بھارت کے پاس کشمیریوں کا موقف تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں،حکومت،فوج اور عوام ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں:سید فخر امام

 بھارت کے پاس کشمیریوں کا موقف تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ ...
 بھارت کے پاس کشمیریوں کا موقف تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں،حکومت،فوج اور عوام ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں:سید فخر امام

  

اسلا م آباد(صباح نیوز)کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت پر اقوام متحدہ میں چین نے پاکستان کی بھر پور حمایت کی ہے جس کے بعد روس بھی کھل کر سامنے آگیا ہے،اس عمل سے دیگر بیرون ممالک نے کشمیر کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا،جس سے بھارت کا مکرو چہرہ بے نقاب ہوا ہے،مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد کشمیر یوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں عورتوں کی عصمت دری سے دنیا آگاہ ہے،کرفیو کے باعث نہتے کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں، کشمیریوں  کے حق خود ارادیت کیلئے پاکستان کا ایک موقف ہے اور اس موقف پر افواج پاکستان ، حکومت اور عوام تمام ایک پیلٹ فارم پر کھڑے ہیں،بھارت کے پاس کشمیریوں کا موقف تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے،عالمی برادری بھی اس حوالے سے بھارت پر اپنا دباؤ بڑھائے تاکہ کشمیریوں کو انکے جائز حق مل سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی چوک اسلا م آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام منعقدہ جلسے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان سویٹ ھوم کے سربراہ زمرد خان،پی ٹی آئی کے سلیم بٹ، پیپلز پارٹی کی نبیلہ ارشاد سنیئر حریت رہنما غلام محمد صفی، الطاف احمد بٹ، شمیمہ شال، داوود احمد خان ،مسیحی برادری کے بشارت کھوکھر ،حریت رہنما عبدالمجید ملک ، جماعت اسلا می کے امیر بلال اشرف، حریت رہنما اشتیاق حمید،الطاف احمد وانی، زاہد صفی، محمد شفیع ڈار اور کینڈا سے آئے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں  کے علاوہ لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی جبکہ جلسے کے دوران ذوہیب زمان نے ’’میں کشمیر ہوں‘‘کا کلام پڑھا جس نے شرکا کے دل موہ لیے۔

حریت کانفرنس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کل جماعتی حریت کانفرنس مسل کشمیر کو  کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل چاہتے ہے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق مسلح جدوجہد اور اپنی جان و مال سمیت ملک کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتی ہے اور کشمیری عوام اپنا یہ ہی حق استعمال کررہی ہے۔ بھارت کشمیری عوام کے خلاف فوج کشی، محاصرے میں قتل عام کی مہم جوئی اور بلاجواز گرفتاری، فوجی بربریت اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے آزادی کی تحریک کو نہیں دبا سکتی جبکہ کشمیر کے حوالے سے چین نے کھل کر حمایت کی ہے جس کے نتیجہ میں روس نے بھی کشمیر موقف پر آواز بلند کی ہے ۔ قابض بھارتی فوج گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے، نوجوانوں کو گرفتار کرنے اور خواتین ،بزرگوں کی مارپیٹ کرنے اور املاک کو تباہ کر کے صرف ہندوانہ دہشتگردی اور وحشیانہ ذہنیت کا اظہار کررہی ہے تاہم بھارت کے اس عمل کی دنیا بھر کی اقوام نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس سے بھارت کا مکرو چہرہ بے نقاب ہوا ہے ۔ کشمیر میں بھارت کی طرف سے حالیہ جابرانہ اقدامات ، ریاستی ڈھانچے میں تبدیلی سمیت تقسیم کو غیر قانونی، غیر آئینی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی اور پاک بھارت باہمی معاہدوں کی تذلیل ہے۔ بھارت کے قابض فوج نے مقبوضہ وادی میں خون کی جو ہولی شروع کررکھی ہے اس کے اختتام کا وقت آنپہنچا ہے ۔ بھارت کے وحشیانہ اقدامات اور کرفیوں کے دوران ہی بھارتی ہندوں کو کشمیر میں بسانے کے عمل اور کشمیر عوام کے آبادی کے تناسب کو بدلنے اور سینکڑوں مندر تعمیر کرنے کی نیت سے زمینوں پر قبضہ کرنے شروع کر دئیے ہیں مگر کشمیری ان کے ناپاک عزائم میں انہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ عوام بیرونی ممالک میں مقیم کشمیری تارکین وطن ، تاجر برادری اور ملازمین کے اتحادو یکجہتی کیساتھ اپنے وطن کی جدوجہد آزادی اور کشمیر پر ڈھائے جانیوالے مظالم سے دنیا کو مسلسل آگاہ رکھنے کی اپیل کرتی ہے۔ اقوام متحدہ سے کشمیر میں امن  فوج، خوارک ،ادوایات اور ڈاکٹروں کے وفود بھیجنے کی اپیل ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -