A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

نئی حکومت اور نئے پاکستان کے لئے

نئی حکومت اور نئے پاکستان کے لئے

Sep 04, 2018

ایس اے رضا

ایک آدمی نے دُکان سے چینی کی بوری خریدی اُسے کمر پر’’ لادا ‘‘اور گھر لے آیا ، بوری کے وزن سے جسم پسینے سے شرابور تھا ، بوری پر نظر پڑی تو اُس کے اُوپر چینی کی بجائے نمک لکھا ہوا تھا ، بہت حیران ہوا کہ میں تو چینی کی قیمت دے کر آیا ہوں دُکاندار نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور مجھے نمک دے دیا وہ غصے میں بوری کمر پر لاد کر واپس دُکان پر پہنچا دُکاندار سے شکائت کی کہ مجھے آپ نے چینی کی جگہ نمک کی بوری دے دی ہے ، دُکاندار بولا آپ کو کیسے پتا چلا کہ یہ نمک ہے ، میں نے بوری پرپڑھا ہے گاہک نے جواب دیا ، دُکاندار چالاک تھا اُس نے گاہک کو کہا کہ بوری میں چینی ہی ہے لیکن میں نے مکھیوں کو ’’ مغالطہ ‘‘ ڈالنے کے لئے اس پر نمک لکھ دیا ہے آپ اس کو کھول کر چیک کر لیں ، گاہک مطمعن ہو کر چلا گیا ۔گاہک بھی کیا سادہ آدمی تھا بھلا مکھیاں پڑھی لکھی ہوتی ہیں کہ وہ نمک پڑھ کر چینی کی بوری پر نہ بھنبھنائیں ؟ بہر حال دُکاندار کی چالاکی کے سامنے گاہک کی بے وقوفی ہار گئی تھی ۔

آج کل ایسے کچھ واقعات ہمارے وطن عزیز میں رُونما ہو رہے ہیں ۔مثال کے طور پر تحریک انصاف کے راہنما علی امین گنڈا پور کی گاڑی سے دو سال قبل شراب کی بوتل برامد ہوئی ، جس پر لکھا ہوا پڑھنے سے پتا چل رہا تھا کہ یہ شراب کی ہی بوتل ہے لیکن جب علی امین گنڈا پور سے پوچھا گیا تو اُس نے کہا کہ یہ شراب کی نہیں بلکہ شہد کی بوتل ہے ، برامد ہونے والی پراسرار بوتل کے بارے میں نہ تو کوئی میڈیکل رپورٹ آئی اور نہ ہی ثابت کیا گیا کہ اُس بوتل میں شہد تھا ، دوسرا واقع کراچی کے ہسپتال میں ہوا جہاں چیف جسٹس آف پاکستان نے اچانک چھاپہ مارا تو وہاں کرپشن کے جرم میں جیل سے ہسپتال پہنچنے والے شرجیل میمن کے کمرے سے دو عدد بوتلیں ملیں ، حیران کن بات یہ ہے کہ اُن بوتلوں پر بھی شراب ہی لکھا ہوا تھا ، شرجیل میمن اور پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ناصر شاہ نے کہا کہ اُن بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل ہے ۔

میں نے ایسی بوتلوں کی تلاش میں بڑا سر ’’ کھپایا ‘‘ لیکن وہ معجزاتی بوتلیں مجھے نہیں مل سکیں ، اگر کوئی اطلاع کنندہ یہ بتائے کہ ایسی بوتلیں کہاں سے ملتی ہیں کہ جن کے اُوپر لکھا تو شراب ہو لیکن اندر شہد یا زیتون ہو ۔ خیر کچھ بھی ہو ہم بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہیں اُن طلسماتی بوتلوں تک ضرور پہنچیں گے جن کے بارے میں وزراء بھی کہہ اُٹھتے ہیں کہ بوتلوں میں کچھ خراب نہیں بلکہ سب اچھا ہے ۔

دوسال گزر گئے لیکن ابھی تک علی امین گنڈا پور کی بوتل میں کیا تھا وہ سامنے نہیں لایا جا سکا ، اسی طرح شرجیل میمن کے کمرے سے دو بوتلیں ملی ہیں اُن کو چیک نہیں کرایا جا سکا کہ پتا چلے اُن میں کیا تھا ، الکوحل کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے لیبارٹیز بھی موجود ہیں اس کے باوجود آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ در حقیقت معاملہ کیا ہے ؟قومی انتخابات اور پھر نئی حکومت کا نیا پاکستان بنانے کا عزم ابھی تک بیانات تک محدود ہے ، نئے پاکستان کی ایک باے سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ وفاقی اور صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان کی تقاریر اور بیانات کی بازگشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے ، فرق یہ کہ فواد چوہدری ہیلی کاپٹر کے بتائے ہوئے خرچے پر ’’ اڑ ‘‘ گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جو کہا وہ ٹھیک تھا اس بیان کو صحیح ثابت کرنے کے لئے وزیر موصوف نے ہیلی کاپٹر اخراجات کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر لیں اور یہ بات سچ ثابت کر دکھائی کہ ہیلی کاپٹر 55روپے فی میل کا خرچ کرتا ہے ، دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات نے اپنے دو بیانات کی فوری معافی مانگی ، دونوں بیانات میں انہوں نے اسٹیج اور فلم کی اداکارہ نرگس ، میگھا اور ٹی چینل کے اینکر پرسن کی جو دُرگت بنائی تھی وہ نہ ہی سنی جائے تو بہتر ہو گا ، کیونکہ قذافی سٹیڈیم کے ہال میں فیملیز کے سامنے فیاض الحسن چوہان کی تقریر نئی حکومت اور نئے پاکستان بنائے جانے پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔

فیاض الحسن چوہان نے اپنی سیاسی زندگی کی ابتداء اور ٹریننگ تو بہت ہی اچھے ماحول اور اساتذہ سے لے رکھی ہے لیکن تقریر کرتے وقت اور بیان دیتے ہوئے وہ جذباتی کیوں ہو جاتے ہیں یہ سمجھ سے بالا تر بات ہے ، یا یہ تصور کر لیا جائے کہ موصوف کو یقین نہیں کہ وہ وزیر بن چکے ہیں یا پھر یہ سوچ لیا جائے کہ موصوف کی سوچ اور سمجھ سے اُن کو ملنے والی وزارت بالاتر ہے ۔

میں اپنی اس تحریر کے زریعے وزیر اطلاعات و نشریات کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ وہ واقعی وزیر بن چکے ہیں اور لوگوں کو یہ یقین دلانے کے لئے انہیں جذباتی نہیں بلکہ اپنائیت اور بھائی چارے پر مبنی گفتگو کرنے اور بیانات دینے کی ضرورت ہے ، باقی پاکستانی قوم اب کافی سمجھ دار ہو چکی ہے اور اُسے شعور بھی آگیا ہے اس لئے صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات اب ہر قدم دھیان سے اُٹھائیں کیونکہ ابھی انہیں لمبی اننگ کھیلنی ہے ۔

مزیدخبریں