عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے اور نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے سے متعلق اجلاس،اہم فیصلے

عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے اور نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے سے ...
عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے اور نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے سے متعلق اجلاس،اہم فیصلے

  

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں آسانیاں پیدا کرنے اور نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے سے متعلق دو الگ الگ اجلاس ہوئے اجلاسوں سے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے ٹائم لائن پر مبنی لائحہ عمل پیش کیا جائے، نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ موجودہ حکومت کا سب سے اہم منصوبہ ہے نہ صرف رہائش اور گھروں کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے معاشی سرگرمیوں میں تیز ی آئے گی,توانائی کے شعبے سے متعلق اجلاس میں عوام الناس کے مسائل کے حل اور توانائی کے شعبے میں کاروبار سے منسلک مراحل اور عوامل کو آسان بنانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب خان بھی موجودتھے۔

  سیکرٹری پاور ڈویژن نے اجلاس کو بتایا کہ بجلی کے حوالے سے عوام کو درپیش مسائل میں غلط یا زیادہ بلوں کی شکایت،  لوڈشیڈنگ، نرخوں میں اچانک اضافہ، بجلی کی قیمت، کرپشن اور مفاد پرست عناصر کے مفادات کا تحفظ کرتی پالیسیاں شامل تھیں۔ ان مسائل کا تدارک کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔  وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ گذشتہ ایک سال کی کاوشوں کے نتیجے میں ملک بھر کے اسی فیصد سے زائد فیڈرز کو بجلی چوری اور نقصانات سے پاک کر دیا گیا ہے جس سے تمام شعبوں کے لئے  بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی گئی  جس کے نتیجے میں ان  شکایات میں واضح کمی آئی ہے۔  اجلاس کو بتایا گیا کہ نظام  ترسیل کی بہتری کے ساتھ ساتھ رواں سال میں بجلی کی تقسیم کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ دسمبر 2017سے التوا کا شکار قابل تجدید منصوبوں کی تکمیل پر کام تیز کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ سال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید کمی آئے گی اور ڈسکوز کے مالی  حالات بہتر ہوں گے.وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ تئیس ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل کا ہدف حاصل کیا گیا,آئندہ سال اس کو چھبیس ہزار میگا واٹ تک بڑھایا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل اے ایم آئی میٹرز اور اے بی سی کیبلز کی تنصیب کے منصوبے پر کام جاری ہے,ٹرانسفارمرز کے حوالے سے عوام الناس کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے صارفین کو یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے کہ وہ منظور شدہ کمپنیوں سے ٹرانسفارمر خرید سکیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کے این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی,لیسکو کے تحت ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس میں بجلی کے کنکشن کے حصول کے مراحل کو آسان ترین بنانے، صارفین کو صرف شدہ بجلی کی قیمت کا  خود حساب رکھنے،  بجلی کی قیمت کے بارے میں صارفین کو مطلع رکھنے، لوڈشیڈنگ کے بارے میں بروقت اطلاع کی فراہمی اور بلوں کی آن لائن پیمنٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے,لیسکو میں عمل درآمد کے بعد اس نظام کو پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔

  لیسکو میں بجلی کے تعطل کے واقعات اور اس تعطل کی مدت کو جانچنے کے جدید  نظام سیفی اور سیدی (System Average Interruption Duration Index (SAIDI) اور  System Average Interruption Frequency Index (SAIFI پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ گذشتہ سال بجلی کی ترسیل میں تعطل کے 1379واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ اس سال کم ہو کر 108رہ گئے ہیں,تعطل کی میعاد3474.3گھنٹوں سے کم ہو کر 432گھنٹے  پر آگئی ہے جو کہ ایک واضح کامیابی ہے۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ توانائی کو ہدایت کی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنے کے حوالے سے مراحل کو مزید آسان بنایا جائے اور اس سلسلے میں ٹائم لائن پر مبنی لائحہ عمل پیش کیا جائے۔بعدازاں وزیرِ اعظم کی زیر صدارت نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے تحت وفاقی دارالحکومت میں مختلف منصوبوں کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس  ہوا۔ وزیرِ اعظم کو نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے اور سرکاری زمین کو موثر طریقے سے برے کار لانے کی حکومتی پالیسی کے تحت وفاقی دارالحکومت میں کمرشل، رہائش و کاروباری سرگرمیوں کے لئے کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگدی گئی ۔

سیکرٹری ہاؤسنگ ڈاکٹر عمران زیب نے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے  جی 13  سیکٹر میں واقع 45ایکٹر ا کی بیش قیمت راضی کمرشل، کاروباری سرگرمیوں اور رہائش کی ضروریات پورا کرنے کے لئے میسر ہے جس پر کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی جا سکتی ہے اور اس مقصد کے لئے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو  دعوت دی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت  اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں  ہاؤسنگ سے متعلق مختلف منصوبوں کے بارے میں تبادلہ خیالکیا گیا ۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے قصر ناز کراچی، چمبہ ہاس لاہور اور کشمیر پوائنٹ پر واقع سرکاری اراضی کو بروئے کار لانے کے حوالے سے مستقبل کے مجوزہ لائحہ عمل کے حوالے سے بھی وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی ۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ موجودہ حکومت کا سب سے اہم منصوبہ ہے جس سے نہ صرف رہائش اور گھروں کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے معاشی سرگرمیوں میں تیز ی آئے گی۔  وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن کے شعبے میں سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں گی تاکہ تعمیرات کے شعبے کو فروغ ملے.

مزید :

قومی -