”نیوکلیئر ہتھیاروں کی بات کرنا عوام کا کام نہیں اور ۔۔۔“ میجر جنرل آصف غفور نے سلیم صافی کے کس سوال پر یہ جواب دیا؟

”نیوکلیئر ہتھیاروں کی بات کرنا عوام کا کام نہیں اور ۔۔۔“ میجر جنرل آصف غفور ...
”نیوکلیئر ہتھیاروں کی بات کرنا عوام کا کام نہیں اور ۔۔۔“ میجر جنرل آصف غفور نے سلیم صافی کے کس سوال پر یہ جواب دیا؟

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈائریکٹر جنرل آف انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں سے متعلق بات کرنا عوام کا کام ہے اور نہ جلسوں میں ریاست کی پالیسیوں کے بارے میں بات کی جاتی ہے، عوام کو اپنے ملک کی صلاحیت پر اعتماد ہونا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ ”نیوکلیئر ہتھیاروں پر ماضی میں بھی کچھ طاقتیں ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرتی رہیں، اب ہمارے بعض وزراءکہتے ہیں کہ ہمارے پاس آدھے پاﺅ کے بم ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ پاﺅ کا بم ہے اور غلط طور پر ہمارے ٹیکٹیکل ہتھیاروںکی یہ تشریح کر رہے ہیں کہ جیسے ہمارے پاس چھوٹے چھوٹے ایٹم بم ہیں اور انہیں ہم محدود دائرے میں استعمال کر سکتے ہی۔ اس حوالے سے ہماری ریاست اور افواج پاکستان کی نیوکلیئر پالیسی کیا ہے اور اس ڈیٹرنس کو ہم کس سطح پر، کس حد تک اور کس وقت پر استعمال کریں گے جبکہ ٹیکٹیکل ویپز کے تصور کے اصل معنی کیا ہیں۔“

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس سوال کا جواب میرے قد سے بھی 12 فٹ اونچا ہے ۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”سٹریٹجک صلاحیت روک تھام کیلئے ہی ہوتی ہے اور پولیٹیکل چوائس کا ہتھیار ہے جس پر ہر بندہ بات سکتا ہے اور نہ ہی ان پالیسیوں کو جلسوں میں بتایا جاتا ہے۔

یہ ریاست کی پالیسیاں ہوتی ہیں اور جلسوں میں بنتی ہیں نہ ہی جلسوں میں تبدیل ہوتی ہیں، ذمہ دار ریاست اس پر کبھی بات نہیں کرتی کیونکہ یہ بہت سنجیدہ مسائل ہوتے ہیں لیکن جو چیز آپ کے جاننے کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہتھیار اور وسائل کی بات نہیں بلکہ قوم کے اعتماد اور فیصلہ کرنے والوں کے اعتماد کی بات ہے۔

یہ مسئلہ پورے پاکستان کا ہے، اسے آپ صلاحی اور خطرے کے پیش نظر دئیے جانے والے ردعمل کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں، میں عوام سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ میری یہ ان کے کرنے کی باتیں نہیں ہیں، انہیں اپنے ملک کی صلاحیت پر اعتماد ہونا چاہئے، اور جب ملک کو خطرہ ہو گا تو ہر طرح کی آپشن پر غور کیا جاتا ہے اور فیصلہ کرنے والے فیصلہ لیتے ہیں۔

مزید :

قومی -