میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا منصوبہ

میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا منصوبہ
میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا منصوبہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پاکستان میں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کیلئے الگ الگ نگران اداروں کو ختم کر کے ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کے منصوبہ کا اعلان کیا ہے۔بدھ کو اسلام آباد میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں پریس کونسل ایک اسٹیبلشمنٹ بنی ہوئی ہے جو پرنٹ میڈیا کو دیکھتی ہے اور پیمرا ایک الگ اسٹیبلشمنٹ بنی ہوئی ہے جو الیکڑانک میڈیا کو دیکھتی ہے۔میڈیا کے دوستوں (کون ہیں یہ لوگ؟ ) کی آرا ء کے ساتھ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیمرا اور پریس کونسل دونوں کو ختم کریں اور نئی تنظیم بنائی جائے جس کا نام پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ہو گا جو نہ صرف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دیکھے گی بلکہ سائبر میڈیا کو بھی دیکھے گی ۔ ان کے مطابق اس وقت سائبر میڈیا یا سوشل میڈیا ایک بہت بڑی طاقت بن کر سامنے آ رہا ہے تو ان سب کیلئے ایک ہی ریگولیٹری اتھارٹی ہونی چاہیے جو میڈیا کو دیکھے اور ایک ہی طرح کے قوانین ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں ہر نئی حکومت اپنے ابتدائی دنوں میں ایسی کارروائیاں ڈالتی ہے جس پر عوام میں ان کی واہ واہ ہوجاتی ہے۔ ایوب خان سے لے کر نواز شریف تک کے آخری دور حکومت کا جائزہ لے لیں تو ایسا ہی نظر آتا ہے۔

وقت گزرنے کے بعد نئی حکومت کے لوگ بھی پرانے ہی رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان حکومت بھی اسی پرچارک کا شکار ہے۔ حکومت کے وزیر اور مشیر اپنی اپنی خواہش، ضرورتوں اور تمناؤں کو پورا کرنے کے لئے ایسے ایسے مشوروں پر عمل کر رہے ہیں جن کا کوئی کار آمد نتیجہ نہیں نکلے گا۔ صرف ایک ہی مثال لے لیں کہ آخر حکومت کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وزیر اعظم دفتر میں موجود گاڑیوں کی فوری نیلامی کی جائے۔ کچھ توقف کیوں غیر ضروری محسوس کیا جارہا ہے۔ استعمال ختم کریں اور نیلامی کو موخر کردیں ۔ دیکھیں کہ کیا کیا ضرورتیں سامنے آتی ہیں۔ اس طرح دیگر اعلانات اور اقدامات کی طرح فواد چوہدری کہتے ہیں کہ اس وقت مختلف ادارے علیحدہ علیحدہ کام کر رہے ہیں اور اب ان سب کو ضم کر کے ایک نیا ادارہ بنایا جائے گا جس کی صورت میں ان کے خیال میں ریاست کے وسائل بچیں گے۔ نیا ادارہ بنایا جائے گا ، نئے نئے لوگ آئیں گے، نئی نئی حکمرانی کا تجربہ کریں گے۔ ہاتھی پالنا کیوں ضروری ہے؟

تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان میں چند روزہ چاندنی کے دوران سب ہی اپنا رومان پورا کرتے ہیں۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات موجود ہے۔ اس کے ماتحت مختلف ادارے مختلف ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تما م محکموں اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور سرخ فیتے کی کارروائی سے نجات حاصل کی جائے۔ تجربہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ حکومت کے دور میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات اپنے تئیں نت نئی رکاوٹیں کھڑی کر رہی تھی۔ مثلا اخبار شائع کرنے کے ڈیکلیئریشن کے اجرا کو مشکل بنادیا گیا ہے حالانکہ جس بنیادی قانون (پریس این ڈ پبلی کیشنز آرڈیننس ) کے تحت اخبار ات کے معالات کو دیکھنا ہے، اس کے مطابق اخبار شائع کرنے کے لئے کوئی بھی شخص ڈیکلیئریشن حاصل کرنے کی درخواست ڈپٹی کمشنر کو دے سکتا ہے جو ساٹھ روز میں ڈیکلیئریشن جاری کرنے کا پابند ہوگا بشرطیکہ ڈیکلیئریشن جاری نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ بتائی گئی ہو۔ ہوا یوں کہ حکومت نے ملک بھر میں اخبارات کے ناموں میں ٹکراؤ کو روکنے کے لئے پریس رجسٹرار کا دفتر قائم کیا ۔

اس دفتر کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اخبار کے نام منظور کرے گا یا پھر درخواست دہندہ سے متبادل نام طلب کرے گا۔ پریس رجسٹرار نے وزارت اطلاعات کے افسران اور اپنے تئیں ایسی ایسی پابندیاں عائد کردی ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ڈیکلیئریشن کے اجرا کے آسان طریقہ کو مشکل بنانا مقصود ہے۔ پبلشر کے لئے ماس کمیونی کیشن یا سوشل سائنس میں ماسٹر کی ڈگری کی شرظ کیوں لگائی گئی ہے؟ موجود ہ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس طویل جدوجہد کے بعد وزیر اعظم محمد خان جونیجو حکومت کے دور میں وجود میں آیا تھا جس کی نتیجے میں ڈیکلیئریشن کا حصول آسان تر بنا دیا گیا تھا ۔ پریس رجسٹرار کے دفتر کی عائد کردہ پابندیوں کو فوری ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پریس کونسل آف پاکستان کا قیام اس مقصد کے تحت وجود میں آیا تھا کہ اگر کسی بھی شخص یا ادارے کو کسی اخبار سے شکایت ہو تو وہ کونسل سے رجوع کرے تاکہ کونسل شکایت کا ازالہ کرسکے۔ کونسل اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے میں کامیاب نہیں رہی بلکہ اس نے بھی یہ پابندی عائد کردی کہ جب کوئی بھی اخبار اپنی اشاعت کی تصدیق کے لئے قائم دفتر آڈٹ بیورو آف سرکولیشن سے رجوع کرنے سے پہلے اس سے باقائدہ فیس ادا کرکے سرٹیفیکیٹ حاصل کرے گا۔ ایسا کیوں ہوا، یہ وضاحت کبھی نہیں کی گئی۔ اشاعت کی تصدیق کے سلسلے میں پریس کونسل کا کیا بیچ؟

ریڈیو پاکستان برائے نام پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ہے۔ کارپوریشن کے قیام میں آنے کے باوجود ریڈیو ایک ایسا سرکاری محکمہ لگتا ہے جو تھک گیا ہو، جہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں رکھنے والے افراد قید و بند اور جبر میں زندگی گزار رہے ہوں ۔ یہ ہی ریڈیو پاکستان کی ما ضی کی تاریخ دیکھیں تو کارنامے ہی کارنامے نظر آتے ہیں لیکن کارپوریشن کے زمانے میں اس کی صلاحیتوں کو زنگ لگ گیا۔ کوئی افسر یا پروگرام پروڈیوسرکوئی نئی بات سوچنے کے لئے بوجوہ تیار نہیں ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن بھی ایک کارپوریشن کے تحت کام کرتا ہے لیکن ریڈیو کی طرح یہاں بھی سرکاری ملازمین کو ہی دسترس حاصل ہے۔ یہ سرکاری ملازمین اپنی ملازمتیں بچانے میں ہی مصروف ر ہتے ہیں اور خوشامد یں کر کے اپنی ذات کے لئے فوائد حاصل کرتے رہتے ہیں۔ ان دونوں اداروں میں کرپشن (ہر طرح کی) بھی ناسور کی طرح سرایت کر گیا ہے۔ دونوں کارپوریشنوں میں پیشہ ور افراد کی با مقصد نمائندگی ہونا چاہئے جو نہیں ہے۔ ان اداروں کو اپنی اپنی جگہ کام کرنا چاہئے لیکن انہیں با اختیار اور مضبوط بنایا جائے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگرلیٹری اتھارٹی (پیمرا ) کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے نجی ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پیمرا نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایسے ایسے اقدامات کئے جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کے دونوں اہم بازو مہنگے سے مہنگے ہوگئے۔ ٹی وی چینل کے لائسنس کا اجراء نا ممکن بنا دیا گیا۔ سرمایہ کار پرانے جاری شدہ لائسنس بہت مہنگے داموں میں خرید کر چینل قائم کر رہے ہیں۔ ایف ایم ریڈیو کے قیام کے لئے بھی لائسنس کے اجراء کو عام نیلامی کے ذریعہ ایف ایم کے مقصد کو ہی ناکامی سے دوچار کر دیا گیا۔ ایف ایم ریڈیو کے قیام کا بنیادی مقصد کمیونیٹی کی تربیت، ترقی، آگاہی کے لئے تھا جیسا دنیابھر میں ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے لائسنس کو نیلامی کے ذریعہ ایسا کاروبار بنادیا گیا جو متوسط ، تعلیم یافتہ ، ذرائع ابلاغ کا تجربہ رکھنے والے افراد کی پہنچ سے دور کر دیا گیا۔ پہلے لائسنس کی ابتدائی قیمت ایک لاکھ ہوا کرتی تھی جسے بڑھا کر دس لاکھ کر دیا گیا۔ نیلام میں ایک بولی پچاس ہزار سے ہوا کرتی تھی جسے اب ایک لاکھ کر دیا گیا ہے۔ پیمرا نے ایف ایم ریڈیو کے اداروں کی کسی قسم کی عملی مدد کی بجائے ان پر طرح طرح کی پابندیاں کھڑی کردیں ۔ پیمرا نے کبھی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشاورت نہیں کی ۔ نیلامی کی وجہ سے ایسے لوگوں نے لائسنس حاصل کر لئے جن کے سیاسی مقاصد ہیں یا پھر کاروبار کرنا مقصود ہے۔

کمیونٹی کی تربیت، ترقی اور آگاہی کے معاملات پس پشت ڈال دئے گئے۔ لائسنسوں کے اجرا میں پیمرا نے خود اپنے اصولوں اور ضابطوں کو پامال کر دیا ہے۔ پیمرا اتھارٹی کے ااراکین کی نامزدگی حکومت وقت کرتی رہی ہے، جس میں اعلیٰ سرکاری افسران کے علاوہ چاروں صوبوں سے ایسے افراد کو نامزد کیا جاتا ہے جنہیں ذرائع ابلاغ کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں ہوتی۔ کسی سیاسی جماعت کے کارکن کو بھلا کیا علم کہ ایف ایم ریڈیو کی کیا ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسی طرح کونسل آف کمپلینٹس بھی ایک بے اختیار سا ادارہ ہے جس میں درج کرائی گئی شکایات پر کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔ ان اداروں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر عدالت عظمی یا عدالت عالیہ کے احکامات نے ہی پیمرا کی سمت کا تعین کیا ہے۔ کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ پیمرا اپنے شراکت داروں کی مشاورت سے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرتا۔

پیمرا نے ایک نجی چینل کے ایک پروگرام میں عدالت میں زیر سماعت مقدمہ زیر بحث لانے پر چینل کو حال ہی میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے حوالے سے احکامات کی روشنی میں تمام نیوز اور کرنٹ افیئرز ایس ٹی وی چینل لائسنسز کو ایڈوائس جاری کی ہے اور انہیں عدالت میں زیر سماعت مقدمات کو پروگرامز میں زیر بحث لانے سے روک دیا ہے، عدالت میں زیر سماعت مقدمات پر بحث نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ یہ پیمرا قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکا کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات سے قبل ہی ذرائع ابلاغ کے علم میں ہوتا کہ ان کی حدود کیا ہیں ۔ ’’بولنے کی صحافت ‘‘ بھی خوب ہے۔ جو چاہا بول دیا۔ تلفظ ، گرامر، الفاظ کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ سے مبرا ہے۔ اسی وجہ سے مداخلتوں کا سامنا رہتا ہے اور برداشت بھی کرنا پڑتا ہے۔ جو ہر طرح سے پریس سنسر شپ کے زمرے میں آتا ہے ۔

پاکستان میں پریس سنسر شپ کی بھی عجیب کہانی ہے۔ کبھی دھونس دھمکی ، پبلشر، ایڈیٹڑ اور پرنٹر کو قید و بند، ڈیکلیئریشن کی منسوخی ہوا کرتی تھی۔ پھر ایک دور ایسا آیا کہ حکومتوں نے کان دوسرے طریقے سے پکڑنا شروع کر د ئے اور اپنی بات منوانے لگیں۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سرکاری اشتہارات کے بارے میں کہا کہ بدھ کو ہونے والے سینیٹ اجلاس سے سابقہ حکمران جماعت ن لیگ نے صرف اس وجہ سے واک آؤٹ کیا کہ ان سے صرف پوچھا گیا تھا کہ اشتہارات کی مد میں ان کے دور میں کتنے پیسے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ وفاقی حکومت نے صرف ایک مد میں 17 ارب اور دوسری مد میں 6 ارب روپے اشتہارات پر خرچ کیے تو اگر صرف ایک سال میں 23/ 23 ارب روپے کے اشتہارات شائع کرنے پر خرچ کریں تو حکومت صرف اشتہارات پر چل رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اب اشتہارات کے جائزے کے لئے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس معاملے کو دیکھے گی کیونکہ وزیراعظم نے ذاتی تشہیر کی لئے اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔وزیر موصوف کہتے ہیں کہ نئے ادارے میں اعلیٰ پیشہ وارانہ قابلیت رکھنے والے لوگ شامل ہوں گے اور ان کے ساتھ میڈیا کی نمائندگی بھی شامل ہو گی۔ اس تماش گاہ میں ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ، بغور جائزہ لئے بغیر جلد بازی میں کوئی نیا ادارہ بنانا صرف بے نتیجہ کارروائی ہی ثابت نہیں ہو گی بلکہ ایک اور ہاتھی پالنا ہوگا اور موجودہ تمام ادارے آپس میں سر پھٹول اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں ہی مصروف رہا کریں گے ۔

مزید : رائے /کالم