یورپی پارلیمینٹ کا بھارت سے مطالبہ

یورپی پارلیمینٹ کا بھارت سے مطالبہ

یورپی پارلیمینٹ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال تشویشناک قرار دیتے ہوئے بھارت سے کہا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کئے جائیں،اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والے آرٹیکل370اور35 اے بحال کئے جائیں،کشمیر کا مستقبل طے کرنا چاہئے، کرفیو ہٹایا جائے، مودی انتظامیہ کا رویہ افسوسناک ہے، سخت کرفیو کے نفاذ اور مواصلاتی رابطوں کی معطلی کے باعث وادی اور جموں کے پانچ اضلاع کا 29ویں روز بھی دُنیا سے رابطہ منقطع رہا اور معمولاتِ زندگی بُری طرح مفلوج رہے، تعلیمی ادارے طلبا و طالبات سے خالی ہیں اور گلیاں و بازار سنسان پڑے ہیں،قابض انتظامیہ پرائمری مڈل اور ہائی سکول کھولنے کے جھوٹے دعوے کر رہی ہے،جبکہ یہ سکول بدستور بند ہیں۔

بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اجلاس کے موقع پر ہنگامی طور پر یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز بھی گئے تھے اور انہوں نے یونین میں اپنے ہم منصب سے ملاقات بھی کی، تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ پارلیمینٹ کے اجلاس میں بھارت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان سے مذاکرات کرے تو وہ چار گھنٹے بعد ہی واپس آ گئے،پوری دُنیا بھارت پر پاکستان سے مذاکرات پر زور دے رہی ہے،اس سے پہلے امریکہ،فرانس اور جرمنی نے بھی پیرس میں جی سیون کے اجلاس کے موقع پر مودی سے کہا تھا کہ وہ پاکستان سے مذاکرات کریں، بلکہ نریندر مودی نے تو صدر ٹرمپ سے بالمثافہ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ کشمیر پر کسی قسم کی ثالثی کی ضرورت نہیں، بھارت اور پاکستان دونوں مل کر دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کر لیں گے،بھارت کی اس یقین دہانی پر صدر ٹرمپ نے مطمئن ہو کر کہہ دیا تھا کہ ثالثی کی ضرورت نہیں،اب یورپی پارلیمینٹ نے بھی بھارت پر زور دیا ہے کہ کشمیر پر دوطرفہ مذاکرات کرنے چاہئیں تو پھر ضروری ہے کہ بھارت فوری طور پراس سلسلے کا آغاز کر دے، کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیر کے حالات خراب تر ہو رہے ہیں، کرفیو کے نفاذکو ایک مہینہ گزر چکا ہے پوری ریاست میں کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور ریاست کے باشندے اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ چکے ہیں،جو سیاسی رہنما اپنے گھروں میں قید ہیں اُن کی صحت کے بارے میں بھی تشویشناک خبریں آ رہی ہیں،ان حالات میں کرفیو کا فوری طور پر خاتمہ ضروری ہے،دُنیا میں حالت ِ جنگ میں بھی اتنا طویل کرفیو کبھی نافذ نہیں کیا گیا، ساری دُنیا کو اس طویل ترین کرفیو کے نفاذ پر تشویش ہے اِس لئے فوری طور پر اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔

مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنے تئیں یہ سمجھا تھا کہ انہوں نے کشمیر کا مسئلہ ”حل“ کر دیا ہے وہ اس پر فخر بھی کر رہے تھے کہ جو کام بہتر سال ہی نہیں ہو سکا وہ انہوں نے بہتر دِنوں میں کر دیا،لیکن اب گزشتہ ایک ماہ سے دُنیا بھر میں جس طرح اُن کے اقدام کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے اور ہر بڑے عالمی فورم پر اُن کے اس اقدام کی مذمت جاری ہے اس کے بعد انہیں احساس ہو جانا چاہئے کہ وہ جس کارنامے پر فخر کر رہے تھے وہ خود اُن کے گلے پڑ گیا ہے، بھارت کے اندر بھی سیاست دان، دانشور اور صحافی اُن کے اس اقدم کی مذمت کر رہے ہیں اور کشمیر کے طویل ترین کرفیو پر تو کوئی بھی خوش نہیں یہاں تک وہ ادارے بھی جو اس کے نفاذ کے ذمے دار ہیں اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں اور بعض فوجیوں نے تو استعفے تک دے دیئے ہیں اِس لئے مودی کو اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنے کی بجائے اب اپنی غطی کا احساس کرتے ہوئے فوری طور پر کشمیر کے حالات معمول پر لانے چاہئیں اور دوسرے مرحلے پر پاکستان کے ساتھ خود مذاکرات کا آغاز کرنا چاہئے،کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو کشیدہ صورتِ حال تیزی سے حالات کی خرابی کا باعث بنتی رہے گی، اس وقت کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔اگرچہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ میں پہل نہیں کریں گے اور مسئلہ کشمیر مذاکرات ہی سے حل ہو گا تاہم کشیدہ حالات کو معمول پر لانا بہت ضروری ہے، تبھی مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے،مذاکرات کو محض وقت گزاری کا بہانہ نہیں بنانا چاہئے، کیونکہ صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لئے صِدق دلی سے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے، جو کشیدگی اور جنگ جیسی صورتِ حال کو معمول پر لانے کا باعث بن سکیں۔

بھارت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اِس لئے جنگ کی دھمکیوں سے اسے ڈرانا ممکن نہیں۔27فروری کو بھارت نے ایک حماقت کر کے دیکھ لی تھی جب بالا کوٹ پر حملہ کے لئے آنے والے اس کے جہاز کو تباہ کر دیا گیا اور پائلٹ کو قیدی بنا لیاگیا،بھارت نے بے سروپا دعوے کر کے اپنے ملک کی رائے عامہ کو گمراہ کرنا چاہا،لیکن جلد ہی ”350دہشت گردوں“ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ ہَوا میں اُڑ گیا،اور بالآخر مودی حکومت کو اس معاملے میں پسپائی اختیارکرنا پڑی اور بالآخر ثابت ہو گیا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور بے بنیاد دعوے کر کے جھوٹ کو سچ ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے،اِس لئے بھارت کو جنگی فضا پیدا کرنے سے اجتناب کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور پوری دُنیا بھارت کو یہی بات سمجھانے کے لئے کوشاں ہے، یورپی پارلیمینٹ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے،اِس لئے ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ کر معقولیت کا راستہ اختیار کرنے ہی میں عافیت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...