”مولوی کا جنّ کالج کے طالب علم پر عاشق ہوگیا ، سچائی جاننے کے لئے جب اسکے دوست بھی اسکے شہر پہنچے تو .... “فیصل آباد کے ایک طالب علم نے جنّات کی حقیقت سے پردہ اٹھادیا

”مولوی کا جنّ کالج کے طالب علم پر عاشق ہوگیا ، سچائی جاننے کے لئے جب اسکے ...
 ”مولوی کا جنّ کالج کے طالب علم پر عاشق ہوگیا ، سچائی جاننے کے لئے جب اسکے دوست بھی اسکے شہر پہنچے تو .... “فیصل آباد کے ایک طالب علم نے جنّات کی حقیقت سے پردہ اٹھادیا

  

نظام الدولہ

چند روز پہلے میں نے ڈیلی پاکستان کے اسی سیکشن میں ارسلان نامی بچے کی کہانی پڑھی ہے جسے شاہد نذیر چودھری نے تحریر کیاہے۔اس بچے کے ساتھ ایک جن زادی جنسی زیادتی کرتی ہے اور اسکا علاج ایک پیر صاحب کرتے ہوئے کئی باتوں کا انکشاف کرتے ہیں۔جہاں تک مٰیں سمجھ پایا ہوں پیر عابد صاحب نے انتہائی ذہانت سے مسئلہ کو سمجھتے ہوئے ارسلان کے والدین کووہ بات بھی سمجھا دی ہے کہ ان کے بچے کو جنات سے زیادہ تنہائی سے بچانا ہے تاکہ وہ خود لذتی کے مسائل میں نہ پھنس سکے ۔

کچھ ایسا ہی مسئلہ ہمارے ایک دوست کے ساتھ بھی ہوا تھا۔وہ فیصل آباد کے ایک قریبی شہر میں رہتا تھا ۔روزانہ کالج آتااور پھر رات ہوتے ہی واپس چلا جاتاتھا ۔ہماری اسکے ساتھ اچھی بھلی دوستی ہوگئی تھی۔چند ماہ بعد ہم نے محسوس کیا کہ وہ کچھ کمزور سا ہونے لگاہے ،چہرے پر مردنی چھانے لگی ہے،آنکھوں کے گرد حلقے بھی نمودار ہوگئے ۔آنکھوں سے چمک ختم ہوگئی ۔ہم اس سے پوچھتے کہ تمہیں کیا ہوا ہے تو وہ خاموش رہتا اور اسکا مرض یونہی بڑھتا گیا ۔پھر جب وہ کافی دن کالج نہیں آیا تو ہم نے اسکے گھر والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اسے ٹائیفائیڈ ہوگیا تھا ا سلئے ہسپتال داخل ہے ۔

ہم اسکی تیمار داری کرنے گئے تو وہ اپنے گھر آچکا تھا ۔ہم نے اسکا احوال پوچھا تو وہ خاموش بیٹھا رہا ۔پاس ہی اسکا ایک بھائی تھا ۔ہم نے محسوس کیا کہ اسکا بھائی اسکے محافظ کے طور پر ساتھ بیٹھا ہے ۔ہم نے زور دیکر پوچھا تو اسکے بھائی نے بتایا کہ دراصل اسکو جن بھوت کا سایہ ہوگیا ہے ۔اس کی حالت ہی کچھ ایسی ہوجانے لگی تھی۔بیٹھے بیٹھے اسکی آواز بدل جاتی،وہ سب سے لڑ نے لگتا اور گھر سے بھاگ جاتا ۔اس حالت میں باتھ روم میں جانے کی ضد کرتاہے تو گھر کا کوئی ایک فرد اسکے ساتھ باتھ روم تک جاتا اور اسکا پہرہ دیتا ہے ۔ ہم بہت حیران ہوئے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی جنّ اسکی حالت خراب کرنے کا باعث بن رہا ہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اسکا علاج ڈاکٹروں سے بعد میں کرایا پہلے پیروں فقیروں سے علاج کراتے رہے لیکن اسکو کوئی فرق نہ پڑا ۔

کچھ دنوں بعد وہ کالج آیا تو ہمیں اسکے ساتھ کھل کر بات کرنے کا موقع ملا لیکن وہ صرف یہی کہتا رہا کہ اسکے والدین اسکو مولوی صاحب سے ملنے نہیں دیتے ۔ہم حیران ہوئے کہ اس میں کیا قباحت ہے ۔وہ مولوی ان کے محلے کی مسجد میں امام تھا ،نہایت شریف انسان مشہور تھا ۔بچوں کو سبق بھی پڑھاتا تھا ۔گورا چٹا جوان آدمی تھا ۔اسکے ساتھ ہمارے دوست کا پرانا یارانہ تھا لیکن گھر والوں نے اس پر بندش لگادی کہ وہ مولوی سے نہیں مل سکتا کہ کیونکہ جب وہ مولوی کے پاس جاتا ہے تو اس پر جنّ آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ اسکا عاشق ہے ۔

اب تو ہمیں بے چینی ہوگئی کہ آکر یہ معاملہ کیا ہے ۔پھر جب وہ کئی روز تک کالج نہیں آیا تو ہم اسکے شہر گئے اور اسکے والدین سے ملے کہ وہ اپنے اچھے بھلے لائق اور شریف سیدھے سادے بیٹے کی زندگی کن چکروں میں برباد کررہے ہیں ،اسکا علاج کیوں نہیں کراتے یا پھر وہ اسکو کالج کے ہوسٹل میں داخل کیوں نہیں کرادیتے تو اس کے والد نے ہمیں ایسی بات بتادی کہ ہمارے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی ” اس کو کوئی جنّ شن نہیں چمڑتا ۔دراصل یہ خودلذتی اور جنسی آوارگی کا شکار ہوگیا ہے “ اسکے والد نے اپنا دل مضبوط کرتے ہوئے بتایا ”شروع میں ہمیں بھی یہی لگا تھا کہ اسے کوئی جنّ چمٹا ہے جسے نکلوانے کے لئے یہ مولوی دوست کے پاس جاتا تو بڑا پرسکون ہوکر آتا تھا ۔بظاہر ساری علامات ایسی تھیں جو ایک جن چمٹے انسان کو ہوتی ہیں۔ لیکن ایک دن ہمیں ان کی بدفعلیوں کا علم ہوگیا ۔مگر اس وقت تک وقت کافی گذرچکا تھا ۔ہم نے اسکو گھر میں بند رکھا،مارا پیٹا  اور اس پر نظر بھی رکھی مگر یہ روزانہ کئی کئی گھنٹے باتھ روم میں گھسے رہنے کاعادی ہوگیا ،ہم نے حالات کا جائزہ لیا اور ڈاکٹر کے مشورہ سے اسکو تنہا سونے سے روکا،کسی بھائی کواسکے ساتھ سلادیا جاتا ،اس طرح دیکھ بھال میں بھی اسکی بہت سی شرمناک حرکتیں سامنے آئیں ۔ڈاکٹر کی دوا سے اس پر کچھ اثر بھی ہوا ہے لیکن یہ جنسی بدفعلیوں کی وجہ سے اپنی توانائی کھوگیا ا ور ذہنی مریض بن کر رہ گیہےا ۔آپ دعا کریں اللہ ہمیں اس عذاب سے بچائے اور کوئی ایسا سبب پیدا ہوکہ اسکا مستقل علاج کرایا جاسکے ۔اب ایک پرائیویٹ نفسیاتی ہسپتال میں زیر علاج ہے ،دوائیاں دیکراسکو سلایا جاتا ہے ،جب جاگتا ہے تو سب سے پہلے کہتا ہے کہ میرے مولوی دوست کو بلا کر لاو۔۔لیکن ہم یہ کام نہیں کرسکتے نہ کسی سے شئیر کرسکتے ہیں ۔آپ کو بتادیا ہے تاکہ اگر آپ حقیقی دوست بن کر اسکی مدد کرسکتے اور اسکو شیطانی مرض سے بچا سکتے ہیں تو کوئی مشورہ دیں “

ہم سب سوچ میں پڑگئے ۔پھر انہیں دلاسہ دیا کہ پہلے اسکا ہسپتال سے پراپر علاج کرائیں ،انشا اللہ جب یہ بہتر ہوجائے تو ہم اسکو ہاسٹل میں اپنے پاس رکھیں گے اور اسکو ایک نارمل انسان بنانے کی کوشش کریں گے ۔اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ اس نوجوان کو حقیقت میں کوئی غیر مرئی مخلوق چمٹی ہوئی تھی یا ایک ایسا بدفطرت انسان کہ جس نے خدا جانے اسکے ساتھ  کیا طریقہ استعمال کیا کہ وہ اس کا عادی ہوگیا اور اسکے اندر    جنسیت نے جن کا روپ دھار لیا ہے ۔دعا ہے اللہ ہمارے اس دوست کو جلد سے جلد صحت دے اور والدین کو بھی شعور دے کہ وہ اپنے بچوں کو انسان کے روپ میں اردگرد پھیلے جنوں بھوتوں سے بچائے رکھے۔

۔۔

مزید : مافوق الفطرت