سایہ

سایہ
سایہ

  

ہم پچھلی چار دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک پاکستان پر کوئی سایہ یا نحوست چھائی ہوئی ہے۔ اور ہمارے بڑے کوئی بڑا کام کرنے کی بجائے چھوٹے چھوٹے اور غیر اہم معاملات میں الجھے رہتے ہیں۔ جب تک ملک پر سے یہ سایہ نہیں اٹھ جاتا، ہمارا قدم آگے کی بجائے پیچھے جائے گا۔ ویسے یہ سایہ ہوتا کیا ہے ہمیں تو پتا نہیں ہم تو سایہ کا مطلب چھاوں سمجھتے ہیں۔ ایسی چھاوں جو ہمیں کڑی دھوپ سے محفوظ رکھے۔ جیسے گھنے درخت کا سایہ، جیسے والدین کا سایہ، جیسے اللہ کی رحمت کا سایہ اور وطن عزیز کا سایہ یہ تمام سائے تو ہم دعاوں میں طلب کرتے ہیں۔ لیکن یہ سایہ نحوست کیا ہے اور کیسے آتا ہے۔ اس کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے بس پرانی کہانیاں سن رکھی ہیں کہ فلاں شہزادی پر فلاں پری یا جن کا سایہ ہوتا تھا۔ آج بھی کہیں کوئی خاتون اگر زندگی سے مطمئن نہ ہو تو اس پر کسی جن کا سایہ آسکتا ہے۔ کسی ایک خاتون یا ایک گھر پر سائے کی تو خیر ہے لیکن پورے ملک پر سایہ ہمارے لئے بہت خطرناک ہے اور ہماری ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

اس بار تو ہم بہت خوش تھے کہ ہماری نئی حکومت کے قائم ہوتے ہی وطن عزیز سے سایہ نحوست اٹھ جائے گا۔ کیونکہ ہماری خاتون اول کے قابو میں جنات ہیں جن کو وہ باقاعدگی سے گوشت بھی کھلاتی ہیں۔ اور ہمارے وزیراعظم صاحب کے ساتھ ایسی برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کے سامنے کوئی جن ٹھہر سکتا ہے نہ خلائی مخلوق۔ تو پھر کیوں ہمارا ہر قدم الٹا پڑتا ہے اور ہم اپنے حقیقی مسائل کا حل تلاش کرنا پس پشت ڈال کر انتہائی غیر سنجیدہ مسائل میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ نئی حکومت بنی اور پی ٹی آئی نے پہلے سو دن کا پروگرام پیش کیا تو بہت خوشی تھی کہ اب ہم ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔ مگر ابھی کابینہ کا حلف بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ کراچی کا شاہ جہاں عمران شاہ جن کو عوام نے اپنے مسائل حل کرنے کے لئے منتخب کیا تھا انہوں نے آتے ہی ایک نیا مسلہ کھڑا کر دیا اور ٹریفک میں معمولی بات پر اتنے مشتعل ہوئے کہ ایک بزرگ شہری داود چوہان پر تھپڑ برسا دیئے۔ کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اب ہم اس ملک کے بادشاہ ہیں اور کسی کی کیا مجال کہ سڑک پر ہمارے سامنے کوئی رکاوٹ بنے؟

پھر ہمارا میڈیا اس معاملے پر اپنی ریٹنگ کی نئی حدوں کو چھو رہا تھا کہ ایک بین الاقوامی معاملہ سامنے آگیا اور یہ تھا امریکی وزیر خارجہ اور ہمارے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفون کال کا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کچھ اور قصہ سنا رہا تھا اور ہمارے محکمہ خارجہ کی کہانی کچھ اور بیان کر رہی تھی۔ ( تیری داستاں کوئی اور تھی میرا واقعہ کوئی اور ہے) ابھی یہ بحث جاری تھی کہ ضلع پاکپتن میں خاتون اول کے سابق شوہر نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس ناکے پر رکنا گوارا نہ کیا اور جب پولیس نے آگے جاکر روکا تو وہ پولیس پر برس پڑے اور جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ پھر ڈی پی او کو فون کر کے پولیس کو ڈانٹ ڈپٹ کروائی اور گھر کو چل دیئے۔ اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین ڈی پی او کی تبدیلی پر منتج ہوا۔ اسی دوران وزیراعظم عمران خان کے اسلام آباد سے بنی گالہ تک ہیلی کاپٹر کا قضیہ شروع ہوا اور ہنوز ہیلی کاپٹر کافی کلومیٹر خرچہ طے نہیں ہوسکا۔ شاید ہو بھی نہیں سکے گا، کیونکہ یہ چودھری فواد وزیر اطلاعات و نشریات نے طے کرنا ہے۔ بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی پی ٹی آئی تو ایک طرف رہی یہاں یک نفری پارٹی عوامی مسلم لیگ ہی سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ اور شیخ رشید صاحب اپنے راستے سے موٹر سائیکلوں کو ہٹانے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ ہمارا میڈیا ان تمام حالات سے خوب لطف اندوز ہو رہا ہے اور عوام کو بھی محظوظ کر رہا ہے۔

ہم تو اس انتظار میں تھے کہ نئی حکومت قائم ہوتے ہی میڈیا میں تعلیمی نظام پر مذاکرے شروع ہوں گے، ملک میں انرجی کی کمی دور کرنے کے طریقوں پر غور ہوگا۔ معاشی بدحالی ہمارے میڈیا کا موضوع ہوگا۔ بے ہنگم ٹریفک کو کسی کلئے میں لانے کی سوچ بچار ہوگی۔ صوبوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو ختم کر کے ملکی یکجہتی پر کام ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ جائیں گے۔ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا وقار بلند کرنے کے لئے خارجہ امور کے ماہرین کو کام سونپا جائے گا۔ ملک میں بھگدڑ سیاسی فضاء کو آلودگی سے پاک کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے، لیکن ملک کو جس نحوست کے سائے نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے وہ ہمیں غیر یقینی بین الاقوامی صورتحال سے نکلنے کا راستہ ہی نہیں دے رہا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس سائے سے نجات کے لئے صدقہ دیا جاتا ہے تو پھر ہمارے نئے نویلے وزیراعظم صاحب کو چاہیے کہ کوئی دو چار صدقے دینے کا اہتمام کریں اور اس سلسلے میں اپنی شریک حیات اور ان کے جناّت سے راہنمائی لے لیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت، بابر اعوان صاحب اور شیخ رشید جیسی برگزیدہ ہستیوں کا صدقہ دے کر ملک کو اس سائے سے نجات دلائیں، تاکہ ہم اپنے حقیقی مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

مزید : رائے /کالم