی شامل ہونے کی وجہ سے نکل،سکہ اور مرکری کے زہریلے ذرات بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ ان میں جو مخصو ص رنگ استعمال کیارہا ہے وہ بھی سخت نقصان دہ ہے۔ وہ مردوں میں جگر،آنتوں اور جسم کے دیگر حصوں میں کینسر کا باعث بن رہے ہیں جبکہ ان کے لگاتار استعمال سے عورتوں میں بھی چھاتی اور جسم کے دیگر حصوں میں کینسر ہو رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ضلع بھر میں ڈاکٹری نسخہ کے بغیر نوے فیصد سے زائد ادویات فروخت کی جارہی ہیں جبکہ بیرونی ممالک میں ایک اسپرین کی گولی بھی بغیرڈاکٹر کے نسخہ کے فروخت کیے جانے کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا۔ ضلع بھر میں غلط ادویات کے استعمال سے لا تعداد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اسطرح سے راتوں رات نہیں تو ہفتوں،مہینوں میں ہی نشہ آور اور زائد المیعاد اور دو نمبر ادویات بنانے اور بیچنے والے یہ موت کے سوداگر کروڑپتی بن چکے ہیں انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا یہ کاروبار محکمہ ہیلتھ کی بیور وکریسی،سول بیوروکریسی،پولیس اور حکومتی افراد کی ملی بھگت کے بغیر نہیں چل سکتا یہ لوگ مریضوں کیلئے ہی نہیں بلکہ عام افراد کیلئے بھی صحت کے پیامبروں کی جگہ موت کے سوداگر بن چکے ہیں اس سلسلہ میں اضلاع اور تحصیلوں میں خاص اس مقصد کیلئے تعینات ڈرگ انسپکٹر ان موت کے سوداگروں کے معاون بنے ہوئے ہیں۔ جو کہ ماہانہ لاکھوں روپے منتھلیاں لے کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ اور ان رقوم کا بڑاحصہ نیچے سے اوپر تک میڈیکل بیوروکریسی میں بندر بانٹ کے طور پر حصہ بقدرِ جثہ کے طور پر پہنچایا جاتا ہے۔ انکے تعاون ہی سے ایسے سیرپ بطور نشہ استعمال کئے جارہے ہیں جنکی گھروں کے اند ر خود ساختہ فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔اور 8تا 12 روپے میں تیا ر کر کے 60سے 95روپے تک کی قیمت پر میڈیکل سٹوروں اور ڈاکٹروں کا روپ دھارے ہوئے عطائیوں کی دکانوں پر ہر وقت دستیاب ہیں حالانکہ حکومت نے ڈسٹرکٹ ایگزیکٹیو آفیسر زمحکمہ صحت کو سختی سے احکامات جاری کئے ہیں۔ کہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کی فروخت اور جانوروں پر استعمال ہونے والی ادویات کا انسانوں پر استعمال کرنے والے نام نہاد ڈاکٹروں (عطائیوں) کا محاسبہ کیا جائے اور ڈرگ انسپکٹرز ہر ماہ کم از کم ایک سو مختلف ادویات کے نمونے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو بھجوائیں۔اور ڈاکٹرز کا روپ دھارے ہوئے عطائی جو کہ زیادہ سے زیادہ کوئی ویکسی نیٹر(ٹیکے لگانے والا) سرکاری ملازم یا اسسٹنٹ لیبارٹری ٹیکنیشن ٹائپ فر د ہی ہوتے ہیں انکے کلینک سیل کئے جائیں۔ یہ لوگ جانوروں پر استعمال ہونے والی سستی ترین ادویات لوگوں پر استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ڈرگ انسپکٹرز اس بات کے بھی پابند ہیں کہ وہ روزانہ جتنے چالان کریں اور ادویات کے نمونے حاصل کریں انکی روزانہ رپورٹس وزیر اعظم کو براہ راست ارسال کریں مگر کون عملدرآمدکرتا ہے یہاں صرف مال کماؤ ڈنگ ٹپاؤ پر مسلسل عملدرآمدہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ ڈرگ انسپکٹرز کی زیر سرپرستی نان کوالیفائیڈ نام نہا د ڈاکٹرز عطائی مافیا مسلسل کھلے میدانوں میں کام کر رہے ہیں۔ہر پکی سٹرک کے چوک اور موڑ پر انکی دکانیں کھلی ہوتی ہیں اور نشہ آور ادویات اور کپیاں دھڑلے سے فروخت کی جاتی ہیں۔یہ لوگ علاج تو کیا کریں گے الٹا لوگوں میں ہیپا ٹائٹس ،ایڈز،کینسر ،السر ،،خونی پیچش،جگر گردے کی بیماریوں کا مسلسل موجب بن رہے ہیں بہر حال دیہاتوں،چکوں پر تو یہی لوگ غریبوں کے ڈاکٹر ہیں اورکوالیفائیڈڈاکٹرزہی مانے جاتے ہیں۔ کاش کوئی حکمران پروفیسروں، سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی پرائیوٹ پریکٹس پر پابندی لگانے کی جرات کر سکتا ان کے کلینک بھی گھی فیکٹریوں اور چینی کے کارخانوں کی طرح کمائیوں کے گڑھ ہیں۔تمام ڈرگ انسپکٹروں کی موجوگی میں غیر معیاری جعلی ادویات کی فروخت سے اگر کوئی عطائی کسی مریض کو مارڈالے تو متعلقہ ایس ایچ او کو رپورٹ ملتے ہی قتل عمد کا مقدمہ جعلی دوا فروش اور متعلقہ ڈرگ انسپکٹرپر درج کر ڈالنا چاہیے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میڈیکل پروفیشن میں کماؤ سیٹ ڈرگ انسپکٹر کی اور پولیس میں ایس ایچ او کی ہے جس طرح سے عام مجرم چور،ڈاکو،راہزن،جیب کترے پولیس کے ایس ایچ او کی زیر نگرانی پرورش پاتے ہیں۔اسی طرح عام جعلی ڈاکٹرز یعنی انسانوں کیلئے موت کے پروانے باٹنے والے ڈرگ انسپکٹرز کی زیر نگرانی ہی پرورش پاتے ہیں دونوں طرف سے کرپشن کرکے لاکھوں کی منتھلیاں باقاعدہ وصول کرانے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ حالانکہ یہ بات ببانگ دہل کہی جاسکتی ہے کہ کسی بھی ایماندار ایس ایچ او اور ڈرگ انسپکٹر کے علاقے میں کسی واردات کا امکان نہیں ہو سکتا مگر موجودہ مادی دور میں ایماندار کی تلاش جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔جعلی اور زائد المعیا د ادویات کی فروخت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے۔جس کے مریضوں پر مرتب برے اثرات بڑے ہوش ربا اور اذیت ناک ہیں عام آدمی کیلئے قیمتی ادویات خریدنا ویسے ہی ایک پرابلم ہے

غیرمعیاری ادویات کے دھندے میں ملوث افراد میں سے کسی کو بڑے شہر کے چوک میں الٹا لٹکایا جائے، تواوپر سے نیچے تک گھنٹی بج جائیگی خالی احکامات پر تو پہلے کبھی عملدرآمد ہوا ہے نہ ہوگا لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے مانا کرتے ہیں؟ عمران خان حکومت کو چاہیے کہ پورے ملک میں بارہ گھنٹے کیلئے کریک ڈاؤن کے ذریعے ایک ہی دفعہ تمام میڈیکل سٹور ز،گوداموں اور کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپے مارے جائیں ایمرجنسی طور پرزائدالمیعاد،جعلی،نشہ آور ادویات تیار کردہ کیپسول،گولیاں اور سیرپ ضبط کئے جائیں اور بیرونی ملک کی طرح بغیر ڈاکٹروں کے نسخہ کے ادویات کی فروخت کرنے والوں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں جو کہ ہماری نوجوان نسل کی صحت اور قیمتی جانوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو سالانہ تقریبا 35لاکھ نوجوان نشہ آور اور غیر معیاری ادویات کھا کر ہلاک ہوتے رہیں گے جس کا جواب روز قیامت دینا ہی پڑے گا۔

مزید : ایڈیشن 2