”مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں“

”مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں“
”مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں“

  


یہ اس وقت کی بات ہے جب میری عمر تقریباًسات آٹھ سال کے قریب ہوگی اورچند دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے میرا گزر اپنے علاقے کے تھانے کے پاس سے ہوا جہاں تھانے کی دیوار کے باہر لوگوں کا میلہ لگا ہوا تھا ۔ ہم بچے بھی یہ دیکھ کر متجسس ہوگئے اور لوگوں کی بھیڑ کوچیرتے ہوئے اگلی صف میں چلے گئے جہاں دیکھا کہ تھانے کے اندر برگد کے تناور درخت کے ساتھ ایک سفید ریش بزرگ کو کالی وردی میں ملبوس افراد نے اس حالت میں الٹا لٹکایا ہوا تھا کہ اس کے تن پر صرف قمیض تھی اور جسم کانچلاحصہ بالکل برہنہ تھا ۔

دوستوں کا تو پتہ نہیں لیکن میں یہ شرمناک اور کریہہ منظر دیکھ کر خوفزد ہ ہوگیا ۔ابھی اس شش پنج میں مبتلا تھا کہ ایک کالی وردی والاتھانے کی اندرونی عمارت سے نمودار ہوا اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایک لمبے کالے رنگ کے لچکدار ٹائر کے ٹکڑے سے ( بعد میں پتہ چلا کہ اس کو”چھتر“ کہتے ہیں ) اس بزرگ کی ننگی پشت پر ضربوں کی بارش کردی ۔ اس شخص کی چیخیں بلند ہوئیں اور پھر بے ہوش ہوگیا۔ اس بے ہوش شخص کے پاﺅں سے بندھی ہوئی مضبوط رسی کو کھولا تو زمین پر گرگیا جس پر کالی وردی والوں کے منہ سے گالیوں کی بوچھاڑ یں آمد ہوئیں لیکن مشق ستم بننے والے کے جسم میں کوئی حرکت نہ پڑ ی تو ایک سپاہی نےبھاگ کر قریبی واش روم سے لوٹا لاکر اس کی ٹوٹی بے ہوش معمر شخص کے منہ میں گھسیٹر کر پانی ڈالنا شروع کردیا ۔

اس کربناک منظر کی تاب نہ لاکر میں وہاں سے گھر کی طرف چل پڑا لیکن ذہن پر ایک ایسا بوجھ سوار ہوگیا جو آج تک نہیں اتر سکا ۔ اس کے بعد ہمیشہ کالی وردی والوں سے خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں دیکھ کر گھن ہی آئی اورتھانے کی عمارت کودیکھ کر خوف محسوس ہوا ۔ گھن اور خوف کا یہ عنصرپولیس کے ہاتھوں آئے روز غریب اور بے کس عوام کے ساتھ ہونیوالی زیادتیاں دیکھ کراور ظلم وجبر کی داستانیں سن کر بڑھتا ہی رہا ہے ۔

یو ں تو اس محکمے اور اس سے وابستہ صاحبان کے کارنامے کی فہرست اس قدر لمبی ہے کہ شمار نہیں کی جاسکتی لیکن رواں پچھلے تین چار روز میں پولیس کے زیر حراست مرنیوالے تین افراد کی بابت تفصیلات جان اور الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پرچلنے والی فوٹیجز دیکھ کر کلیجہ منہ کوآتا ہے ۔ ان میں ایک اے ٹی ایم کارڈ چوری کے الزام میں گرفتار ہونیوالا ذہنی معذورصلاح الدین تھا جس کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ اس کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے لیکن اب سوشل میڈیا پر اس کی لاش کی تصاویردیکھ کر جس میں نہ صرف اس کے نازک اعضا کوتشددکانشانہ بنایا گیاہے بلکہ کھال بھی جلائی گئی ہے، صورتحال واضح ہوجاتی ہے کہ اس کوکونسا ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔

دوسرے واقعہ میں تھانہ گجر پورہ پولیس کے نجی ٹارچر سیل سے دیگر ملزموں کے ساتھ بر آمد ہونیوالے امجد ذوالفقار نے گنگارام ہسپتال میں جاکر دل کی حرکت رکنے سے دم توڑ دیا ۔اس کے گھر والوں کا کہناہے کہ اس پر مبینہ طور پر نجی ٹارچر سیل میں پولیس کی جانب سے شدید تشدد کیا گیا جس سے اس کے جسم پر گہری چوٹیں آئی تھیں۔ پنجاب پولیس کے تشدد کے نتیجے میں دوران حراست تیسرے ملزم کی ہلاکت کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ عامر مسیح لاہور کی پی ایف کالونی میں مالی کا کام کرتا تھا جسے 28 اگست کو سب انسپکٹر ذیشان نے شمالی چھاونی پولیس سٹیشن میں طلب کیااورنامعلوم مقام پر منتقل کرکے تشدد کا نشانہ بنایا۔ حالت غیر ہونے پر اسے فوری طور پر سروسز ہسپتال لے جایا گیاجہاںوہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا۔ان واقعات کا نوٹس لیا جاچکا ہے اور تفتیش کے بعد حسب روایت ہونا کچھ بھی نہیں کیونکہ خاک نشینوں کا خون ہمیشہ رزق خاک ہی ہوتاہے۔

ہمارے ملک میں پولیس کے محکمے کا جائزہ لیا جائے تو ضیاءالحق مرحوم کے مارشل لاءکے بعد آنے والی پے درپے جمہوی حکومتوں ،جنرل (ر) پرویز مشرف کے نیم مارشل لاءاور اس کے بعد پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ادوار میں پولیس اصلاحات کی دعوئے کئے جاتے رہے ۔ ن لیگ کے دور حکومت میں اس محکمے کو ان دعوﺅں کے ساتھ خوشدلی سے نوازاگیا کہ معاشی طور پر آسودہ ہونے کے بعد ان کے عوام کے ساتھ رویے میں بہتری آئیگی لیکن عوا م الناس کے ساتھ ان کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہ آسکی ، البتہ صاحب زر لوگوں کیلئے دیدہ دل فرش کرنا اور بچھے جانا ان کامعمول ہے جس کا نظارہ آپ کسی بھی تھانے میں جاکر صبح و شام کرسکتے ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کے خیبر پختونخوامیں پولیس اصلاحات کے بڑے چرچے تھے ۔ مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد ہم جیسوں نے پتہ نہیں کیوں امیدیں وابستہ کرلی تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد یہ محکمہ حقیقی معنوں میں شتر بے مہار ہوچکاہے ۔ن لیگ کے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کواگرچہ ون مین شو قرار دیاجاتاتھالیکن اتنا ضرور تھاکہ ان کے رعب اوردبدبے کے باعث پولیس کی جانب سے عوام الناس کے ساتھ زیادتیوں میں ایک ٹھہراﺅ ضرور تھا اور جب کبھی کوئی خبر میڈیا کی زینت بنتی اس پر وزیر اعلیٰ کی جانب سے اکثر نوٹس لیکر کارروائی کی جاتی تھی جس کی وجہ سے عوام الناس کے ساتھ پولیس کا رویہ تھانوں میں اس قدر اچھانہیں تو حد سے زیادہ بر ا بھی نہیں تھا مگر تبدیلی سرکار کی پنجاب میں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ طاقت کاکو ئی مرکز نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے پولیس شتر بے مہار کی ہوچکی ہے اورآئے روز زیر حراست ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔یہ سب کچھ اس پارٹی کے دور حکومت میں ہورہاہے جو پولیس اصلاحات اور تشدد کے خاتمے کے دعوﺅں کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچی ہے ۔ اس پر اناللہ وانا الیہ رٰجعون ہی پڑھا جاسکتا ہے یا بقول مرزا اسد اللہ خان غالب ”حیراں ہوں، دل کوروﺅں کہ پیٹوں جگر کو مَیں، مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں۔“

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...