وزیراعلٰی سندھ کی زیر صدارت محرم الحرام کے حوالے سے علماء کرام کا اجلاس 

    وزیراعلٰی سندھ کی زیر صدارت محرم الحرام کے حوالے سے علماء کرام کا اجلاس 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں محرم الحرام کے حوالے سے علمائے کرام کے ساتھ اجلاس ہوا۔اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ، وزیرِ محنت، وزیرِ بلدیات، وزیرِ آبپاشی، مشیرِ قانون مرتضی وہاب، آئی جی پولیس، سیکریٹری داخلہ، کمشنر کراچی، میونسپل کمشنر کراچی اور دیگر شریک ہوئے۔اجلاس میں شیعہ علما میں سید علی محمد بخاری، علامہ مقصود ڈومکی، علامہ فرقان حیدر عابدی، مولانا صدیق جعفری، علامہ مبشر حسین، علامہ نذیر عباس نقوی، علامہ سید اصغر علی نقوی، علامہ نثار قلندری، سید بدر علی، سید شہباز رضوی، مولانا حسین مسعودی، سید باقر حسین اور سبط رضا شامل تھے۔اجلاس میں شریک ہونے والے اہل سنت علما میں علامہ شاہ عبدالقادر، مولانا اسعد تھانوی، مفتی منیب الرحمن، مولانا طارق عثمانی، حاجی حنیف طیب، صدیق راٹھور، علامہ شاہ فیروزالدین، مولانا اکبر درس، ثروت اعجاز قادری، قاری عثمانی، عمران سلفی، عاطف حنیف اور دیگر شامل تھے۔اجلاس میں وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں چاہتا تھا کہ اجلاس محرم الحرام سے پہلے ہونا چاہیے، ملک کے حالات کی وجہ سے ہماری پہلی ترجیح امن و امان ہے، محرم الحرام میں جو مجالس یا جلوس ہوں اس سلسلے میں پولیس سے مکمل تعاون کرے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں ترقیاتی کام کی وجہ سے محرم الحرام کے جلوس کا راستہ تبدیل ہونے سے ڈیڑھ کلو میٹر کا فاصلہ بڑھ گیا ہے، محرم کے جلوس ہمیں مغرب سے پہلے مکمل کرنا ہوں گے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ برسات کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی وجہ سے سڑکوں پر کچھ جگہوں پر پانی جمع ہے، جس کی صفائی کے لیے صوبائی وزرا سعید غنی اور ناصر شاہ کل سے سڑکوں پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی دنیا کا وہ شہر ہے جہاں تھوڑی کمی بیشی ہونے پر بھی خبروں میں شہ سرخی بن جاتی ہے، ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہوگا۔اس موقع پر سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ سوشل میڈیا کو بہت غلط استعمال کیا جا رہا ہے، اس کے ذریعے مذہبی فرقہ پرستی اور نفرت پھلائی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بین المذہبی رابطے کو بڑھانا ہو گا، مساجد کی تعمیر کے لیے ایس او پی پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔قاری عثمان نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ محرم قربانی کے اعتبار سے تاریخِ انسانی میں بہت اہم ہے، ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کے احترام میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہچائیں۔مولانا اکبر درس نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھارا در کے علاقے میں بجلی کے کنڈے بہت ہیں، جس کی وجہ سے کے الیکٹرک وہاں بجلی بند کرتی ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ محرم الحرام کے دوران بجلی کی بندش کو روکا جائے اور صفائی ستھرائی کا بندوبست کیا جائے۔علامہ مبشر حسین نے کہا کہ کافی عرصے سے شہر میں امن و امان کی صورتِ حال بہت بہتر ہے، ڈاکٹر عسکری کی شہادت محرم الحرام سے پہلے ہمیں ہوشیار کرنے کے لیے کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپتالوں کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں انکار نہیں کرنا چاہیے، ڈاکٹر عسکری کو ایک گولی لگی جس پر انہیں پٹیل اسپتال لے گئے تو انہوں نے کیس لینے سے انکار کر دیا اور ڈاکٹر عسکری زندگی کی بازی ہار گئے۔وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے ڈاکٹر عسکری کے کیس کو لینے سے پٹیل اسپتال کے انکار پر انکوائری کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ تمام پرائیوٹ اسپتال ہنگامی کیسز کو لینے کے پابند ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 9 اور 10 محرم الحرام کو امن ایمبولینس پورے شہر میں مہیا کی جائیں گی۔شمس الحسن شمسی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی ادارے کام نہیں کر رہے، اگر بلدیاتی اداروں سے بات کرتے ہیں تو وہ فنڈز نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، کراچی میں جلوسوں کے راستوں، سڑکوں اور نکاسی آب کو بہتر کیا جائے۔علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے، شکار پور، جیکب آباد، شہداد کوٹ اور گھوٹکی اضلاع میں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے محرم الحرام کے اجتماعات میں بھی بھرپور سیکیورٹی ہونی چاہیے، خواتین پولیس مزید تعینات ہونی چاہیے۔علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ سندھ کے اضلاع میں رضا کاروں کی تربیت پولیس اور رینجرز کر رہی ہے، یہ اچھا اقدام ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جیکب آباد میں یوم عاشور پر لوڈشیڈنگ کے دوران دھماکے ہوئے تھے، مجالس اور جلوسوں کے دوران لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے، علما سے زیادہ اشتعال انگیز تقاریر تو سیاستدان کر رہے ہیں۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ، شبیر بجارانی اور وقار مہدی کو فوکل پرسن بنانے کا اعلان کیا، یہ وزرا محرم الحرام کے دوران تمام مسائل حل کرنے کے لیے علما سے رابطے میں رہیں گے۔فیضانِ مدینہ کے محمد یعقوب عطاری کا اجلاس میں کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ اور اس کے پیچھے تجاوزات ہیں، اس علاقے میں چائنا کٹنگ کر کے تعمیرات کی گئی ہیں، ان علاقوں سے تجاوزات ہٹائی گئی تھیں لیکن بعد میں یہ تجاوزات دوبارہ قائم کر لی گئی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -