مولانا صاحب توبہ کریں

مولانا صاحب توبہ کریں
مولانا صاحب توبہ کریں

  

  تحریک انصاف کی نو زائیدہ حکومت اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر نے کی سعی میں مصروف ہے جبکہ حزب ِاختلاف حکومت کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑی ہوئی ہے۔ ہر چھوٹے موٹے کیس میں اپوزیشن عمران خان سے اُسکے سسرالی رشتہ داروں کو ملوث کر نے کی تگ ودو میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی  ہے۔اپوزیشن نے اس سے پہلے بھی دو بار عمران خان کی ازدواجی زندگیوں پر حملے کرائے ہیں جو اخلاقیات کے برعکس ہے۔ اپوزیشن کی حرکات و سکنات سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی کامیابی سے حزب اختلاف بو کھلاگئی ہے اور اب پھر وہ عمران خان کی ذاتی زندگی کو ٹارگٹ کرنا چاہتی ہے۔

مُسلم لیگ ن کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین جناب آصف زرداری کا یہ کہنا کہ ہمارے بغیر وفاق میں حکومت نہیں بن سکتی یا پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو گی لغو اور بے بنیاد ثابت ہو چُکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے اخباری بیانات اور اُنکی جلسوں میں کی گئی تقاریر بے وزن لگتی ہیں۔ لیکن آج بھی وُہ اپنی سیاسی برتری کو جتانے کے لئے یا عوام میں اپنی سیاسی ساکھ کو بحال رکھنے کے لئے اخباروں کی سُر خیوں میں رہنا پسند کرے ہیں۔اگر پچھلی تین دہائیوں کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو قار ئین کو با آسانی اندازہ ہو جائے گا کہ ایم کیو ایم اور جمعیت الاسلام (ف) گروپ ہمیشہ حکو متی پارٹی کے حلیف رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے ہر حکو متی پارٹی سے عہدوں کے ساتھ ہر قسم کی مراعات حا صل کی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے اِس بار عوام نے اُن کو مکمل طورپر انتخابات میں رد کر دیا ہے۔ وُہ شرمندہ ہو نے کی بجائے حزب اقتدار پر طنز و تنقید کے تیر چلا رہے ہیں۔ مولا نا فضل الرحمان اپنے مُفاد میں اس قدر اندھے ہو گئے ہیں کہ انہوں نے یوم پاکستان منانے کی تمام تقریبات میں شمولیت سے بھی انکار کر دیا  ۔ کیونکہ اُنکا انتخابات کے بارے میں یہ خیال ہے کہ  انتخابات دندھالی زدہ ہیں۔ لہذا ایسے انتخابات کو انصاف پر مبنی سمجھنانا جائز اور نا روا ہے۔ مولانا کے نزدیک ہر وُہ عمل جس میں اُنکو اولیت یا فوقیت حاصل نہ ہو۔ وُہ بے کار ہے۔ اگر سادہ لفظوں میں اُن کے بیا نات کے مخفی پہلوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات عیاں نظر آتی ہے کہ انہیں کسی بھی قیمت پر عمران خان کی جیت پسند نہیں۔ لہذا عمران خان کو نیچا دکھانے کے لئے وُہ کسی بھی سطح تک گر سکتے ہیں۔ مولانا ہر دورِحکومت میں برا بر کے شریک رہے ہیں۔ مراعات اور پروٹوکول وفاقی وزیر کا انجوائے کر تے رہے ہیں۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اب وُہ پارلیمنٹ میں رُکن تک مُنتخب نہیں ہو سکے۔سیاست پر گہری نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ عوام نے اُنکی اوچھی حرکتوں کی وجہ سے انتخابات میں مسترد کر دیا ہے۔عوام کی نظروں میں وُہ بے توقیر ہو چُکے ہیں۔اپنی ناکامی سے وُہ اسقدر سٹپٹا گئے ہیں کہ وُہ مُلک اور قوم کے مُفادات کو فر اموش کر چُکے ہیں۔وُہ افواج ِپاکستان جیسے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔  پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ن اپنے انجام سے بخوبی آگاہ  ہیں۔ میاں صاحبان کا طرز اقتدار شاہی تھا جسے کسی طور بھی جمہوری نہیں کہا جاسکتا۔ چھانگا مانگا کا نظریہ جمہوریت اُن کے زر خیز اذہان کی پیداوار ہے۔ مُک مُکا کی پالیسی اُن کا طرہِ امتیاز ہے۔ زرداری صاحب زیرو سے ہیرو بن گئے۔ باپ کی جائیداد کے علاوہ بھٹو صاحب کی جاگیر بھی ہتھیا لی۔ مُلک کے ممتاز صنعتکار اور سیاسستدان بن گئے۔حتیٰ کہ مُلک کے صدر بن بیٹھے۔ پانچ سال تک مُلک کے سیاہ اور سفید کے مالک بنے رہے۔ہر قسم کی کرپشن میں ملوث رہے لیکن نیب کے تمام ریفرنسوں سے بری قرار دئے گئے۔ اپنے دور میں مثالی منی لانڈرنگ کی۔ سوئس بینکوں میں کھاتے کھولے۔ حکومت کی پیروی کے باجود ایک پائی تک واپس نہیں کی۔ پھر بھی اس زعم میں مبتلاءہیں کہ وُہ مُلک کے سب سے بڑے خیر خواہ ہیں۔عمران خان کو سیاست میں طفل ِ مکتب سمجھتے ہیں۔ وُہ عمران کی شُہرت اور سیرت سے خائف ہیں۔نواز شریف سے ڈیل کرنا اُن کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ لیکن عمران خان کی سادگی اور ایمانداری اُن کے لئے ہنوز پریشانی کا باعث ہیں۔علاوہ ازیں، عمران خان کے اخباری بیانات شریف اور زرداری خاندانوں کے لئے سوہان روح ہیں۔ لہذا اِن لوگوں کی مخالفت قابل فہم ہے۔ کیونکہ ان کے خیال کے مُطابق عمران خان سے مراعات حاصل کر نے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ عوام میں اُنکا امیج خراب کیا جائے۔ اُنکے سیاسی بیانات کو توڑ مروڑ کر عوام کے سامنے پیش کیا جائے اوراُن کو حکومت کے لئے اَن فٹ قرار دے دیا جائے۔

یہاں تک تو عوام کو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن عوام کے لئے مولانا کی یہ منطق سمجھنا دوبھر ہے کہ اُنکو مُلک کا صدر مُنتخب کروایا جائے اور وُہ بھی اُس پارلیمان سے جس کو وُہ چند روز پہلے دھاندلی زدہ قرار دے چُکے ہیں۔کیا مولانا صاحب کے پاس کوئی اخلاقی جواز موجود ہے ایسے مطالبے کا؟ ایسے غیر سنجیدہ سیاستدان کا یہ مطالبہ منجھے ہوئے لوگوں کے لئے ویسے ہی مضحکہ خیز ہے۔انہوں نے ہار تسلیم کرنے کی بجائے جن طفلانہ حرکات و سکنات کا مظاہرہ حالیہ دِنوں میں کیا ہے، وُہ عوام کے لئے تعجب خیز ہے۔مولانا کو تو پہلے قوم سے معافی مانگنی چاہئے کہ انہوں نے پہلے یوم آزادی منانے سے انکار کرکے اپنی حب الوطنی کو مشکوک کیا ۔ اب وہ کس منہ سے ملک کی صدارت مانگ رہے ہیں۔سوچنے کی بات ہے۔   

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ