اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 30

04 ستمبر 2018 (14:42)

اے حمید

مجھے چاہ بابل کی اس ننگ انسانیت عقوبت گاہ میں سوائے اس کے اور کوئی تکلیف نہیں تھی کہ میری آزادی سلب کریل گئی تھی اور میں کھلی فضاؤں اور سورج کی روشنی میں سانس لینے میں محروم ہوگیا تھا۔ میں اس حقیقت سے بھی باخبر تھا کہ میں ابھی مر نہیں سکتا۔ سمیری سپاہیوں کی تلواریں اور بھالے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور میں جب چاہوں یہاں سے نکل سکتا ہوں۔ لیکن میری آزادی ان چار انسانوں کے لئے اذیت ناک موت کا پیغام لے کر آتی جو ایک ستم ظریفانہ اتفاق سے میرے ماں باپ اور بہن بھائی بن چکے تھے۔ اس لئے مجھے یا تو اس وقت تک اس عقوبت گاہ میں رینگتے ہوئے آفت زدر کیڑے مکوڑوں کی طرح زندہ رہنا تھا، جب تک میرے مصنوعی ماں باپ اور بہن بھائی بابل سے بحفاظت نکل کر اپنے آبائی ملک ملاکہ نہیں چلے جاتے اور یا پھر مجھے انتہائی رازداری اور خفیہ طریقے سے کچھ اس انداز سے فرار ہونا تھا کہ کسی کا کانوں کان خبر نہ ہو۔

میں نے ایک خالی تہہ خانے میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا تھا اور سارا سارا دن ٹھنڈے نم دار پتھروں کی دیوار کے ساتھ مرض آلودہ تاریکی میں اپنی مقتول محبوبہ روکاش اور اپنی بیوی کی یاد میں گم رہتا جو مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ لے لئے بچھڑ گئی تھی۔ کبھی میں فرعون مصر کے شاہی محلات کی خوشبو اڑاتی فضاؤں مین سانس لیتا تھا اور اپنی حسین بیوی اور دوستوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کیا کرتا تھا اور پھر ایک وقت وہ تھا کہ میں موہنجودڑو کے کاہن اعظم کے روپ میں صندل و غبر کی خوشبوؤں میں اپنی محبوبہ روکاش کو رقص کرتے دیکھتا تھا اور آج یہ عالم ہے کہ چاہ بابل کے تاریک نہاں خانے میں بے یارو مدد مگار پڑا تھا جہاں نہ کبھی سورج طلوع ہوتا تھا اور نہ کبھی آسمان پر ستارے چمکتے تھے۔ ایک تاریک ترین طویل ترین اندھیری رات تھی جس کا کوئی ستاروں بھر اآسمان نہ تھا۔ کوئی آغاز اور انجام نہ تھا۔ میں بیڑیوں کی جھنکاریں اور مرتے ہوئے انسانوں کی کراہین سنتا۔ چھپکلیاں اور زہریلے بچھو میری ٹانگوں سے ہوتے ہوئے گزر جاتے۔ چونکہ میں بھوک ، نیند ، بیماری اور موت سے بے نیاز تھا اس لئے کبھی کبھی اٹھ کر جھکے جھکے اندھیرے تہہ خانوں کے قریب سے گزرتا اور بدقسمت قیدیوں کی اندھیرے میں چمکتی ہوئی زرد بیمار آنکھیں دیکھتا اور ان کی کراہیں سنتا رہتا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 29پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چاہ بابل کے عقوبت خانے میں آئے مجھے نہ جانے کتنے دن گزر چکے تھے۔ میں وہاں سے خفیہ طور پر فرار ہونے کے منصوبے بناتا رہتا مگر میں کوئی ایسا منصوبہ نہ بنا سکا کہ جس پر عمل کرتے ہوئے میں چاہ بابل سے فرار بھی ہو جاؤں اور کسی کو کانوں کان خبر پتہ بھی نہ چل سکے۔ اندھیرے میں گویا ایک تاریک سرنگ میں سے گذر رہا تھا۔ کچھ خبر نہ تھی کہ کب باہر دن نکلا اور کب رات آئی اور کتنا وقت گذر گیا؟ ایک دن یا ایک رات کو خدا جانے کیا وقت تھا کہ مجھے آہنی بیڑیوں کی دھیمی دھیمی جھنکا رکی آواز سنائی دی۔ یہ آواز میرے تہہ خانے سے کچھ دور چھت کے نیچے آ کر رک گئی۔ میں رینگتا ہوا اپنے تہہ خانے سے باہر نکل آیا اور اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میری آنکھوں میں ایسی طاقت تھی کہ اندھیرے میں بھی مجھے چیزیں دھندلی دھندلی دکھائی دے جاتی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ پندرہ بیس قدموں کے فاصلے پر پتھریلے ستون کے پاس ایک انسانی سایہ جھکا ہوا اور لکڑی کے کپے میں سے پانی نکال کر پی رہا تھا۔ میں نے کوئی اہمیت نہ دی کیونکہ قیدی کسی نہ کسی وقت ان کپوں کے پاس آکر پانی پیا کرتے تھے لیکن مجھے انسانی آواز سنائی دی۔ میں نے غورسے دیکھا تو یہ اجنبی قیدی پانی کے دو گھونٹ پینے کے بعد چھت کی طرف اپنا چہرہ اٹھائے گڑ گڑائی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا۔

’’ اب رب ذوالجلال! میرے گناہ معاف فرما دے ۔ میں نے تیرے احکام کی خلاف ورزی کی۔ میں سیدھے راستے سے بھٹک گیا تھا۔ میرے نفس نے مجھے دھوکہ دیا۔ تو مجھے معاف کر دے۔‘‘

میں نے محسوس کیا کہ یہ قیدی دوسرے قیدیوں سے مختلف تھا۔ اس کے حواس قائم تھے اور اس کی آواز میں خدائے ذوالجلال کے حضور ایک عاجزی تھی اور وہ بڑی صاف اور سادہ زبان میں دعا مانگ رہا تھا۔ میں اپنے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پاؤں آہستہ آہستہ اٹھاتا اس کی طرف بڑھا۔ جب اس اجنبی قیدی کے قریب پہنچا تو اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک باریش حسین ترین نوجوان ہے جس کی آنکھوں میں ابھی تک ملکوتی چمک اور مقناطیسی کشش باقی ہے۔ اس کے گھنے سیاہ بال اس کے چوڑے شانوں پر بکھرے ہوئے ہیں اور اس زبوں حالی میں بھی چہرے پر ایک جلال ہے۔ وہ میری طرف شفقت بھری مہربان نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے بڑے ادب سے سوال کیا۔ ’’ آپ کا تعلق کس قوم سے ہے اور آپ اس عقوبت گاہ میں کیسے آئے؟‘‘

اس مرد پر جلال نے ایک پل کے لئے مجھے اپنی چمکیلی روشن آنکھوں سے گھور کر دیکھا۔ پھر یوں گویا ہوا۔

ؔ ؔ ’’ اے نوجوان میرا نام ہاروت ہے۔ میرا ایک ساتھی بھی اسی چاہ بابل میں تصور عبرت بنا زندگی کے تاریک دن بسر کر رہا ہے۔ اس کا نام ماروت ہے۔ ہم دونوں خداوند کریم کے برگزیدہ اور عبادت گزار بندے تھے۔ ہم علایق دنیا سے بے نیاز صبح و شام اپنے رب کی عبادت میں محو رہتے تھے۔ اس شبانہ روز عبادت سے ہمارے دل میں ایک احساس برتری پیدا ہوگیا۔ ہم دنیا والوں سے دور رہ کر پہاڑ کی چوٹی پر خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ہم نے اپنے آپ سے کہا کہ دنیاکا کوئی لالچ کوئی گناہ ہمیں اپنی طرف راغب نہیں کرسکتا ۔ پھر ایسا ہوا کہ خداوند کریم کی طرف سے ہمیں حکم ملا کہ ہم دنیا والوں کے درمیان جائیں اور انہیں گانہ سے باز رہنے کی تلقین کریں اور نیکی راہ دکھلائیں۔ ہم بہت بڑے عبادت گذار تھے اورہمیں یقین تھا کہ دنیاوی لالچ اور نفسانی خواہشات پر ہم نے فتح حاصل کرلی ہے لیکن شاید بڑائی اور برتری کا جو احساس ہمارے اندر پیدا ہوگیا تھا خدا کو پسند نہیں آیا تھا۔ جب ہم دنیا والوں کے درمیان آئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ فسق وفجور میں مبتلا تھے اور گناہ کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے۔ ہم ان کی زبوں حالی کو ایک نگاہ تحقیر سے دیکھتے اور گناہوں سے بچنے کی تلقین بھی کرتے۔ پھر ایسا ہوا کہ عبادت کا غرور ہمارے سامنے آگیا اور ہم خود ان لوگوں کے گناہوں کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ ہماری پارسائی کا دامن آلودہ ہوگی اور ہم احکام خداوندی کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئے اورہم نے عذاب خداوندی نازل ہوا اور ہمیں چاہ بابل میں پھینک دیا گیا۔ اب ہم اپنی الگ الگ کوٹھریوں میں بڑے ہر لمحہ خداوند کریم سے اپنے گناہ اور تکبر کی معافی مانگتے رہتے ہیں اور گڑ گڑا کر دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے گناہ بخش دے۔ ‘‘

ہاروت مجھے اپنے ساتھی ماروت کی کوٹھری میں لے گیا۔ ماروت بھی ایک وجیہہ اور شکیل نوجوان تھا مگر چاہ بابل کے عذاب میں گرفتار ہو کر خدا سے عفودر گزر کا طالب تھا۔ ان دونوں کے روشن چہروں پر اب بھی پارسا اور عبادت گزار انسانوں کی چمک اور نور تھا۔ مجھے ایسا لگاکہ جیسے خداوند کریم نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھااکہ میں کون ہوں اور کس جرم کی پاداش میں مجھے چاہ بابل کے تاریک نہاں خانوں میں جھونک دیا گیا ہے۔ میرے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کس وجہ سے ، ہوسکتا ہے اپنے گناہوں کی پاداش کے باعث میری صحیح شناخت نہیں کر سکے تھے اور انہیں کشف کے ذریعے علم نہ ہو سکا تھا کہ خدا کا ایسا بندہ ہوں جس کو کچھ عرصے کے لئے خدا کے حکم سیموت سے بے نیاز کر دیا گیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ملک مصر کا رہنے والا ہوں بابل میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ میں بادشاہ کے محل میں کفش بردار غلام ہوگیا اور پھر میری عقل پر پرددہ پڑ گیا اور ایک رات بادشاہ حموربی کی بھانجی شہزادی اسمارا کی خواب گاہ میں جا نکلا اور پکڑا گیا۔ ہاروت نے پوچھا۔

’’ کیا تم نے یہاں سے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی؟‘‘

میں نے ہاروت اور ماروت کو اپنی وہی بابل میں داخل ہونے کے بعد کی کہانی بیان کر دی اور بتایا کہ اگرمیں یہاں سے فرار ہوگیا تو بادشاہ میرے بوڑھے ماں باپ اور میری بہن اور چھوٹے بھائی کو پکڑ کر بہت بری طرح سے ہلاک کروا دے گا۔ اس لئے میں اس اذیت گاہ میں رہنے پر مجبور ہوں‘‘میرا جواب سن کر انہیں مجھ سے ہمدردی ہوئی ۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں