خیبرپختونخوا میں ایک اور پولیو کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 45 ہوگئی

خیبرپختونخوا میں ایک اور پولیو کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 45 ہوگئی
خیبرپختونخوا میں ایک اور پولیو کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 45 ہوگئی

  


سرائے نورنگ (صباح نیوز)خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ سے ایک اور پولیو کیس سامنے آگیا جس کے بعد رواں سال صوبے میں سامنے آنے والے پولیو کے کیسز کی تعداد 45 ہوگئی۔

خیبر پختونخوا کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر(ای او سی) کے کو آرڈینیٹر کامران احمد آفریدی نے بتایا کہ پولیو سے متاثرہ بچی کی عمر 5 ماہ ہے جسے حفاظتی قطرے نہیں پلائے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ 'ان پولیو کیسز کی بڑی وجہ والدین کا بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے سے انکار ہے'۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے، والدین گمراہ کن پروپیگنڈا پر کان نہ دھریں'۔ان کا کہنا تھا کہ 'تمام چیلنجز کے باوجود حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے'۔خیال رہے کہ پولیو وائرس نہایت خطرناک وائرس ہے جو 5 سال کے کم عمر کے بچوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔یہ دماغ پر حملہ کرتے ہوئے جسم کو کام کرنے سے روکتا ہے جس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔پولیو کا کوئی علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس کی ویکسین ہی بچوں کو اس مرض سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے، جب بھی 5 سال سے کم عمر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو اس کی وائرس سے تحفظ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ 2017 میں صرف 8 اور 2018 میں صرف 12 پولیو کیسز سامنے آئے تھے۔رواں سال ملک میں سامنے آنے والے 59 پولیو کیسز میں سے 45 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ سندھ اور پنجاب میں 5، 5 کیسز سامنے آئے اور بلوچستان میں 4 کیسز سامنے آئے.

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /لکی مروت


loading...