دس ارب درخت لگانے کا منصوبہ

دس ارب درخت لگانے کا منصوبہ

کرہ ارض پر درختوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہ نہ صرف لکڑی پیدا کرکے کئی طرح کی معاونت کرتے ہیں بلکہ موسم کے تغیر و تبدل میں بھی ان کی بہت اہمیت ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں جنگلات کا حصہ کم از کم 11سے 12فی صد ہونا چاہئے اور پاکستان میں یہ صرف 2.1فی صد رہ گیا ہے۔ ایسا پہلے نہیں تھا، یہ بتدریج ہوا، جس کی کئی وجوہ ہیں ایک وجہ تو ٹمبر مافیا ہے، جو فرنیچر سے رہائشی مقاصد کے لئے مفید درخت کٹوا کر چوری کرتا ہے، دوسرے دودراز دیہات اور پہاڑی علاقوں کے حضرات ہیں جو گھروں میں جلانے کے لئے ان درختوں کی کٹائی کرتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ ہمارے سیاحتی مقامات (پہاڑ) بھی توسیع اور ٹمبر مافیا کی زد میں ہیں، توسیع تو سیاحت کے فروغ کے بہانے ہوتی ہے اور جنگل کاٹ کر زمین ہموار کرکے پلاٹ بنائے جاتے ہیں، جن پر گھر یا ہوٹل بنتے ہیں یوں یہ رقبہ کم ہوتا چلا گیا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ درختوں کی کٹائی تو جاری و ساری رہی لیکن شجر کاری اور پودوں کی حفاظت کرکے ان کو سایہ دار درخت بنانا چھوڑ دیا گیا، قیام پاکستان سے قبل ان سیاحتی اور پہاڑی مقامات پر جنگلات کا رقبہ بہت تھا، ہر درخت پر نمبر اور تاریخ درج تھی اس کے مطابق ہی درخت کٹتے اور پھر شجر کاری ساتھ ساتھ ہوتی یوں کٹنے والے درخت کی کمی پوری ہو جاتی قیام پاکستان کے بعد یہ سلسلہ رک گیا اور بدعنوائی کا عمل بھی جاری ہوگیا جس کے بعد محکمہ جنگلات کے اہل کار بھی ٹمبر مافیا کا حصہ بن گئے۔اس کے علاوہ ایک وجہ شجر کاری مہم میں بددیانتی اور خورد برد کا عمل ہے، ہر سال دو بار (موسم برسات+بہار) شجر کاری مہم کا اعلان ہوتا اور ہزاروں، لاکھوں پودے لگائے جاتے (کاغذوں میں)لیکن اس کے باوجود جنگلات کا رقبہ مسلسل کم ہوتا چلا گیا حالانکہ ان اعدادوشمار کے مطابق تو حصہ 12فی صد تو کیا اس سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے تھا، اب صورت حال یہ ہے کہ آبادی بھی پھیلتی جارہی ہے اور یہ پھیلاؤ بھی درختوں کی کمی کا باعث ہے کہ رہائشی کالونیوں کے لئے درخت لگانے اور ان کو پرورش کرنے کی پابندی نہیں اس لئے درخت کاٹ لئے جاتے ہیں، لگائے نہیں جاتے۔نئی حکومت نے اپنے ویژن کے مطابق ملک کو سر سبز پاکستان بنانے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ 5سال کے اندر ملک بھر میں دس ارب پودے لگا کر ملک کو خوشگوار موسم مہیا کردیا جائے گا، یہ باقاعدہ ’’پلانٹ فار پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک مہم بنائی گئی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ہری پور میں پودا لگا کر اس کا آغاز کیا،بتایا گیا کہ ایک ہی روز پورے ملک (چاروں صوبوں) میں پندرہ لاکھ پودے لگائے گئے، شجر کاری میں تمام سرکاری محکموں، طلباء اور طالبات کے علاوہ پاک فوج نے بھی بھرپور حصہ لیا، مسلح افواج کے ہر حصے نے بھی ذمہ داری سنبھال لی ہے، بری فوج نے ایک کروڑ پودے لگانے کا اعلان کرکے شجرکاری شروع کی۔اس ساری مہم میں وزیر اطلاعات فواد چودھری کی یہ یقین دہانی خوش آئند ہے کہ صرف شجر کاری نہیں، پودوں کی حفاظت بھی ہوگی کہ یہ درخت بنیں اور پانچ سال کے اندر ملک کا موسم تبدیل نظر آئے گا، اس مہم کا اس پہلو سے بہت خیر مقدم کہ حقیقتاً یہ ضرورت ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے کہ درخت صرف ماحولیاتی آلودگی ہی کم نہیں کریں گے، یہ موسم کی سختی کو خوشگواریت میں تبدیل کردیں اور برسات کی قلت بھی دور ہو جائے گی، معقول بارشوں سے زیر زمین پانی کی سطح کو بھی فرق پڑے گا، شرط یہ ہے کہ پودے لگائے ہی نہ جائیں ان کی حفاظت کا اہتمام کرکے ان کو درخت بنایا جائے اور ٹمبر مافیا کا قلع قمع کرکے کٹائی روکی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ