مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کا لاک ڈاؤن جاری، خوراک، ادویات کی قلت

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کا لاک ڈاؤن جاری، خوراک، ادویات کی قلت

  

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جبری پابندیوں اور لاک ڈاؤن کو ایک ماہ گزر گیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں ایک ماہ سے سب کچھ بند، مواصلاتی رابطے معطل ہیں جس کے باعث بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔وادی میں کھانے پینے کی اشیا اورادویات کی قلت میں اضافہ ہوگیا ہے، سخت ترین کرفیو اور تمام پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی مزاحمت جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کاروباری مراکز،تعلیمی ادارے بھی 30 روز سے بند ہیں، اخبارات کی اشاعت بھی بند اور ٹی وی چینلز پر پابندیاں برقرار ہیں جبکہ حریت رہنما اور سیاسی رہنما 5 اگست سے گھروں یا جیلوں میں قید ہیں۔علاوہ ازیں بھارت میں انتہا پسند جنونی ہندوؤں کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بہیمانہ اور انسانیت سوز مظالم پر میئر سری نگر نے اعلان بغاوت کردیا۔ بی جے پی نے اپنے ہی حمایت یافتہ کینسر کے مرض میں مبتلا میئر کو سچ بولنے کی پاداش میں حفاظتی تحویل میں لے کر نئی دہلی منتقل کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اس وقت سخت ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے اپنے حمایت یافتہ میئر سری نگر جنید مٹو نے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر آواز حق بلند کردی۔انہوں نے اپنی آٹھ دن کی نظر بندی کے بعد پہلے ہی انٹرویو میں نئی دہلی کی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو فورسز آپ کو سیکورٹی فراہم کررہی ہوں اور پھر وہی اچانک آپ کو گھر سے باہر نکلنے سے روک دیں تو بہت ذلت محسوس ہوتی ہے۔جنید مٹو نے اپنی حراست کو غیر قانونی اور تضحیک آمیز قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ نفسیاتی طور پرحراست میں گزارے گئے آٹھ دن بہت ذلت آمیز، تکلیف دہ اور مشکل تھے۔خون کے سرطان میں مبتلا جنید مٹو نے نظر بندی کے اختتام پر دئیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ملنے والی ذلت کا آپ اس وقت تک تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں جب تک کہ خود اس صورتحال سے نہ گزریں۔بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے حمایت یافتہ میئر سری نگر نے کہا کہ دم گھٹنے جیسا ماحول اور سیکورٹی فورسز ک تضحیک آمیز رویہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔جنید مٹو نے تسلیم کیا کہ وہ گزرے آٹھ دنوں میں والدین کی صحت کے حوالے سے کافی فکر مند تھے کیونکہ فون بھی کام نہیں کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عید کے دن انہیں صرف چار منٹ کیلئے والد سے ملنے دیا گیا تھا۔سری نگر کے میئر جنید مٹو کو مودی حکومت نے حفاظتی تحویل میں لے کر نئی دہلی منتقل کردیا۔

مقبوضہ کشمیر

میونخ(این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی فوج کے ہاتھوں عصمت دری کے خوف میں مبتلا ہیں۔جرمن میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فوج کے ہاتھوں عصمت دری کا خدشہ ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ خطرات زیادہ ہیں۔ جرمن میڈیا کے مطابق بھارتی فوجی زبر دستی گھر میں گھس جاتے ہیں، کشمیری خواتین اپنے بچاؤ کیلئے لوہے کی راڈز اور ڈنڈوں کا بندوبست کرکے رکھتی ہیں۔

عصمت دری کا خدشہ

مزید :

صفحہ اول -