پولیس تشدد سے ہلاکتیں اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے دعوے

پولیس تشدد سے ہلاکتیں اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے دعوے

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لئے متعلقہ قوانین میں تبدیلیاں زیر غور اور تجویز ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ امن و امان کے حوالے سے جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ہم ستر سال کے پرانے نظام کو یکسر تبدیل نہیں کر سکتے،بتدریج ایسا ہو گا۔وزیراعلیٰ نے یہ بات وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتائی،اور یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ وزیراعظم نے امن و امان کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بچوں سے بد اخلاقی اور پورنو گرافی کے واقعات روکنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعظم کی تشویش اورہدایت بجا ہے تو وزیراعلیٰ نے بھی مناسب بات کی ہے،تاہم حقائق یہ ہیں کہ پنجاب میں بھی جرائم کی رفتار بڑھ رہی ہے، جبکہ پولیس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس کا اندازہ لاہور اور رحیم یار خان میں پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے افراد کے دو واقعات سے بخوبی ہوتا ہے۔رحیم یار خان میں اے ٹی ایم کارڈ کا چور پولیس حراست میں مرا،جبکہ اس سے پہلے اس کی ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی جو شدید تشدد کی نشاندہی کرتی ہے،اسی طرح لاہور کے نوجوان کی موت بھی تشدد سے ہوئی،لواحقین کا الزام ہے کہ معمولی چوری کے شبہ میں گرفتار کر کے نوجوان کو ایک پرائیویٹ فارم ہاؤس پر لے جا کر بہیمانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور جب اس کی موت واقع ہوئی تو تھانے کے باہر پھینک دیا گیا، دونوں واقعات میں مقدمات تو درج ہوئے گرفتاری کوئی نہیں ہوئی۔یہ دو واقعات تازہ ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ صوبے میں سٹریٹ کرائمز میں معتدبہ اضافہ ہوا،جبکہ ڈاکو دندناتے پھرتے اور دکانیں لوٹ رہے ہیں۔ایسے میں وزیراعظم کی ناراضی کے بعد قوانین کی تبدیلی کا ذکر کرنا اپنی جگہ، ہم وزیراعلیٰ کے ارادے اور نیت پر شبہ نہیں کرتے،لیکن عملی صورتِ حال تو مختلف ہے کہ جرائم میں اضافہ ہوا اور ابھی تک روک تھام نہیں ہو سکی۔اکثر دانشور اسے معاشی ابتری سے بھی جوڑ رہے ہیں تو ضروری ہو گیا کہ جہاں پولیس کی کارکردگی اور کردار کو بہتر بنانا لازم ہے، وہاں حالات پر کنٹرول بھی ضروری ہے اور اس کے لئے پولیس کی کارکردگی ہی جواز مہیا کر سکتی ہے،وزیراعلیٰ نے جو بتایا وہ دیرپا انتظامات ہیں، یہاں تو ضروری اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے اِس لئے ساتھ ساتھ ادھر بھی نظر رکھی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...